سعودی عرب:’37 افراد کے سر قلم، اکثریت کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا‘

A man walks beside the Saudi flag in Jeddah, Saudi Arabia, 9 December 2015 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 37 افراد کے سر قلم کیے جانے کو سعودی عرب میں، سزائے موت میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا ہے

سعودی عرب میں حکام کے مطابق ایسے 37 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے جن پر انتہاپسندی اور دہشت گردی کے الزامات تھے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کو دارالحکومت ریاض، مکہ، مدینہ اور کئی دوسرے شہروں میں ان افراد کے سر قلم کیے گئے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے افراد میں اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔

سرکاری خبر رساں ادارے پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان افراد کو موت کی سزا دیے جانے کی وجہ ان کا ’انتہاپسندی اور دہشت گردی کے نظریے کو اپنانا اور دہشت گردوں کے ایسے گروہ تشکیل دینا تھا جن کا مقصد سکیورٹی کی صورتحال کو خراب کرنا اور افراتفری و فرقہ واریت پھیلانا تھا۔‘

اسی بارے میں مذید پڑھیے

سعودی عرب میں 47 افراد کے سر قلم

'سعودی عرب میں ایک دن میں درجنوں کو سزائے موت دینے کا منصوبہ'

’پاکستان سزائے موت دینے والے پانچ ممالک میں شامل نہیں‘

دنیا میں سزائے موت کے رجحان میں اضافہ

تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں سے زیادہ تر شیعہ مرد تھے جنھیں ایسے جعلی مقدمات کے ذریعے مجرم ٹھہرایا گیا جو انصاف کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں اور ان کا انحصار تشدد کے بعد زبردستی لیے گئے اعترافِ جرم سے تھا۔

تنظیم کے مطابق جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جسے اس وقت مجرم ٹھہرایا گیا جب اس کی عمر صرف 18 سال تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان 37 افراد کے سر قلم کیے جانے کو سعودی عرب میں، سزائے موت میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق لین مالوف کا کہنا ہے ’بڑے پیمانے پر دی گئی موت کی سزا، سعودی حکام کے انسانی زندگی کی طرف سخت رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا ’یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ کیسے سزائے موت کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر کے سعودی عرب میں موجود شیعہ اقلیت میں اختلاف رکھنے والوں کو کچلا جا رہا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد میں سے 11 مردوں پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا جنھیں ’ایک انتہائی غیر منصفافہ مقدمے کے بعد سزائے موت دی گئی۔‘

اس کے علاوہ 14 افراد کو سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی آبادی والے مشرقی صوبے میں سنہ 2011 اور 2012 کے درمیان ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے جیسے جرائم کی بنا پر سزائے موت دی گئی۔

ایمنسٹی کے مطابق یہ 14 افراد ایک طویل عرصے سے زیرِ حراست تھے اور مقدمات کا سامنا کر رہے تھے جس کے دوران انھوں ںے عدالت کو بتایا تھا کہ جرم کا اعتراف کروانے کے لیے دورانِ تفتیش ان پر تشدد کیا جاتا رہا اور برے سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوری 2016 میں سعودی حکام نے ایک دن میں 47 افراد کے سر قلم کیے تھے جن میں ملک کے مشہور شیعہ عالم شیخ نمر النمر بھی شامل تھے

حقوقِ انسانی کی تنظیم کے مطابق جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں سے ایک عبدالکریم الحوائج ہیں جنھیں 16 برس کی عمر میں گرفتار کیا گیا اور حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے جیسے جرائم کی بنا پر ان کا سر قلم کر دیا گیا۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق، جرم کے وقت 18 سال سے کم عمر افراد کو سزائے موت دینے کی سختی سے ممانعت ہے۔

یہ سعودی عرب میں جنوری 2016 کے بعد ایک دن میں بڑی تعداد میں سزائے موت دینے کا پہلا واقعہ ہے۔ جنوری 2016 میں سعودی حکام نے ایک دن میں 47 افراد کے سر قلم کیے تھے جن میں ملک کے مشہور شیعہ عالم شیخ نمر النمر بھی شامل تھے۔

شیخ نمر النمر کون تھے؟

’عوامیہ میں اب بظاہر امن لیکن مستقبل غیر واضح‘

سعودی عرب میں 32 شیعہ افراد کے خلاف غداری کا مقدمہ

سعودی پریس ایجنسی کے بیان کے مطابق ان میں سے ایک مجرم کا سر قلم کرنے کے بعد اس کی لاش کھمبے سے لٹکائی بھی گئی۔ سعودی عرب میں سزائے موت پر عملدرآمد عموما سر قلم کر کے کیا جاتا ہے اور لاش کھمبے سے اس صورت میں کی جاتی ہے اگر حکام کسی جرم کو انتہائی سنجیدہ سمجھیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، سنہ 2018 میں ایک شخص کا سر قلم کر نے کے بعد اسے کی لاش ایسے لٹکائی گئی تھی۔ اس شخص پر ایک خاتون کو چھری مار کر ہلاک کرنے کا الزام تھا اسے ایک اور آدمی کے قتل اور ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش جیسے الزامات کا بھی سامنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amnesty International

خیال رہے کہ سعودی حکومت سزائے موت پانے والے افراد سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتی لیکن سرکاری ذرائع ابلاغ اس پر اکثر رپورٹ کرتا رہتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب میں اس سال کم از کم 104 افراد کا سر قلم کیا گیا جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد 149 تھی۔

حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت دینے والے ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سعودی عرب کا شمار سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں