سی آئی اے کی پہلی انسٹاگرام پوسٹ کا راز

سی آئی اے انسٹاگرام امریکہ سوشل میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ CIA
Image caption سی آئی اے کی انسٹاگرام پر پہلی پوسٹ

امریکہ کے سُراغ رسانی کے ادارے سینٹرل انٹیلیجینس ایجینسی (سی آئی اے) نے انسٹاگرام پر پہلی پوسٹ کی تصویر کے ذریعے اپنا بھانڈا پھوڑا ہے کسی بھی جاسوسی کا شوق رکھنے والے کو تصویر میں معمہ حل کرنے کا مشن دیا ہے۔

اپنی خفیہ سرگرمیوں، صوابدیدی اختیارات اور جاسوسی کے نت نئے طریقوں کے حوالے سے پہچانی جانے والی امریکی انٹیلیجینس سروس نے سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پر اپنا اکاؤنٹ بنا کر اپنے ایک طنز کا مظاہرہ کیا ہے۔

انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ میں اپنے تعارف میں سی آئی اے نے لکھا ہے کہ ’ہم اپنی قوم کی پہلی دفاعی سرحد ہیں‘ اور اس طرح کا کام کرنے والی تنظیم کی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ پہلی پوسٹ ہے، جس میں ہلکا پھلکا مزاحیہ انداز اپنایا گیا ہے۔ اس میں ایک ڈیسک کی تصویر ہے جس پر مختلف اشیا ایک بامعنی انداز میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان اشیا میں گھنگھریالے بالوں والی وِگ سے لے کر غیر ملکی کرنسی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

سی آئی اے کی پہلی ’خاتون سربراہ‘ کون ہیں؟

’چین نے سی آئی اے کے مخبر ہلاک کیے‘: نیویارک ٹائمز

سی آئی اے کی لاکھوں خفیہ دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری

’صدر ٹرمپ کے مشیر کی جاسوسی کی گئی‘

امریکی ریاست ورجینیا میں لینگلے شہر میں سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر میں لی گئی اس تصویر میں یہ سب اشیا ایک خفیہ رمز کی صورت میں ایک پیغام دے رہی ہیں جس پر یہ سُرخی لکھی گئی ہے: ’میں اپنی چھوٹی آنکھ سے جاسوسی کرتا ہوں۔‘

محسو س یہ ہو گا کہ اس میں چیلینج یہ ہے کہ اس تصویر میں ان اشیا کی نشاندہی کی جائے۔ اور اس کے لیے سی آئی اے کے ایک ترجمان نے ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس کو بتایا کہ نشاندہی کرنے کا ایک اشارہ یہ ہے کہ ان میں سے کئی ایک اشیا سی آئی اے کے موجودہ اہلکاروں کی ہیں۔

آپ ان میں کتنی اشیا کی نشاندہی کرسکتے ہیں؟

انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کھولنے کا مقصد یہ ہے کہ سی آئی اے نوجوان نسل میں سے اپنے لیے افسران، ایجینٹس اور تجزیہ کار تلاش کرکے بھرتی کرے۔

انسٹاگرام کا استعمال کرنے والوں کی اکثریت تیس برس سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔

سی آئی اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’انسٹاگرام پر آنے کا مطلب یہ ہے کہ سی آئی اے اپنی کہانیاں بتا رہی ہے اور باصلاحیت امریکی نوجوانوں سے کہہ رہی کہ وہ یہاں آکر ملک کی خدمت کریں۔‘

’اس اکاؤنٹ کے ذریعے ہم ایجنسی کے اندر جھانکنے کا موقع دیں گے، لیکن ہم کسی خفیہ جگہ کی سیلفی بنانے کا وعدہ نہیں کرسکتے ہیں۔‘

سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہسپل نے گزشتہ ہفتے اس اکاؤنٹ کے شروع کیے جانے کا اُس وقت اعلان کیا جب وہ الباما کی آبرن یونیورسٹی کے ایک سوال و جواب کے سیشن میں موجود تھیں۔

اس تصویر میں اشیا کی تفصیل

تصویر کے کاپی رائٹ CIA
Image caption پہلی پوسٹ کی تصویر جن میں کچھ اشیا سی آئی اے کے اہلکاروں کی ہیں

یہ ایک نا مکمل فہرست ہے:

  1. ایک پلانٹ، جو سی آئی اے کے بیرونی ممالک میں مختلف انٹیلیجینس ’پلانٹس‘ کا اشارہ ہے۔
  2. ایک گھڑی جس کی سوئیاں 8 بج کر 46 منٹ پر رُک گئی ہیں جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا شمالی ٹاور پر گیارہ ستمبر سنہ 2001 کو حملہ ہوا تھا۔
  3. چین کا نقشہ جو کہ ایشیا میں امریکہ کا ایک اہم حریف ہے۔
  4. ایک سنہری اُلّو جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ یونانی تہذیب کی ایک دیوی ایتھنا کو صورت ہے۔ ایتھنا عقل کی دیوی تھی۔ یہ سی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر اینڈی میکریڈِس کا تحفہ ہے۔
  5. تصویر میں جو ایک گول سا تعویز نظر آرہا ہے، شیطانی آنکھ لگتی ہے ۔ شاید یہ ان خطرات کی نشاندہی کر رہی ہے جو سی آئئ اے کے ایجینٹوں کو درپیش رہتے ہیں۔
  6. یہ ایک فن پارہ ہے جس میں سی آئی اے کے ایک افسر ٹونی مینڈیز کو دکھایا گیا ہے، جو اُس فلم ساز کا کردار کا انداز بنائے ہوئے ہیں جس نے ایران میں قید امریکی یرغمالیوں کو سنہ 1980 میں رہا کریا تھا۔
  7. کف لنکس کا ایک جوڑا جو مبینہ طور پر سی آئی اے کے ایجینٹس پہنتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو جان سکیں۔
  8. ایک سُرمئی رنگ کی وِگ جو شاید سی آئی اے کے خفیہ ایجینٹ پہنتا ہے۔
  9. ایک شناختی کارڈ جس پر مس ہسپل کی تصویر نظر آرہی ہے۔
  10. ایک بہت خفیہ قسم کا پھولا ہوا بیگ جو سی آئی اے کے ایجینٹس اپنی سرگرمیوں کے ثبوت مٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہسپل نے سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کے بارے میں بات کی ہے

مس جینا ہسپل نے کہا کہ یہ اکاؤنٹ اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح انٹیلیجینس سروسز اپنے آپ کو ڈیجیٹل ورلڈ سے ہم آہنگ کررہی ہیں۔

تاہم سوشل میڈیا سی آئی اے کے لیےکوئی اجنبی چیز نہیں ہے۔ اس کے سنہ 2014 سے ٹویٹر پر اور فیس بُک پر اکاؤنٹس ہیں۔ اس کی پہلی ٹویٹ کچھ اس طرح تھی: ’ہم نہ ہی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ ہی تردید کہ یہ ہمارا اکاؤنٹ ہے۔‘ یہ تقریباً وہی طنزیہ انداز ہے جو اس ادارے کی ہیبت ناک شہرت کو پیش کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں