پوتن اور کم جونگ ان کا تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور روسی صدر ولادمیر پوتن نے پہلی سربراہی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کا عزم کیا ہے۔

دونوں سربراہان کی ملاقات روس کے انتہائی مشرقی ساحلی شہر ولادیوستوک کے رسکی جزیرے پر ہوئی جہاں دونوں نے مصافحہ کے بعد یہ اعلان کیا۔

روس کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہوں میں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے بارے میں امور زیر بحث آئیں گے تاہم شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ امریکہ سے مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت نہ ہونے کے بعد روس سے مدد مانگنے کی توقع بھی رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا: مذاکرات کے لیے امریکہ ’رویہ درست‘ کرے

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات

کم جونگ ان سے ملاقات امن کا واحد موقع ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

کم جونگ ان نے الیکشن کیوں نہیں لڑا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

روسی اور شمالی کوریا کے سربراہوں نے دونوں ممالک میں تعلقات کی پرانی تاریخ کا حوالہ دیا اور صدر پوتن کا کہنا تھا کہ وہ کوریائی کشیدگی میں کمی لانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔

صدر پوتن کا شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ آپ کے آج کے دورہ روس سے ہمیں یہ سمجھنے میں بہتر مدد ملے گی کہ ہم جزیرہ نما کوریا میں کشیدہ صورتحال کو حل کرنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں اور روس اس وقت اس خطے میں جاری مثبت اقدامات میں کیا مدد فراہم کر سکتا ہے۔‘

اس موقع پر شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ امید کرتے ہیں کہ آج کی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان موجود دوستی اور تعلقات کی تاریخ کو مزید مستحکم اور جامع بنانے میں بہت کارآمد رہی ہے۔‘

بدھ کو کم جونگ ان کے روس پہنچنے پر روسی حکام کی جانب سے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

کم جونگ کا استقبال روایتی براس بینڈ نے دھنیں پیش کر کے کیا اور ان کی کار کو باڈی گارڈز نے چاروں جانب سے گھیرے میں لے رکھا تھا اور ان کے روانہ ہوتے وقت گارڈز کار کے ساتھ ساتھ دوڑ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کا انتہائی مشرقی ساحلی رسکی جزیرہ جہاں دونوں سربراہان کی ملاقات ہوئی

سربراہی ملاقات میں کیا ہوا؟

روس کے صدارتی ترجمان ڈمٹری پسکیو کے مطابق روس سمجھتا ہے کہ شمالی کوریا کے مسئلے پر چھ فریقی مذاکرات جو اس وقت تعطل کا شکار ہیں وہی کوریا کے جزیرہ نما خطے میں جوہری ہتھیاروں کے مسئلے کا واحد مؤثر حل ہیں۔

ان چھ فریقی مذاکرات کا آغاز سنہ 2003 میں ہوا تھا جس میں شمالی اور جنوبی کوریا سمیت چین، جاپان، روس اور امریکہ شامل تھے۔

بدھ کو صدرارتی ترجمان پیسکیو نے رپوٹرز کو بتایا کہ ’اس وقت اس کے علاوہ کوئی مؤثر عالمی طریقہ کار نہیں ہے۔ تاہم دوسری جانب دیگر ممالک کی جانب سے جاری کوششیوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت اس وقت تک کی جائے جب تک کہ ان کا اصل مقصد دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں جوہری اسحلہ کو تخفیف کرنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا نے ہنوئی سربراہی ملاقات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو قرار دیا تھا۔

دونوں ممالک کیا چاہتے ہیں؟

بی بی سی کی لورا بیکر کا کہنا ہے کہ فروری میں امریکہ کہ ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کم جونگ ان کے اس دورے کو بڑے پیمانے پر شمالی کوریا کے لیے ایک ایسے اہم موقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے شمالی کوریا یہ ثابت کر سکے کہ اس کے پاس مضبوط اتحادی ہیں۔

شمالی کوریا نے ہنوئی سربراہی ملاقات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو قرار دیا تھا۔

اس سے قبل رواں ماہ شمالی کوریا نے مائیک پومپیو پر ’فضول بات کرنے‘ کا الزام لگاتے ہوئے جوہری مذاکرات سے ہٹانے اور کسی ’ذمہ دار‘ کو ان کی جگہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ سربراہی ملاقات شمالی کوریا کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ ثابت کرے کہ اس کا معاشی مستقبل صرف امریکہ پر منحصر نہیں ہے۔ اور اس ملاقات میں کم جونگ شمالی کوریا پر عائد پابندیوں پر نرمی کے لیے روس پر زور دینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سربراہی ملاقات سے روس کے پاس بھی جزیرہ نما کوریا میں اپنے آپ کو ایک اہم ملک ثابت کرنے کا موقع ہے۔

روسی صدر پوتن بھی کچھ عرصے سے شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کے خواہشمند تھے تاہم ٹرمپ جونگ ملاقاتوں کے باعث روس کچھ حد تک پس پشت ہو گیا تھا۔ روس بھی چین اور امریکہ کی طرح شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے خوش نہیں ہے۔

شمالی کوریا اور روس کتنے قریب ہیں؟

سرد جنگ کے دوران اس وقت کے سویت یونین اور کیمونسٹ شمالی کوریا کے درمیان نظریاتی اور سٹرٹیجک وجوہات کے باعث قریبی عسکری اور تجارتی تعلقات رہے ہیں۔

سنہ 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے اور روس میں کمیونیزم کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا کے تجارتی تعلقات میں کمی آئی تھی اور اس کا انحصار ایک اہم اتحادی کے طور پر چین کی جانب ہو گیا تھا۔

روس کی صدر پوتن کے دور حکومت میں معاشی طور پر بحالی کے بعد انھوں نے سنہ 2014 میں شمالی کوریا پر سویت دور کے قرضے کو جذبہ خیر سگالی کے تحت معاف کر دیا تھا۔

حالانکہ یہ بات قابل بحث ہے کہ آخر روس آج شمالی کوریا کے کتنا قریب ہے لیکن کمیونسٹ ریاست فی الحال روس کو اپنے دشمنوں میں نہیں دیکھتی ہے۔

اسی بارے میں