روحانی: ’ایران پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے‘

ایران تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایران میں تواتر کے ساتھ امریکہ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ملک ایسے سخت دباؤ کا شکار ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایرانی صدر کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں نے معاشی صورتحال کو 1980-88 میں عراق کے ساتھ جنگ کے دوران معاشی حالات سے بھی ابتر بنا دیا ہے۔

صدر روحانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پچھلے ہفتے امریکہ نے جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کو خلیج میں بھیجا ہے۔

صدر روحانی کے لیے اس وقت ملک کے سیاسی حالات سازگار نہیں ہیں مگر انہوں نے ملک میں سیاسی قوتوں سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے 2015 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کے برقرار رہنے کے بارے میں خدشات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایران سے خطرہ: امرکی جنگی بیڑا خلیجِ فارس میں تعینات

ایران کے جوہری معاہدے کے لیے حتمی لڑائی شروع

’امریکی فوجی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کر سکتے ہیں‘

پچھلے سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی اور ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے ردعمل میں ایران نے اشارہ دیا کہ اگر معاہدے میں شامل دیگر فریق بھی امریکہ کے ساتھ ملے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر روحانی پر دباؤ اُس وقت سے بڑھ رہا ہے جب سے جوہری معاہدہ میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں

ایران پر کیا دباؤ ہے؟

جب سے امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی ہے تب سے صدر روحانی ذاتی طور پر بھی ملک کے سخت گیر حلقوں کے دباؤ میں ہیں۔ امریکی پابندیوں سے ملک میں توانائی، شپنگ اور اقتصادی صنعت مشکلات کا شکار ہیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

نتیجتاً ملک میں سرمایہ کاری نہیں کی جا رہی۔ پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف امریکی کمپنیاں ایران سے کاروبار نہیں کر سکتی بلکہ ایسی غیرملکی کمپنیوں سے بھی کاروبار نہیں کرسکتیں جو ایران کے ساتھ کاروبار کریں۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2019 میں ایران کی معیشت میں چھ فیصد کمی آسکتی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

پچھلے مہینے امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ ایران بار بار امریکی اقدامات کے خلاف خلیج اومان اور خلیج فارس کے درمیان آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔ یہاں سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ لے جایا جاتا ہے۔

امریکہ کیا چاہتا ہے؟

ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ ایران کو نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کرے جس میں نہ صرف ملک کا جوہری پروگرام بلکہ بلیسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہو کیونکہ امریکی حکام کے مطابق اس سے مشرق وسطی کو خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یو ایس ایس آرلنگٹن خلیج میں یو ایس ایس ابراہیم لنکن کے ساتھ شامل ہو جائے گی

امریکہ اپنا پیٹرئٹ میزائیل دفاعی نظام مشرق وسطی بھیج رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی بی52 بمبار بھی قطر کے ایک فضائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔

امریکی کی جانب سے یہ خطے میں ایران کی جانب سے امریکی فورسز کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ایران نے ان دعوؤں کو رد کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران نے جوہری معاہدے کے تحت دو وعدوں پر عمل کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اگر اسے پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے 60 دن کے اندر اندر کچھ نہ کیا گیا۔

یورپی طاقتوں کے مطابق وہ معاہدے پر قائم ہیں لیکن اس کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے ایرانی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں