گھانا کے 100 سالہ گرینڈ مفتی مذہبی ہم آہنگی کے علمبردار

امام شروبوتو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرینڈ مفتی گھانا کی اقلیتی مسلمان آبادی کے سربراہ ہیں اور ان کا پیغام امن اور مذاہب کے مابین ہم آہنگی ہے

گھانا کے چیف امام زیادہ باتیں نہیں کرتے تاہم حال ہی میں اپنی 100 ویں سالگرہ کا دن ایک کیتھولک چرچ میں گزار کر انھوں نے لوگوں کو متاثر ضرور کیا ہے۔

ایسٹر کی تقریبات کے لیے آکرا کے کرائسٹ دی کنگ کیتھولک چرچ میں بیٹھے اور مبلغ کی باتیں غور سے سنتے شیخ عثمان شروبوتو کی تصاویر سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی ہیں۔

یہ گرینڈ مفتی گھانا کی مسلمان اقلیت کے سربراہ ہیں اور ان کا پیغام امن اور مذاہب کے مابین ہم آہنگی کا ہے۔

ان کے چرچ کے دورے کو زیادہ توجہ اس لیے بھی ملی کیونکہ جس دن وہ چرچ میں فادر اینڈریو کیمپبیل کے ساتھ موجود تھے اسی دن خودکش حملہ آوروں نے سری لنکا میں ہوٹلوں اور مسیحی عبادت گاہوں میں حملے کر کے 250 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

افریقہ کے رنگارنگ روپ

گھانا: طلبہ نے ’نسل پرست گاندھی‘ کا مجسمہ ہٹا دیا

امام مسجد پر یہودیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام

سوشل میڈیا پر امام کی حمایت کرنے والوں نے انھیں ’تاریکی میں روشنی کی کرن‘ قرار دیا ہے۔

لیکن تمام لوگ خوش نہیں ہیں۔

نقادوں نے ایک مسلمان کا مسیحی عبادت میں شریک ہونے پر اعتراض کیا۔ لیکن شیخ شروبوتو کہتے ہیں وہ عبادت نہیں بلکہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعلق کو محض برداشت سے شمولیت کی طرف لے جانے کی کوشش کرنے گئے تھے۔

ان کے ترجمان اریمیاؤ شیبو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’چیف امام اسلام سے متعلق سوچ کو بدل کر لوگوں کو یہ دکھا رہے ہیں کہ یہ جنگ اور نفرت کا مذہب نہیں بلکہ ایک ایسا دین ہے جس کا مقصد محبت اور امن پھیلانا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sadiq Abdulai Abu
Image caption چند نقادوں نے گرینڈ مفتی گھانا کی مسیحی عبادت میں شمولیت پر کافی اعتراضات اٹھائے جبکہ حمایت کرنے والوں نے ’انھیں تاریکی میں روشنی کی کرن‘ قرار دیا

پادری جنھوں نے مسجد امام کو دوست بنایا

ایلزبیتھ اوہین، آکرا

گھانا کے چیف امام شاید زیادہ بات نہ کرتے ہوں لیکن فادر اینڈریو کیمپبیل نہ صرف باتیں کرنے کے شوقین ہیں بلکہ لوگوں کو متاثر کرنے کے بھی۔

73 سالہ اینڈریو کیمپبیل آئرلینڈ میں پیدا ہوئے اور سنہ 1971 میں تبلیغ کرنے گھانا آئے۔

گذشتہ 48 برسوں میں انھوں نے کئی ایسے موضوعات پر بات کی ہے جو لوگوں کو زیادہ پسند نہیں آتے، جیسا کہ جزام کے مریضوں کو معاشرے میں جگہ اور عزت دینا۔

ان کا چرچ گھانا کے ایوانِ صدر جوبلی ہاؤس کے بالکل سامنے واقع ہے اور چند ماہ قبل ہی ان کو یہاں کا پیرش پریسٹ بنایا گیا۔

