سری لنکا کے علاوہ دنیا کے کن ممالک میں برقعے پر پابندی ہے؟

نقاب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سری لنکا میں ایسٹر سنڈے کو ہونے والے خودکش حملوں کے بعد عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس حملے میں تقریبا 250 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سری لنکا کے صدر میتھریپال سریسینا کے دفتر نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کی یقین دہانی کے لیے ایسے کسی بھی لباس پر پابندی ہے جو 'چہرے کی شناخت میں رکاوٹ' پیدا کرے۔

اس پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ عوام کی حفاظت کے لیے اہم ہے اور اس سے نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ باقی لوگوں کے میل جول کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ مسلم خواتین کے خلاف تعصب ہے کیونکہ بعض خواتین کے لیے ایسا لباس مذہب کا لازمی جزو ہے۔

مگر سری لنکا کے علاوہ دنیا میں کہاں کہاں اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے؟

یورپ

فرانس پہلا یورپی ملک ہے جہاں سنہ 2011 میں برقعے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

چیلنج کیے جانے کے باوجود اس پابندی کو انسانی حقوق کے یورپی کورٹ نے جولائی سنہ 2014 میں برقرار رکھا۔

ڈنمارک میں جب اگست سنہ 2018 میں برقعے پر پابندی عائد کی گئی تو اس کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ وہاں کے قانون کے مطابق جو کوئی بھی ایسا لباس پہنتا ہے جس سے پورا چہرہ چھپ جائے تو اسے ایک ہزار کرونے یعنی 150 ڈالر سے زیادہ (157) کا جرمانہ ہو گا اور اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو جرمانہ دس گنا زیادہ ہو گا۔

نیدرلینڈ کی پارلیمان نے جون سنہ 2018 میں عوامی مقامات جیسے سکول، ہسپتال اور بپلک ٹرانسپورٹ میں ایسے لباس پہننے پر پابندی عائد کر دی جو پوری طرح سے چہرے کو ڈھانپ دے۔ اگر آپ سڑک پر ہیں تو اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکن حملے: ملک بھر میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد

سکیورٹی وجوہات پر مراکش میں برقعے پر ’پابندی‘

کینیڈا: حجاب مذہبی علامت ہے لیکن صلیب نہیں

’یورپی کمپنیاں دفاتر میں حجاب پر پابندی لگا سکتی ہیں‘

جرمنی میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے نقاب غیر قانونی ہے۔ جرمنی کے ایوان زیریں نے ججوں، سرکاری ملازمین اور فوجیوں کے لیے جزوی پابندی کی منظوری دے رکھی ہے۔ جو خواتین نقاب کرتی ہیں انھیں بھی شناخت کے لیے اپنے چہرے سے نقاب ہٹانا ضروری ہے۔

آسٹریا میں سکول اور عدالت میں برقعے پر پابندی اکتوبر سنہ 2017 میں عائد کی گئی تھی۔

بیلجیئم میں برقعے پر جولائی سنہ 2011 میں پابندی عائد کرنے کا قانون منظور ہوا۔ اس کے تحت پارک اور سڑک جیسے عوامی مقامات پر ایسے ہر لباس پر پابندی عائد کی گئی جس سے پہننے والے کی شناخت میں دشواری ہو۔

ناروے میں جون سنہ 2018 میں ایک بل منظور ہوا جس کے تحت تعلیمی ادارے میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

بلغاریہ کی پارلیمان نے سنہ 2016 میں ایک بل منظور کیا جس کے تحت ان خواتین پر جرمانے اور سرکاری فوائد سے محروم کیے جانے کی بات کہی گئی جو عوامی مقامات پر برقعہ پہنیں۔

لگزمبرگ میں بھی ہسپتال، عدالت، اور سرکاری عمارتوں میں برقعے پر پابندی ہے۔

بعض یورپی ممالک میں مخصوص شہروں اور علاقوں میں پابندی عائد ہے۔

اٹلی بھی اس میں شامل ہے جہاں بہت سے شہروں میں نقاب یا برقعے پر پابندی عائد ہے۔ ان شہروں میں نوارا بھی شامل ہے جس کا انتظام و انصرام تارکین وطن مخالف ناردرن ليگ کے ہاتھوں میں ہے اور یہاں پابندی سنہ 2010 میں عائد کی گئی تھی۔

سپین کے شہر بارسلونا میں مخصوص مقامات میں برقعے پر سنہ 2010 میں پابندی لگائی گئی تھی اور کوئی میونسپل دفاتر، سرکاری بازار اور لائبریریوں میں برقعہ نہیں پہن سکتا۔

سوئٹزرلینڈ کے بعض علاقوں میں بھی برقعے پر پابندی ہے۔

افریقہ

چاڈ، گبون اور کیمرون کے شمالی علاقوں، نائجر کے ڈیفا علاقے اور کانگو جمہوریہ میں برقعے پر سنہ 2015 کے حملوں کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان حملوں میں چند برقع پوش خواتین نے علاقے میں کئی جگہ خودکش حملے کیے تھے۔

الجیریا میں سرکاری ملازمین پر نرقعہ پہننے پر اکتوبر سنہ 2018 سے پابندی ‏عائد ہے۔

چین

چین کے سنکیانگ علاقے میں عوامی مقامات پر برقعہ یا نقاب پہننا یا غیر معمولی طور پر لمبی ڈاڑھی رکھنے پر پابندی ہے۔

سنکیانگ اویغور مسلمانوں کا آبائی علاقہ ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ وہاں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں