تیز رفتار کبوتر کا جرمانہ کون ادا کرے گا؟

تیز رفتار کبوتر تصویر کے کاپی رائٹ STADT BOCHOLT

جرمنی کے مغربی قصبے بسولٹ میں یہ ایک پرسکون سہہ پہر تھی، جب ایک تیز رفتار کبوتر کی پھڑپھڑاہٹ نے سڑک پر چھائے ہوئے سکوت کو توڑ دیا۔

کبوتر رہائشی علاقے میں 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر اڑ رہا تھا حالانکہ سڑک کے کنارے صاف لکھا ہوا ہے کہ آپ یہاں تیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے گاڑی نہیں چلا سکتے۔

یہ بھی پڑھیے

کویت میں منشیات سمگل کرنے والا کبوتر پکڑا گیا

یہ پراسرار چینی بطخا امریکہ کیسے پہنچا؟

’کبوتر دوست دشمن کا فرق سمجھتے ہیں‘

پھر کیا تھا، موبائل کیمرے نے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اس کبوتر کی تصویر اتار لی۔

مقامی حکام نے یہ تصویر گذشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر چڑھا دی جس کے بعد اسے ہزاروں لوگ دیکھ چکے ہیں اور اس لا پرواہ کبوتر کی حرکت پر تبصرے کر رہے ہیں۔

مقامی قوانین کے مطابق اگر کوئی ڈرائیور رہائشی علاقوں میں تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد توڑتا ہے تو اسے 25 یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔

یہ عجیب واقعہ ہوا تو اس سال فروری میں تھا، لیکن سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ انھیں موبائل کیمروں سے لی جانے والی تصاویر کا جائزہ لینے میں وقت صرف کرنا پڑا جس کی وجہ سے کبوتر کی تصویر منظر عام پر آنے میں دیر ہو گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں کبوتر بازی کے دیوانے اپنا شوق کیسے پورا کرتے ہیں؟

حکام کہتے ہیں کہ وہ مقررہ حد سے تین کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی تیز رفتاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن یہ کبوتر تو مقررہ حد سے 12 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ کی رفتار پر اڑتا جا رہا تھا اور اس کا ’کسی گاڑی یا پیدل چلنے والے سے تصادم‘ ہو سکتا تھا۔

ایک مقامی شخص کا خیال ہے کہ یہ کوئی عام کبوتر نہیں تھا بلکہ تیز رفتاری کے مقابلوں کے لیے پالے جانے والا خاص کبوتر تھا، جبکہ ایک اور صاحب کی رائے ہے کہ جو بھی ہو کبوتر کو اس کے کیے کی مناسب سزا ملنی چاہیے۔ مثلاً کمیونٹی سروس کی طرز پر کچھ دنوں کے لیے اسے دوسرے کبوتروں کی خدمت پر لگایا جا سکتا ہے۔

بسولٹ شہر کے اپنے فیس بُک پیج پر یہ فلسفیانہ رائے بھی دیکھنے کو ملی کہ ’’ اور سب سے بڑا قانونی نکتہ جس کا فیصلہ ابھی باقی ہے وہ یہ ہے کہ مذکورہ تیز رفتار کبوتر 25 یورو کا جرمانہ ادا کرتا ہے یا نہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں