’طیارے کو آگ آسمانی بجلی ٹکرانے سے لگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس میں آتشزدگی کا شکار ہونے والے مسافر بردار طیارے میں سفر کرنے والے لوگوں اور عملے کے افراد نے کہا ہے کہ فضا میں بلند ہوتے ہی جہاز پر آسمانی بجلی گری جس کی بنا پر اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

روس کی فضائی کمپنی ایروفلوٹ کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں بچ جانے والے مسافروں نے بتایا کہ وہ کسی طرح اس حادثے میں اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ اس طیارے پر سوار 73 میں سے 41 مسافر اور عملے کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیے:

’طیارے نے گرنے سے پہلے لگاتار غوطے کھائے‘

5 مہینوں میں دوسرا حادثہ، بوئنگ کو سخت سوالات کا سامنا

روس: مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 71 افراد ہلاک

اس حادثے کی تحقیق کرنے والے اہلکاروں نے مسافروں اور عملے کے ارکان کے ان بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جدید مسافر طیاروں میں آسمانی بجلی سے بچنے کا نظام موجود ہوتا ہے اور روس کی قومی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارہ اڑنے کے فوراً بعد تکنیکی خرابی کی وجہ سے واپس ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

مسافروں کے مطابق یہ طیارہ جو شمالی روس کے علاقے مرمنسک جا رہا تھا بجلی گرنے کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ عملے کے ارکان کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ طیارہ کا مواصلاتی نظام بجلی گرنے کی وجہ سےناکارہ ہو گیا تھا۔

اس فضائی حادثے کی بڑی ڈرامائی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں طیارے کو رن وے پر اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس سے شعلے لپکنے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر پیوٹر یگورو نے کہا کہ جہاز ابھی اڑا ہی تھا کہ اس پر آسمانی بجلی گری۔ انھوں نے کہا کہ اس کی لینڈنگ اس قدر خراب ہوئی کہ موت کے خوف کی وجہ وہ بے ہوش ہونے والے تھے۔

حادثے میں بچ جانے والے ایک اور شخص میخائل سفچنکو نے بتایا کہ انھوں نے جہاز کے ہنگامی دروازے سے باہر کود کر اپنی جان بچائی جبکہ جہاز کے پچھلے حصے میں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔

ایک اور مسافر دمتری خیلبشکن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ جہاز کے عملے کی وجہ سے زندہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دھوئیں میں ایک لڑکی کھڑی تھی، مکمل تاریکی تھی شدید تپش تھی لیکن اس نے مجھے باہر کھنچ لیا اور ہنگامی دروازے سے نیچے دھکیل دیا۔

جہاز کی فضائی میزبان تتسیانا کاستکینا نے بتایا کہ تمام مسافر ہنگامی دروازوں کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے اور جہاز ابھی رکا نہیں تھا۔ انھوں نے ایک مقامی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی چینخ و پکار اس قدر شدید تھی کہ کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بہت سے لوگ اپنے موبائل فونوں پر اپنے رشتہ داروں کو حادثے کے بارے میں بتانے کا کوشش کر رہے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہو رہا تھا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے مسافروں کو انھوں نے کالروں سے پکڑ کر باہر دھکیلا تاکہ جلد از جلد لوگوں کو باہر نکلا جائے۔

فضائی کمپنی کے مطابق طیارے کے رکنے کے بعد پچپن سیکنڈ میں طیارے کو خالی کرا لیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے حادثے کی ویڈیوز میں مسافروں کو جلتے ہوئے طیارے سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسافروں نے آئرفلوٹ نامی جلتے جہاز سے نکلنے اور بھاگنے کے لیے ہنگامی راستے سے نکلنے والی سلائیڈز کا استعمال کیا۔

روس کے میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں دو بچے اور فلائٹ اٹينڈینٹ بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اطلاعات کے مطابق طیارے میں 78 مسافر سوار تھے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ طیارے میں آگ کیسے لگی اور اسے ہنگامی لینڈنگ کیوں کرنا پڑی۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق جہاز کے عملے نے ماسکو کے شیرمیٹیوو ہوائی اڈے سے روانگی کے تھوڑی ہی دیر بعد سخت خطرے کے سگنلز جاری کیے۔

اطلاعات کے مطابق مسافر طیارہ ہنگامی لینڈنگ کی پہلی کوشش میں ناکام رہا۔

ٹریکنگ کی ویب سائٹ فلائیٹ رڈار 24 سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے مسافر طیارے کے اڑان بھرنے کے 30 منٹ بعد اس کے ہنگامی لینڈنگ کرنے کی تصدیق کی ہے۔

روس کے قومی کیریئر ایرروفلوٹ نے کہا ہے کہ ہوائی جہاز کو ’تکنیکی وجوہات‘ کی بنا پر واپس آنے پر مجبور کیا گیا لیکن اس کی وضاحت نہیں دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بلغاریہ کے سابق یورو ویژن مقابلے کے حریف کرسٹن کوسٹوف نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کا مشاہدہ کرنے کے بارے میں پوسٹ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ہوائی اڈے پر موجود افراد نے مسافر طیارے کو جلتا ہوا دیکھا جبکہ دیگر پروازیں بھی اڑان نہیں بھر سکیں۔

اسی بارے میں