جیکلین سبوریڈو جو نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے خلاف ایک علامت بن گئی تھیں

تصویر کے کاپی رائٹ TABC
Image caption جیکلین سبوریدو حادثے سے پہلے اور حادثے کے بعد

1999 میں وینزویلا کی ایک لڑکی پڑھائی کے لیے امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر آسٹن گئی لیکن ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کار کے ایک حادثے کے بعد خوفناک زخموں نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔

جیکلین سبوریدو جو شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف تحریک کی علامت بن گئی تھیں چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

کار حادثے میں آنے والے زخموں نے ان کی زندگی بدل دی تھی۔

ٹیکسس کی ایک ایسی تنظیم نے ان کی موت کی خبر کی تصدیق کی تھی جو امریکہ میں شراب کی پیداوار، فروخت اور اس کے استعمال کو کنٹرول کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نوجوانوں کی بدلتی عادتیں: ’شراب کبھی چکھی تک نہیں‘

مردوں کی نسبت شراب عورتوں کے لیے زیادہ نقصان دہ

آسٹن میں اس حادثے کے بعد سے جیکلین اس تنظیم سے وابستہ تھیں۔

ٹیکسس ٹریفک سکیورٹی ڈوثرن کے سربراہ ٹیری پینس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیکلین ایک بہتیرن انسان تھیں اور دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنیں۔

جس وقت یہ حادثہ ہوا جیکلین محض بیس سال کی تھیں۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں اور حادثے سے ایک ماہ پہلے ہی امریکہ انگلش پڑھنےآئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TABC
Image caption جیکلین انگلش پڑھنے امریکہ گئی تھیں

اس روز جیکلین اپنے دوست کی گاڑی میں ایک پارٹی سے واپس آ رہی تھیں کہ سامنے سے ایک بڑے ٹرک نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری، ٹرک اٹھارہ سال کا ایک نوجوان چلا رہا تھا جو نشے میں تھا۔

جیکلین کے ساتھ گاڑی میں سوار چار میں سے دو افرا موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ دو گاڑی سے کود پڑے جبکہ جیکلین گاڑی میں ہی پھنس گئیں جس نے آگ پکڑ لی تھی۔

جیکلین ساٹھ فیصد سے زیادہ جھلس گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TABC
Image caption جیکلین اپنے والد امادیو کے ساتھ

اٹھارہ سالہ ٹرک ڈرائیور سٹیفی کو سزا ہوئی اور 2008 میں وہ سزا پوری کر کے سات سال بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔ جبکہ جیکلین کی سزا بہت سخت اور طویل ہوگئی۔

حادثے میں جیکلین کی انگلیاں، ناک، کان، بال اور آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور حادثے کے بعد انہیں سو سے زیادہ آپریشنز کروانے پڑے اور ان کا میڈیکل بل پانچ ملین سے زیادہ بنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TABC
Image caption جیکلین حادثے کے بعد شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف مہم میں شریک ہو گئی تھیں

ٹیکسس ٹریفک سکیورٹی ڈوثرن کے سربراہ ٹیری پینس کہتے ہیں کہ اس خوفناک حادثے کے بعد طبیعت سنبھلنے کے ساتھ ساتھ جیکلین نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے خلاف مہم چلانی شروع کر دی۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ جو ان کے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ ہو۔

2001 میں جیکلین نے ٹی وی کے لیے تیس سیکنڈ کا ایک اشتہار کیا جس کے بعد وہ امریکہ اور اس کے باہر بھی مشہور ہو گئیں۔

جیکلین کو دنیا بھر سے لوگوں کے خطوط ملنے لگے اور لوگوں نے ان کی ہمت اور بہادری کی تعریف کی۔

انہوں نے سٹیفی کے ساتھ بھی کئی طرح کی مہمات میں حصہ لیا جن سے وہ ملی تھیں اور انہیں معاف بھی کر دیا تھا۔

جیکلین نے انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو دیے اور مشہور اوپرا ونفری ٹاک شو میں بھی شرکت کی۔

جیکلین نے ایک بار کہا تھا ’مجھے کیمرے کے سامنے بغیر ناک، کان اور بالوں کے آنا پڑتا ہے لیکن میں ان حالات میں بھی ہزار بار کیمرے کے سامنے آنے کے لیے تیار ہوں تاکہ میں دوسروں کی مدد کرسکوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Texas Department of Transportation
Image caption ریگنالڈ سٹیفی کو سات سال کی سزا ہوئی تھی اور جیکلین نے بھی انھیں معاف کر دیا تھا

اپنی موت کے وقت جیکلین گواٹے مالا میں رہ رہی تھیں۔

ان کے کزن نے بتایا کہ انہیں کینسر ہو گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جیکلین کی خواہش تھی کہ انہیں وینزویلہ میں ان کی ماں کے نزدیک دفنایا جائے جن کی خود کی موت بھی کینسر سے ہوئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں