فیس بک کا سیلز بڑھانے کے لیے ’سٹارز‘ پر انحصار

فیس بک صارفین بکری سیل تصویر کے کاپی رائٹ Georgie Clarke
Image caption انسٹاگرام پر فعال گورجی کلارک کہتی ہیں کہ کسی پراڈکٹ کی صرف توثیق سے صارفین کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔

عنقریب انسٹاگرام پر فالوؤرز کے جوق در جوق والی نامور شخصیات مخلتف کمپنیوں کی مصنوعات کی سیل بڑھانے کے لیے ان کے ایپس کے ذریعے ان کی توثیق کریں گی۔

فیس بک نے جو کہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا بھی مالک ہے، کہا ہے کہ اس ہفتے سے کسی بھی کمپنی کی سیل بڑھانے کا انحصار اس کمپنی کے اشتہارات کے اپنے مواد کی تخلیق پر ہو گا۔

نامور اور معروف شخصیات کا سیل بڑھانے کے لیے استعمال کوئی نئی روایت نہیں ہے۔ شاہی خاندان کے لیے کام کرنے والی شخصیات کا اس مقصد کے لیے استعمال صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔

صارفیں کے حقوق کے تحفظ کے قوانین کے آنے سے پہلے عام صارف یہ سمجھتا تھا کہ شاہی خاندان کے لیے کام کرنے والی شخصیت کی پراڈکٹ یقیناً معیاری ہو گی۔

اگر کوئی ایسی شخصیت کسی پراڈکٹ کی توثیق کر دیتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ یہ پراڈکٹ بادشاہ کے لیے بھی قابلِ استعمال ہو گی۔

لیکن اب لوگ سوال کر رہے ہیں کہ انھیں کسی پراڈکٹ کے استعمال کی ترغیب وہ لوگ کر رہے ہیں جن کی صلاحیت صرف یہ ہے کہ وہ مشہور و معروف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ چارلس شاہی انداز میں کچھ اشیا کے فروغ کے لیے اپنی نامور حیثیت کو استعمال کرتے ہیں۔

سماجی علوم کے ماہر ڈاکٹر گرنٹ میکریکن کہتے ہیں کہ ’بہترین اشتہارات کی وجہ سے ان کی اپنی ایک نئی ثقافت وجود میں آرہی ہے۔‘ گرنٹ میکریکن ثقافت اور تجارت کے موضوعات پر نیٹ فلکس اور فورڈ جیسی کمپنیوں کے لیے مشاورت کا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فیس بک: مارک زکربرگ کی جانب سے نئی تبدیلیوں کا اعلان

’فیس بک پر اب خبریں کم اور آپس کی باتیں زیادہ‘

’فیس بک صارفین کی گفتگو نہیں سنتا‘

فیس بک کے پنجے کہاں کہاں

ان کا کہنا ہے کہ بدترین بات لوگوں کو تضحیک کے ذریعے ترغیب دینا ہے۔

میلکم گلیڈویل جو کہ ایک کتاب ’آؤٹ لیئر‘ کے مصنف ہیں کہتے ہیں کہ کسی موضوع کا ماہر بننے کے لیے دس ہزار گھنٹوں کی محنت و مشقت لگتی ہے۔ ڈاکٹر میکریکن کے مطابق، اگر اس اصول کو ثقافت کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے تو جب تک ہم دس ہزار گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں تو ہم اس وقت کم سن ہوتے ہیں۔

لیکن ہم بہت ہی کم عرصے میں ثقافتی امور کے ماہر بن جاتے ہیں۔

اور سوشل میڈیا پر ذہین لوگوں کے ہجوم میں اس کا مطلب سہل پسند مارکیٹنگ بنتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بے وقوف لوگوں کے ذہین لوگوں کے کہنے پر خریداری کرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

ڈاکٹر میکریکن کہتے ہیں کہ ’یہ ذہین ہیں ٹیلی ویژن کی وجہ سے، لیکن یہ ذہین اس لیے سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ موضوع پر سمجھداری کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہیں۔ آپ اکیلے انہیں (مشہور و معروف نامور شخصیات) کو نہیں دیکھتے ہیں۔ آپ ان دیکھنے والے ہجوم کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے آپ اس ہجوم میں موجود ذہین ترین شخص سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیڈبری نے اپنی سیل بڑھانے کے لیے ملکہ وکٹوریہ کا کی تصویر کا استعمال کیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے والے ’انفلؤنسرز‘ کو توثیق سے بڑھ کر بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پراڈکٹ کی مشہوری کرنے والا، پراڈکٹ اور صارف، سب ہی کے لیے سمجھدار ہونا ضروری ہے، اور یہ بہت مشکل بات ہے۔

تو پھر یہ نظام عملی طور پر کس طرح چلتا ہے؟

ڈاکٹر میکریکن سوفٹ وئیر بنانے والی کمپنی ’ایڈوبی‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ایک ڈائریکٹر اور ایکٹر زیک بریف کو مقابلے میں اول آنے والے آئیڈیا پر شارٹ فلمیں بنانے کے لیے کہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مس بریف کو مکمل اختیار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں توثیق کرنے والوں پر طنز پیدا ہوتا ہے۔ یہ ذمہ دارانہ توثیق کی ضرورت جورجی کلارک کے لیے زیادہ محسوس ہوتی ہے جن کے انسٹا گرام پر سوا دو لاکھ فالوؤرز ہیں۔ جورجی نے اپنے پیج پر ’لائیک‘ کرکے پراڈکٹ کی مشہوری کرنے کا ایک کامیاب کیرئیر اپنایا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Georgie Clarke
Image caption جورجی کلارک کہتی ہیں کہ وہ مختلف پراڈکٹ کو خود استعٹمال کرنے کے بعد پروموٹ کرتی ہیں۔

’اگر میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس پراڈکٹ سے مجھے فائدہ پہنچا ہے تو اس کا براہِ راست اثر اس کے فالوؤرز پر پڑے گا۔‘

’میں نے ستمبر میں ویڈیوز کا استعمال شروع کیا - کہ کس طرح بلیک جینز کو پانچ مختلف طریقوں سے پہنا جاسکتا ہے، میکسی کو پانچ مختلف طریقوں سے پہنا جاسکتا ہے، تو پھر آپ ایک منفرد شخصیت بن جاتے ہیں آپ نئی چیز سیکھتے ہیں۔‘

’یہ لوگوں کو نت نئے آئیڈیاز دینے والی بات ہے۔‘

ڈگری کرنے، فیشن میں ماسٹر ڈگری کرنے اور بغیر تنخواہ کے چند ایک تربیتی نوکریوں کے بعد وہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی میں ایک ٹیکس کنسلٹنٹ بن گئیں۔ اپنا فیشن سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے وہ اپنی آمدنی سے آن لائن خریدے گئے کپڑوں کی سوشل میڈیا پر ماڈلنگ کرتیں پھر ان کپڑوں کو وہ واپس کردیتیں۔

وہ کہتی ہے کہ ’مجھے اس طرح بہت مزا آتا کہ میں بغیر پیسے خرچ کیے اپنا ایک سٹائیل بناتی۔‘

وہ اس طرح ڈیڑھ برس کرتی رہیں اور اپنے فالوؤرز کو متاثر کرتی رہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوتا گیا۔ مختلف برانڈز کی پراڈکٹ والوں نے اُسے مفت میں کھڑے سپلائی کرنا شروع کردیے اور پھر ان کو پہن کر ان کی تصویریں پوسٹ کرنے کے لیے اُنھیں پیسے بھی دینا شروع کردیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adobe
Image caption ڈائریکٹر زیک بریف نے ’ایڈوبی‘ پر بنائی جانے فلم میں ایک لحاظ سے اُسی کمپنی پر تنقید کی جو اُسے رقم دے رہے تھے۔

جورجی کہتی ہیں کہ ’یہ وہ کام ہے جو میں کرنا چاہتی ہوں -- سٹائیلنگ اور فیشن اور تخلیقی کام۔‘ وہ یہ کام ایک برس سے کر رہی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ اشتہارات پوسٹ کرتے وقت ’آپ کو اپنے فاولؤرز کے ساتھ شفاف رہنا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی پراڈکٹ کی دلی طور پر توثیق نہ کریں۔

’اگر آپ ایسے نظر آئیں جو پیسوں کے لیے ہر پراڈکٹ کو پروموٹ کرتی ہیں تو لوگ پسند نہیں کریں گے۔‘

اور اس کا ان کے لیے مطلب یہ کے کہ وہ پلاسٹک سرجری سے صاف طور پر الگ رہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں انسٹاگرام پر جاکر وہاں ہونٹوں کو موٹا کیے ہوئے یا گالوں کو موٹا کرنے والے اشتہارات کو سخت نا پسند کرتی ہوں کیونکہ ایسی تصویریں بچیوں پر بہت برا اثر چھوڑتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹیلی ویژن کی پریزینٹر جمیلہ جمیل نے کم کردیشین کو اس لیے ’زہر آلود‘ شخصیت کہتی ہیں کیونکہ کِم نے ڈائیٹنگ لالی پوپ پروموٹ کرنے والے اشتہار کو پوسٹ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کو کسی بھی برانڈ کے ساتھ کام کرنے سے پہلے اس کے بارے میں ریسرچ کرنی چاہئیے کہ وہ ہے کیا۔

’اور اگر ایک انفلوؤنسر خود ایک پراڈکٹ کی طرف بہک جاتی ہے تو اُس کے لیے اپنے فالوؤرز میں اضافہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ سے اگر غلطی ہو جائے تو فوراً برملا کہہ دیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے میں نے ریسرچ نہیں کی تھی۔ اس کے پروموٹرز کو اچھی طرح چھان بین کرنی چاہئیے۔ اور جہاں تک اس صنعت کے مستقبل کا سوال ہے تو آپ اپنے فاولؤرز میں اضافہ نہیں کرسکتے ہیں‘ اگر آپ ایسی غلطیاں بار بار کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اور انسٹاگرام جیسے صفحے پر تو زیادہ مشکل ہے جہاں ایک ایسا ایلگورتھم ہے جو آپ کے مواد کی جانچ کرتا ہے۔ منشیات جیسی بری چیزوں کے فروغ کو روکنے کے لیے وہ شاید اپنی بڑی بڑی نامور شخصیات کا بھی استعمال کرتے ہیں۔‘

جورجی کلارک کہتی ہیں کہ ’میں مسلسل اس بات پر غور کرتی رہتی ہوں کہ میں کس طرح اپنے انداز کو بدلتی رہوں۔ آپ ایک ہی طریقے کو بار بار اُسی طرح استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔‘

’کیا فیس بک اور انسٹاگرام کی یہ کوشش ان کی طرح کہ انفلوؤنسرز کو براہِ راست پراڈکٹ کی سیل کو فروخت کرنے میں مدد دے گی؟

اُس کا کہنا ہے کہ ’اس کے منفی پہلو بھی ہیں اور مثبت پہلو بھی ہیں۔ منفی بات تو یہ ہے کہ ہر بات ایک اشتہار محسوس ہو گی، جو میرے خیال میں آپ کے فالوؤرز کے لیے اچھی بات نہیں ہوگی، لیکن مثبت بات یہ ہو گی کہ آپ کے لیے کوئی بھی شہ بیچنا آسان ہو گا جسے آپ بیچنا چاہتی ہیں۔‘

وہ کہتی ہے کہ خاص کر سیل کے اعداد و شمار کے لیے بہت کارآمد ہوگا کیونکہ برانڈز فروخت کرنے والے یہ نہیں بتاتے ہیں کہ اُس نے کتنی سیل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pepsi
Image caption کینڈل جینر نے پیپسی کے سنہ 2017 کے ایک متنازعہ اشتہار میں آنے پر برا محسوس کیا تھا۔

فوربز میگیزین کے مطابق، ’انفلوؤنسگ‘ یعنی لوگوں کی رائے کو متاثر کرنے کی بدولت اس برس ایک شخص پہلا ارب پتی بنا۔ کائیلی جینر، جن کے انسٹاگرام پر 133 میلین فالوؤرز ہیں، انھوں نے اتنی زیادہ دولت اپنی میک اپ پراڈکٹس اسی پلیٹ فارم پر فروخت کرکے بنائی۔

ان کے ارب پتی ہونے کا کیا یہ مطلب ہے کہ حالات اب بھی مشہور و معروف اور نامور شخصیات کے حق میں ہیں؟

ڈکٹر میکریکن کہتے ہیں کہ نامور شخصیات کا سحر ایک دن میں ختم نہیں ہوگا، لیکن میرا خیال ہے کہ سیل کے بڑھانے میں‘ اس کے اثر میں ہم کمی دیکھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں