سابق سی آئی اے اہلکار نے چین کے لیے جاسوسی کی

چین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیلی رنگ کی ٹائی لگائے ہوئے سابق سی آئی اے اہلکار جیری شنگ لی ہیں

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سابق سی آئی اے کے ایک ایجنٹ نے چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کا تعلق امریکی جاسوس نیٹ ورک کے خاتمے سے ہے۔

52 سالہ جیری چن سنگ لی نے سنہ 2007 میں سی آئی اے کو چھوڑ دیا تھا اور زندگی گزارنے کے لیے ہانگ کانگ چلے آئے تھے جہاں انھیں چین کے ایجنٹوں نے بھرتی کیا تھا۔

اس مقدمے میں حکومتی وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی شہریت کے حامل اس ایجنٹ کو امریکہ کی خفیہ اثاثوں کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے رقم ادا کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے!

چینی انجینئیر امریکہ میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار

چین کے لیے جاسوسی کا الزام، امریکی شخص گرفتار

انڈین سفارتخانے کے آٹھ اہلکار و ملازم جاسوسی میں ملوث

فوج کے دو افسر جاسوسی کے الزام میں گرفتار

اسرائیلی وزیر کا ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا اعتراف

اس واقعے نے چین کو سنہ 2010 سے 2012 کے درمیان خبریوں کے ایک نیٹ ورک کو توڑنے میں مدد فراہم کی۔

اور اس عرصہ کے دوران تقریباً 20 مخبروں کو قید یا قتل کیا گیا تھا جو کہ حالیہ برسوں میں امریکہ کی انٹیلیجنس کی بڑی ناکامی قرار دیا جاتا ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز کا کہنا تھا کہ شنگ لی کا مقدمہ تیسرا تھا جو امریکی ایجنٹوں اور چین میں ایک سال سے کم عرصے میں شامل تھا۔

انھوں نے کہا ’ان مقدمات میں سے ہر ایک مقدمہ ملک اور ساتھیوں کے ساتھ افسوسناک دھوکا ہے۔‘

شنگ لی نے کیا کیا؟

امریکی محکمہ انصاف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کے سابق اہلکار شنگ لی، جنھوں نے سنہ 1994 سے سنہ2007 کے درمیان سی آئی اے کے لیے کام کیا، نے بدھ کو ورجینیا کی ایک عدالت میں غیر ملکی حکومت کی مدد کے لیے قومی دفاعی معلومات فراہم کرنے کے سازش کی جرم کا اعتراف کیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ شنگ لی کا چینی خفیہ محکمہ کے ایجنٹس سے سنہ 2010 میں رابطہ ہوا تھا۔ انھوں نے ان کو متعلقہ خفیہ معلومات دینے کی عوض جان کی حفاظت اور رقم کی پیشکش کی تھی۔ سنہ 2010 سے سنہ 2013 کے درمیان شنگ لی کے ہانگ کانگ کے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں امریکی ڈالر جمع کروائے گئے تھے۔

مسٹر لی نے ایک دستاویز تیار کی جس میں سی آئی اے کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات شامل تھیں، بشمول ان مقامات کے جہاں پر امریکی ایجنٹوں کو مقرر کیا جائے گا۔

سنہ 2012 میں امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے شنگ لی کے نام پر بک ہوائی کے ایک ہوٹل کی تلاشی لی تھی جہاں سے انھیں ایک فلیش ڈرائیو ملی تھی۔ تحقیق کاروں کو اس فلیش ڈرائیو کے غیرمنسوب کردہ حصہ سے ایک دستاویز ملی تھا جس سے یہ لگتا ہے کہ اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیجنگ میں امریکی سفارت خانہ

تلاشی سے یہ بھی علم ہوا کہ شنگ لی کے پاس ایک ڈے پلانر اور ایڈریس بک تھی جس میں سی آئی اے کے ایجنٹوں، ان کی حقیقی شناخت، آپریشنل میٹنگ کے مقامات اور فون نمبرز اور خفیہ سہولیات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھی۔

سنہ 2012 میں سی آئی اے افسران کی طرف سے شنگ لی سے پوچھ گچھ کی گئی تھی جس کے دوران انھوں نے بتایا تھا کہ انھوں نے چینی انٹیلیجنس افسر سے ملاقات کی لیکن اس حقیقت کو چھپایا تھا کہ ان کو چین کے لیے خفیہ کاموں کے لیے مقرر کیا ہے.

سنہ 2013 میں انھوں نے سب سے پہلے یو ایس بی ڈرائیو میں دستاویز کے بارے میں انکار کیا تھا اور پھر اعتراف کیا کہ انھوں نے اسے بنایا تھا مگر اس دستاویز کو چین کے ایجنٹوں کو کبھی نہیں دیا۔

شنگ لی کو نیویارک کے جے ایف کینیڈی ہوائی اڈے سے جنوری 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا. انھیں اگست میں سزا دی جائے گی۔

چین میں سی آئی اے کی کارروائیوں کی اہم تاریخیں

  • سنہ 2010: امریکہ نے اندرونی ذرائع سے چین کی حکومت اور بیورکریسی کے بارے میں معلومات اکھٹی کی تھی۔
  • سنہ 2011: امریکہ کے چین میں موجود مخبر غائب ہونا شروع ہوئے تھے اور یہ واضح نہیں تھا کہ سی آئی اے پر قبضہ کر لیا گیا ہے یا کسی بھیدی نے خفیہ ایجنٹوں کی نشاندہی میں چینی حکام کی مدد کی تھی۔
  • سنہ 2012: ایف بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
  • مئی 2014: پانچ چینی فوج کے افسران پر امریکی کمپنیوں کے تجارتی راز اور اندرونی دستاویزات چوری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اسی ماہ میں بعد میں چین کا کہنا تھا کہ یہ امریکی جاسوسوں کا بنیادی ہدف تھا۔
  • سنہ 2015: بیجنگ میں امریکی سفارت خانے سے سرکاری کمپیوٹرز سے چوری ہونے والے اعداد و شمار کے باعث ملک میں خفیہ ایجنٹوں کو بے نقاب ہونے کے خطرے کے پیش نظر سی آئی اے نے عملے کو واپس بلا لیا تھا۔
  • اپریل 2017: چین نے غیر ملکی جاسوسوں کے متعلق معلومات دینے پر بھاری نقد انعامات کی پیشکش کی تھی۔
  • مئی 2017: چار سابق سی آئی اے حکام نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سنہ 2010 اور 2012 کے درمیان 20 سی آئی اے کے مخبروں چینی حکام کی جانب سے قتل یا قید کیا گیا تھا۔
  • جون 2017: سابق امریکی سفارتی افسر کیون مالوری کو ایک چینی ایجنٹ کو اعلیٰ خفیہ دستاویزات دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
  • جنوری 2018: سابق سی آئی اے اہلکار جیری چن شنگ لی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں