ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی: ’ایران نے جان بوجھ کر فیصلہ مبہم رکھا ہے‘

مائیک پومپیو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری معاہدے سے جزوی دستبرداری کا فیصلہ جان بوجھ کر مبہم رکھا ہے۔

امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے اقدام جوہری بلیک میل کے مترادف ہیں۔

اس سے پہلے امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے ایک سال بعد تہران نے اعلان کیا کہ وہ معاہدے کے کچھ اہم نکات سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ تہران افزودہ یورینیئم کے ذخائر ملک میں رکھے گا، تاہم ان کو کسی بیرونِ ملک فروخت نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے انتہائی حد تک افزودہ یورینیئم (highly enriched Uranium) کی پیداوار 60 روز میں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی۔

معاہدے کے دیگر فریقین روس، فرانس اور چین نے ایران کے اعلان کے بعد دوبارہ سے جوہری معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جوہری معاہدے کا مقصد ایران کو اقتصادی پابندیوں سے چھوٹ دے کر ان کے جوہری عزائم کو روکنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرانی صدر حسن روحانی اور ایران کے جوہری اثاثوں کے نگران علی اکبر صالحی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرتے ہوئے

یہ بھی پڑھیے

ایران سے خطرہ: امریکی جنگی بیڑا خلیجِ فارس میں تعینات

کیا واقعی ایک کروڑ دس لاکھ ایرانی متاثر ہوں گے؟

امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر کتنی بھاری پڑ رہی ہیں؟

امریکہ کی جانب سے اس معاہدے کو چھوڑنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں دوبارہ لگا دی ہیں۔

ایران کی جانب سے اس اعلان سے ایک ہی دن قبل امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے عراق کا ایک غیر اعلانیہ دورہ کیا اور امریکہ نے ایک جنگی بحری بیڑا خلیجِ فارس میں بھیج دیا ہے۔

امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی جانب سے 'متعدد دھمکیوں اور اکسانے والے بیانات' کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ کی جانب سے اس معاہدے کو چھوڑنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک امریکی سرکاری اہلکار کا حوالے دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جنگی بیڑے کی تعیناتی امریکی افواج پر ممکنہ حملے کے دعویٰ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

جان بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں 'سخت قوت' کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

گذشتہ ماہ امریکی صدارتی دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکہ ایران سے تیل کی خریداری پر پانچ ملکوں کو دیا گیا عارضی استثنیٰ ختم کر دے گا کیونکہ چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی تب تک ایران سے تیل خرید رہے تھے۔

اسی وقت امریکہ نے ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

ان پابندیوں نے تیزی سے ایران کی معیشت میں گراوٹ کی ہے، اس کی کرنسی کو ریکارڈ کم سطح پر لے آئی ہیں اور سالانہ افراط زر کی شرح کو چار گنا بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دور کرنے اور ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کو فروغ دیا ہے۔

ابھی تک کا رد عمل

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے معاہدے کے تمام بقیہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

روس اور چین دونوں نے امریکہ کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ترجمان نے کہا کہ معاہدہ بہت 'اہم' تھا اور جب تک ایران اپنے وعدوں پر قائم رہے گا تب تک برطانیہ یہ یقینی بنائے گا کہ معاہدہ اپنی جگہ پر رہے۔

برطانیہ کے دفتر خارجہ کے اہلکار مارک فیلڈ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کا فیصلہ 'ناپسندیدہ' تھا۔

فرانس کی وزیر دفاع فلورنس پارلی نے فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی طاقتیں پوری کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح معاہدے کو زندہ رکھا جائے لیکن اگر معاہدے کی تعمیل نہ کی گئی تو اس کے نتائج ہوں گے اور ممکن ہے پابندیاں بھی لگیں۔ .

جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جرمنی پوری طرح معاہدے پر کیے گئے عہد کے ساتھ مخلص ہے اگر ایران بھی مخلص رہے تو۔

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار جانتھن مارکس کہتے ہیں کہ اس ساری صورتحال کی وجہ سے یورپی قوتیں بہت بڑی دہری مشکل کا شکار ہیں۔ وہ ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیاں پھنس گئے ہیں۔ کیا وہ اس معاہدے کی حمایت جاری رکھیں گے اگر ایران پوری شرائط کی پاسداری نہیں کرتا؟

انھوں نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ امریکہ اس بات پر زور دے گا کہ درمیانہ راستہ کوئی نہیں ہے۔ ایران معاہدے کی شرائط کی پاسداری کرے گا یا نہیں

اسی بارے میں