پانچ سال بعد دولت اسلامیہ کے رہنما البغدادی کی ویڈیو منظرعام پر

A still from the video released by the Islamic State تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ برس بعد بغدادی کی کوئی ویڈیو سامنے آئی ہے

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما قرار دیے جانے والے ابوبکر البغدادی کی پانچ سال بعد ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ اپنی ریاست چھن جانے کا بدلہ لینے کا کہہ رہے ہیں۔

ابوبکر البغدادی کو سنہ 2014 کے بعد سے دیکھا نہیں گیا جب انھوں نے شام اور عراق کے علاقوں پر مشتمل موصل سے خلافت کا اعلان کیا تھا۔

اس تازہ ویڈیو میں وہ اپنے آخری گڑھ باغوز میں شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اپریل کی ہے۔

یہ فوٹیج گروپ کے الفرقان میڈیا گروپ پر شائع کی گئی ہے۔

یہ بھر پڑھیے

’موصل سے پسپائی اختیار نہ کریں‘

دولتِ اسلامیہ کے سربراہ بغدادی کی ’نئی آڈیو جاری‘

ممکن ہے ابوبکر البغدادی ابھی زندہ ہوں: امریکی جنرل

دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

انھوں نے کہا کیا؟

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بغدادی کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ سری لنکا میں ایسٹر کے روز ہونے والے حملے باغوز میں ہونے والی ان کی شکست کا بدلہ تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ برکینا فاسو اور مالی میں ان کے شدت پسند تنظیموں سے اتحاد ہو چکا ہے اس کے علاوہ انھوں نے سوڈان اور الجیریا میں ہونے والے مظاہروں کی بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ظالموں‘ کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے جہاد۔۔ یاد رہے کہ ان دونوں ممالک میں طویل عرصے میں موجود حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کیا گیا ہے۔

اگرچہ ویڈیو کے آخر میں بغدادی کی تصویر منظر سے غائب ہو گئی اور صرف آواز سنائی دی جس میں وہ سری لنکا کے حملوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ حصہ باقی کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد اس میں شامل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بغدادی کو سنہ 2014 کے دیکھا نہیں گیا تھا

ابو بکر البغدادی ایک عراقی ہیں جن کا اصلی نام ابراہیم اوواد ابراہیم البدری ہے۔ ان کی آواز آخری مرتبہ اگست میں سنائی دی گئی تھی۔

بی بی سی کے مشرق وسطی کے نامہ نگار مارٹن پیشنز کے مطابق اس وقت وہ اپنی گروہ کی شکست سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن اس تازہ 18 منٹ کی ویڈیو میں انھوں نے شکست کے بارے میں بات کی۔

ان کا کہنا تھا ’باغوز کی جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن اس جنگ کے بعد بہت سے جنگیں آئی گی۔‘

اسی بارے میں