خلیجِ عُمان میں ٹینکرز پر حملے کا ذمہ دار ایران ہے: امریکی الزام

سعودی ٹینکر، امجد تصویر کے کاپی رائٹ KARIM SAHIB
Image caption سعودی ٹینکر، امجد، جسے اطلاعات کے مطابق اس ’حملے‘ میں نقصان پہنچا

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروپس نے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے ہوئے اتوار کو متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں چار ٹینکرز کو نقصان پہنچایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق فوجی ماہرین کو واقعے کی تفتیش کے لیے بھیجا گیا، جن کے مطابق ہر ٹینکر میں ایک بڑا سوراخ تھا۔

اب تک اس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی متاثرہ ممالک نے اب تک کسی پر الزام لگایا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک اہلکار نے انہیں بتایا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کی ٹیم کو چاروں ٹینکرز میں بڑے بڑے سوراخ ملے اور ان کا خیال ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے ہوئے۔ تاہم انہوں نے اس کا ایران سے تعلق واضح نہیں کیا۔

امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نے بھی امریکی اہلکاروں کے حوالے سے اسی طرح کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

'سعودی آئل پمپنگ سٹیشنوں پر ڈرون سے حملے'

اس سے پہلے سعودی عرب کے وزیرِ تیل کا کہنا تھا کہ ملک میں تیل نکالنے والے دو مراکز پر ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک سٹیشن میں آگ بھی لگی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیرِ تیل خالد بن عبدالعزیز الفلیح نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو صبح چھ سے آٹھ بجے کے درمیان پیش آیا جب دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرونز نے ملک کے مشرقی علاقے سے مغربی علاقوں کو جانے والی پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

وزیر کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں سٹیشن نمبر آٹھ میں آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو نے اس واقعے کے بعد پائپ لائن میں تیل کی فراہمی بند کر دی ہے اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم وزیرِ تیل کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار اور برآمد کا عمل متاثر نہیں ہوا ہے۔

سعودی وزیر نے اس حملے کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا ہے اور یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کو اس کے لیے ذمہ دار قرار دیا ہے۔

حوثی باغی ماضی میں بھی یمن اور سعودی عرب میں ڈرون استعمال کرتے رہے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بارے میں مزید جانیے

’ایران پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے‘

ایران کا فیصلہ جوہری بلیک میل ہے: امریکی اہلکار

’امریکی فوجی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کر سکتے ہیں‘

ایران سے خطرہ: امریکی جنگی بیڑا خلیجِ فارس میں تعینات

ایران کے جوہری معاہدے کے لیے حتمی لڑائی شروع

یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار ٹینکرز کو ’سبوتاژ‘ کیے جانے کے واقعے کے چند دن بعد پیش آیا ہے۔

اس واقعے میں دونوں سعودی بحری جہازوں کو نقصان پہنچا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی آئل ٹینکرز کو متحدہ عرب امارت کی ریاست فجیرہ کے ساحل سے دور نشانہ بنایا گیا

جہازوں کو ’سبوتاژ‘ کیے جانے کا واقع کیا ہے؟

متحدہ عرب امارت نے اتوار کو کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں خلیج عمان کے علاقے میں چار بحری جہازوں کو مبینہ طور پر ’سبوتاژ‘ کرنے کی کوثشش کی گئی ہے تاہم حکام نے نہ ہی اس بارے میں مزید تفصیلات دی تھیں اور نہ ہی کسی پر اس حملے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

تاہم سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پیر کی صبح سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفلیح نے کہا کہ فجیرہ کے ساحل سے دور کھلے سمندر میں دو سعودی ٹینکرز کو ’سبوتاژ حملے‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

سعودی وزیر نے ان تیل بردار جہازوں کی شناخت تو ظاہر نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ان جہازوں کو 'خاصا نقصان‘ پہنچا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے تیل بردار بحری جہازوں میں سے ایک سعودی عرب آ رہا تھا جہاں اس پر امریکہ بھیجا جانے والا سعودی خام تیل لادا جانا تھا۔

خالد الفلیح نے کہا کہ ’خوش قسمتی سے حملے میں کوئی جانی نقصان یا تیل کا رساؤ نہیں ہوا تاہم اس سے دونوں بحری جہازوں کے ڈھانچے کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکہ نے جنگی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو خطے میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے

ایران نے اب تک کیا کہا ہے؟

ادھر ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ واقعات ’پریشان کن‘ ہیں اور ان کی جامع تحقیقات ہونی چاہییں۔

خیال رہے کہ جس علاقے میں سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا وہ تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے سبوتاژ کی کوششوں کو 'خطرناک پیش رفت' قرار دیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے مستقبل میں 'اس طرح کی کوششوں کو روکنے' کی اپیل کی ہے۔

اس سے قبل اتوار کو متحدہ عرب امارت میں فجیرہ کی حکومت نے بندرگاہ پر دھماکوں کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ نے ایران کے تیل برآمد کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے اور تمام ممالک سے ایرانی تیل نہ خریدنے کی اپیل کی ہوئی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے سبب اس علاقے میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حال ہی میں امریکہ نے علاقے میں اپنا جنگی بیڑا روانہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اپنے جنگی بیڑے کی خطے میں تعیناتی کا سبب امریکی فورسز کو ایران کی جانب سے خطرہ بتایا ہے۔

اسی بارے میں