ٹیکسس کی سرحد پر روتی بچی سے خاشقجی قتل کی تحقیقات تک

انتباہ: کچھ تصاویر آپ کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتی ہیں۔

جان مور کی تصویر جس میں ہونڈورس کی روتی ہوئی بچی یانیلا سانچیز اور ان کی والدہ ساندرا سانچیز کو دیکھا جا سکتا ہے ورلڈ پریس فوٹو مقابلے 2019 کے فاتحین میں سے ایک رہی۔

اس مقابلے میں 4738 فوٹوگرافرز کی 78،000 تصاویر شامل تھیں۔

یہ تصویر اس وقت لی گئی جن ان ماں بیٹی کو امریکی ریاست ٹیکسس میں امریکی سرحدی اہلکار حراست میں لے رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہJohn Moore / Getty Images

یہ تصویر جون 2018 میں کھینچی گئی اور اس کا عنوان ’کرائنگ گرل آن دی بارڈر‘ یعنی سرحد پر روتی ہوئی لڑکی ہے۔

مور گیٹی امیجز کے سینیئر فوٹوگرافر ہیں اور ان کا کہنا ہے ’میرے خیال سے یہ تصویر بہت سے لوگوں کے دل پر جا کر لگی ہے کیونکہ اس سے ایک بڑی کہانی سامنے آتی ہے۔‘

’جب آپ یانیلا کی شکل دیکھتے ہیں، جس کی عمر اب دو سال سے زیادہ ہے، تو آپ کو انسانیت نظر آتی ہے، اتنا لمبا سفر طے کر کے آدھی رات کو سرحد پار کرنے کا ڈر نظر آتا ہے۔‘

جب اس تصویر کو دنیا بھر میں دیکھا گیا تو امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے کہا کہ یانیلا اور اس کی والدہ ان ہزاروں خاندانوں میں سے نہیں تھے جن کو امریکی اہلکاروں نے ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا۔

اس متنازع حرکت پر عوامی ردعمل کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جون کو یہ پالیسی بدل دی۔

فائنل مقابلے میں پانچ اور تصاویر کا انتخاب بھی کیا گیا جو کہ نیچے دیکھی جا سکتی ہیں۔

محمد بادرہ، مشرقی غوطہ میں مبینہ گیس حملے کے شکار کا علاج

،تصویر کا ذریعہMohammed Badra / European Pressphoto Agency

یورپی پریس فوٹو ایجنسی کے محمد بادرہ نے فروری 2018 میں یہ تصویر کھینچی جب شام میں مشرقی غوطہ کے مقام پر ایک مبینہ گیس حملہ ہوا۔

مشرقی غوطہ کے لوگ پانچ سال سے حکومتی فورسز کے محاصرے میں رہ رہے تھے۔

برینٹ سٹرٹن، آکاشنگہ - دی بریو ونز

،تصویر کا ذریعہBrent Stirton, Getty Images

برینٹ سٹرٹن کی تصویر میں 30 سالہ پیٹرونیلاچگمبورا دکھائی دیتی ہیں جو کہ جانوروں کے غیر قانونی شکار کے خلاف کام کرنے والی آکاشنگا نامی تنظیم کی رکن ہیں۔

یہ تنظیم صرف خواتین پر مشتمل ہے۔ اس تصویر میں پیٹرونیلا زمبابوے کے پھنڈنڈو وائلڈ لائف پارک میں خفیہ کارروائی کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

آکاشنگا، جس کا مطلب بہادر ہے، ایک رینجرز کی ٹیم ہے جس کو متبادل تحفظ فورس کے طور پر بنایا گیا ہے جس کا مقصد مقامی آبادی کے خلاف کام کرنے کے بجائے ان کے ساتھ کام کرنا ہے۔

کرس میگراتھ، جمال خاشقجی کی گمشدگی

،تصویر کا ذریعہChris McGrath, Getty Images

سعودی حکمرانوں کے نقاد، صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو استنبول کے سعودی سفارت خانے میں اندر جانے کے بعد غائب ہو گئے۔

کئی ہفتوں تک غلط بیانی کرنے کے بعد، سعودی عرب نے اعلان کیا کہ خاشقجی کو غلطی سے لڑائی کے دوران مار دیا گیا تھا۔

ترک حکام اور سی آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ان کو سعودی خفیہ ایجنٹس نے قتل کیا تھا۔

کرس میگراتھ کی اس تصویر میں ایک شخص 15 اکتوبر کو سعودی تفتیشی ٹیم کی آمد پر میڈیا کو روک رہا ہے۔

کیٹلینا مارٹن چیکو، فارک چائلڈ بئیرنگ بین کے بعد حمل

،تصویر کا ذریعہCatalina Martin-Chico / Panos

کیٹلینا مارٹن چیکو نے یورلادس کی تصویر کھینچی جس میں وہ چھٹی دفعہ حاملہ نظر آتی ہیں۔

یورلادس کی گذشتہ حمل کو ختم کروا دیا گیا جب وہ کولمبیا کے سب سے بڑے باغی گروہ ریولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا (فارک) میں جنگجو تھیں۔

ایسی زندگی میں حاملہ ہونا ناسازگار سمجھا جاتا تھا اور خواتین کو اپنے بچوں کو رشتہ داروں کے ساتھ چھوڑنا پڑتا تھا یا زبردستی اسقاط کروانا پڑتا تھا، جس دعوے سے فارک انکار کرتا ہے۔

فارک اور کولمبین حکومت کے درمیان 2016 میں معاہدہ ہونے کے بعد بہت سی سابقہ خواتین سپاہیوں کے بچے پیدا ہونا شروع ہوئے۔

مارکو گوالازینی، الماجیری لڑکا

،تصویر کا ذریعہMarco Gualazzini / Contrasto

مارکو گوالازینی نے چاڈ میں بول کے مقام پر ایک یتیم لڑکے کی تصویر کھینچی جب وہ ایک دیوار کے سامنے سے گزر رہا تھا جس پر راکٹ اور گرنیڈ لانچرز بنے ہوئے ہیں۔

یہ تصویر چاڈ میں انسانی المیے کو دکھاتی ہے، جو کہ سیاسی اور ماحولیاتی وجوہات سے پیدا ہوا ہے۔

لیک چاڈ افریقہ کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ہے اور اس پر چار کروڑ لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے۔

یہ جھیل موسمی تبدیلی، بڑھتی آبادی اور آبپاشی کی وجہ سے اپنے اصل حجم کے 10 فیصد تک رہ جائے گی۔

سال کی بہترین کہانی کے مقابلے میں پیٹر ٹین ہوپن نے اپنے ’دی مائیگرنٹ کارواں‘ نامی سیریز کے لیے ایوارڈ جیتا۔

،تصویر کا ذریعہPieter Ten Hoopen, Agence Vu/Civilian Act

ہوپن نے اکتوبر اور نومبر 2018 میں مہاجرین کی تصاویر کھینچیں جب وہ ہونڈورس، نکاراگوا، ایل سیلواڈور اور گواتیمالا سے امریکی سرحد تک جا رہے تھے۔

یہ لوگ سیاسی دباؤ، تشدد اور سخت معاشياتی حالات سے فرار ہو رہے تھے۔

اس تصویر میں ایک باپ اور بیٹا پورے دن کے سفر کے بعد آرام کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPieter Ten Hoopen, Agence Vu/Civilian Act

ہوپن نے خاندانوں کو ندی کنارے نہاتے، کپڑے دھوتے اور آرام کرتے ہوئے دکھایا جب میکسکو میں تاپاناتیپک کے قریب ان کا کارواں رکا۔

،تصویر کا ذریعہPieter Ten Hoopen, Agence Vu/Civilian Act

تاپاناتیپک سے نلتیپک کے 50 کلومیٹر راستے میں ایک لڑکی پھول توڑتے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPieter Ten Hoopen, Agence Vu/Civilian Act

اس سال کے مقابلے میں دیگر نامزد کردہ اور جیتنے والی تصاویر یہ ہیں۔

موجودہ حالات، تیسرا انعام: عنایت اسدی، افغان پناہ گزین ایرانی سرحد پار کرنے کے انتظار میں

،تصویر کا ذریعہEnayat Asadi

،تصویر کا کیپشن

ایک افغان پناہ گزین اپنے ساتھی کو ایران کی مشرقی سرحد پار کرنے کا انتظار کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں

قدرت، دوسرا انعام: جیسپر ڈوئسٹ، بوب سے ملیں

،تصویر کا ذریعہJasper Doest

بوب ایک بچائے گئے کیریبین فلیمنگو ہیں جو ڈچ جزیرے کیوراساؤ پر انسانوں کے بیچ رہتے ہیں۔

جب بوب کو واپس جنگل میں چھوڑنے کی کوشش کی گئی تو پتا چلا کہ اسے انسانوں کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ ان کے بغیر یہ زندہ نہ رہ پاتا۔

پورٹریٹس، پہلا انعام: فنبار او رائلی، ڈکار فیشن

،تصویر کا ذریعہFinbarr O'Reilly

،تصویر کا کیپشن

ڈزائنر آدمہ پیرس کے بنائے گئے کپڑے سینگال کے دارالحکومت ڈکار میں ماڈلز

جنرل نیوز، دوسرا اننعام: ڈینئیل وؤلپ، سٹل لائف وؤلکینو

،تصویر کا ذریعہDaniele Volpe

،تصویر کا کیپشن

گواتیمالا کے سین میگویل لوس لوتیس میں آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد ایک گھر راکھ سے بھرا ہوا

ماحولیات، تیسرا انعام: ماریو کروز، باقایات میں زندہ رہنا

،تصویر کا ذریعہMario Cruz

،تصویر کا کیپشن

کوڑا اکٹھا کرنے والا بچا فلپائن کے کچرے سے بھرے ہوئے پاسگ دریا میں ایک میٹرس پر لیٹا ہوا

جیتنے والی تصاویر کو ایمسٹریڈیم میں منعقدہ نمائش میں دیکھا جا سکتا ہے۔