انھوں نے کچھ حکومتی پالسیوں کی حمایت کی ہے لیکن یہ مانا جاتا ہے کہ ایوان صدر کے سرکاری پادری ہونے کے باوجود ضرورت پڑنے پر وہ حکومت پر تنقید کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

انھوں نے گھانا کی شہریت تو اپنا لی ہے لیکن کچھ عادات اپنانے سے انکار کر دیا ہے، جیسا کہ ہمیشہ دیر کر دینا۔

کچھ وقت پہلے میں ایک شادی میں گیا جہاں انھوں نے دلہن کے پہنچنے سے پہلے ہی تقریب شروع کر دی۔ آدھی رسم کے بعد جب بارات پچھلے دروازے سے اندر آئی تو فادر کیمپبیل نے دلہے کو ساتھ لے کر دلہن کو راستے میں ہی روک کر جلدی سے شادی کروائی اور واپس اپنی جگہ پر آ کر خطاب وہاں سے شروع کیا جہاں پر چھوڑا تھا۔

Image caption اپنا جانشین ڈھونڈنے کا سوچ کر انھیں تھوڑی گھبراہٹ ہوتی ہے، ایسا جانشین جو مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھ سکے

لیکن اس امن پسند خاموش مسلمان عالم اور باتونی آئریش پادری کی ایک خوبصورت اور غیر متوقع جوڑی بن چکی ہے۔

شیخ شروبوتو 26 برسوں سے گھانا میں مسلمانوں کے سربراہ ہیں۔ جیسا کہ ان کے ہر جمعے کے خطبے میں واضح ہوتا ہے، ان کا ہمیشہ سے کہنا ہے کہ اسلام کی بنیاد امن اور محبت پر ہے۔

ان کا ایک اور پسندیدہ موضوع مادیت کو ٹھکرانا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے اس سے صرف لالچ بڑھتی ہے۔

ان کی ہدایت پر فادامہ میں واقع انکے گھر کے دروازے غریب عوام کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

کئی سالوں سے اس آبادی کے سینکڑوں رہائشی ہر صبح یہاں آ کر نلکوں سے پانی بھرتے ہیں اور رات کو پیالے لے کر مفت خوراک حاصل کرنے آتے ہیں۔

خیرات دینا اسلامی سربراہوں کے لیے عام ہے تاہم ان کے حمایتی کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے آنے والی امداد کا پیمانہ بہت وسیع ہے۔ انھوں نے ذاتی طور پر سینکڑوں طالب علموں کو ملک کے اندر اور باہر تعلیم دلوائی ہے اور ایک ٹرسٹ فنڈ بھی بنایا ہے جو کہ ایسے طلبہ کے لیے ہے جو ذہین مگر ضرورت مند ہیں۔

گھانا میں 18 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ اکثریت مسیحیوں کی ہے، لیکن اس ملک میں کبھی کوئی مذہبی جنگ و جدل نہیں ہوا تاہم تعلقات میں تناؤ ضرور آ جاتا ہے اور امام کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی خفگی اور تناؤ کا فوری حل نکالا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ نیشنل پیس کاؤنسل کے رکن ہیں، جو 13 مذہبی سربراہوں پر مشتمل ہے۔ امام ذاتی طور پر بھی مسائل حل کرتے رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گھانا میں 18 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ اکثریت مسیحیوں کی ہے، لیکن اس ملک میں کبھی کوئی مذہبی جنگ نہیں ہوئی

قبرستان پر لڑائی

کچھ ماہ قبل امام شروبوتو نے نوجوان مسلمانوں کے ایک گروہ کی مذمت کی جب انھوں نے آکرا میں ایک چرچ پر حملہ کیا کیونکہ اس کے پادری نے امام کی موت کی پیش گوئی کر دی تھی۔

انھوں نے تلوار تھامے نوجوانوں سے پادری کو معاف کرنے کا کہا اور معاملے کو ٹھنڈا کیا اور اس وجہ سے پولیس کے سربراہ نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

سنہ 2016 میں جب ایک قبرستان پر لڑائی ہونے کے بعد کماسی کے شہر میں گولیاں چلیں تو یہ فوراً وہاں پہنچ گئے۔

جھڑپ میں ایک فرد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ مقامی سربراہوں کو مسلمان برادری سے ثبوت چاہئے تھا کہ قبرستان کے ایک حصے میں اپنے مردہ دفنانے کے لیے ان کے پاس زمین کی مالکیت تھی۔

معاملہ مکمل تصادم کی طرف اس وقت گیا جب مشتعل مسلمان جوانوں نے ٹافو برادری کے رہنما کو تھپڑ مار دیا۔

گھانا میں کسی حاکم پر ہاتھ اٹھانا اتنی گستاخی ہوتی ہے کہ اس کے بدلے صرف جنگ لڑی جاتی ہے، جو کہ دیگر برادریوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔

اریمیاؤ شیبو کے مطابق امام ٹافو برادری کے چیف کے محل گئے اور ایک لفظ بولے بغیر صرف اپنی عاجزی اور نرم مزاجی سے مزید تصادم کو ہونے سے روک دیا۔

یہ دوسری دفعہ تھی کہ یہ قبرستان پر ہونے والی لڑائی کے راستے میں آئے اور صلح کروائی۔

سنہ 2012 میں وؤلٹا کے علاقے میں چند مقامی لوگوں نے ایک مذہبی رہنما کی لاش کو قبر کھود کر نکالا اور سڑک کنارے پھینک دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان یہ قبرستان استعمال کریں۔

شیخ شروبوتو نے گھانا کے جنوب مشرق میں واقع وؤلٹا کی جانب فلائیٹ لی اور امن معاہدہ طے کروایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Office of the National Chief Imam
Image caption جب امام شروبوتو نوجوان تھے تو انھوں نے اسلامی تدریس کی بنیاد امن کے پیغام پر ڈالی

’میں آلات کے بغیر پڑھتا ہوں‘

وہ اپنے امن کا فلسفہ اپنی سب سے پسندیدہ قران کی آیت سے بیان کرتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ لوگوں کو ایک ہم آہنگ معاشرہ بنانے کے لیے ایک دوسرے سے منصفانہ طور پر پیش آنا پڑے گا۔

’اللہ آپ کو ہمدردی کرنے سے نہیں روکتا اور نہ ہی لوگوں سے خلوص سے برتاؤ کرنے سے۔ اللہ کو منصفین بہت پسند ہیں۔‘

جب امام شروبوتو نوجوان تھے تو انھوں نے اپنے اسلامی تدریس کی بنیاد اس پیغام پر بنائی۔ وقت کے ساتھ وہ ملک کے سب سے فاضل عالم بنے۔ سنہ 1993 میں 74 برس کی عمر میں انھوں نے چیف امام بن کر تاریخ رقم کی۔

اپنا جانشین ڈھونڈنے سے متعلق ان کو تھوڑی گھبراہٹ ہوتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان کا مذہبی سطح پر امن برقرار رکھنے میں اتنا اہم کردار ہے۔

لیکن ان کا پرسکون مزاج ہی ان کی لمبی عمر کا راز معلوم ہوتا ہے، جو کہ ان کے بعد آنے والے بھی شاید جاری رکھنا چاہیں گے۔

ان کے ترجمان کے مطابق ان کا کہنا ہے ’میں بوڑھا ہوں لیکن مضبوط ہوں۔ میں دیکھ سکتا ہوں اور کسی آلے کے بغیر پڑھ اور لکھ سکتا ہوں۔ میں خود چل بھی سکتا ہوں۔ خدا نے مجھے ابھی تک کمزوری سے نہیں آزمایا۔‘

’میرا دماغ بھی ابھی تک میرے قابو میں ہے۔ خدا کو اپنی زندگی کے وسط میں رکھنے سے مجھے سکون اور قرار ملتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں