امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہے: مائیک پومپیو

مائیک پومپیو، سرگئی لاوروف تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا ہے۔

روس میں بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران ’ایک نارمل ملک‘ کی طرح برتاؤ کرے تاہم اگر اس کے مفادات پر حملہ کیا گیا تو وہ اس کا بھر پور جواب دے گا۔

ادھر ایران کے روحانی پیشوا اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے بھی کہا ہے کہ امریکہ سے جنگ نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اتوار کو کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار ٹینکرز کو 'سبوتاژ' کرنے کی کوشش کی گئی۔

امریکہ کو شبہ ہے کہ اس کارروائی میں ایران یا اس کے حمایتی گروہ شامل ہیں تاہم اس واقعہ میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بارے میں مزید جانیے

خلیج اومان میں ٹینکرز پر ’حملے کا ذمہ دار ایران‘

’ایران پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے‘

’امریکی فوجی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کر سکتے ہیں‘

ایران کے جوہری معاہدے کے لیے حتمی لڑائی شروع

ایران سے خطرہ: امریکی جنگی بیڑا خلیجِ فارس میں تعینات

دوسری جانب تہران نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تفتیش ہونی چاہیے۔

دوسری جانب سپین نے خلیج میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکی قیادت میں بحریہ گروپ کے ایک فریگیڈ کو واپس بلا لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پومپیو نے کیا کہا؟

روس کے شہر سوچی میں وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد مائیک پومپیو کا کہنا تھا ’امریکہ ’بنیادی طور پر‘ ایران کے ساتھ کوئی تنازع نہیں چاہتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر امریکی مفادات پر حملہ ہوا تو ہم یقینی طور پر اس کا مناسب انداز میں جواب دیں گے۔‘

مائیک پومپیو اور سرگئی لاوروف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اختلافات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ انھوں نے روس سے وینزویلا کے صدر نِکولس مدورو کی حمایت ختم کرنے کا کہا لیکن سرگئی لاوروف نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ امریکہ کی مدورو کے خلاف دھمکیاں غیر جمہوری ہیں۔

یوکرین کے حوالے سے پومپیو کا کہنا تھا کہ ان کا ملک کرائمیا پر روسی الحاق کو تسلیم نہیں کرے گا اور اس حوالے سے روس پر پابندیاں عائد رہیں گی۔

ایران نے کیا کہا؟

ریاستی میڈیا کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

تاہم خامنہ ای کا یہ بھی کہنا تھا ’ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ چاہتے ہیں۔‘

ایران کے صدر حسن روحانی نے پیر کو ایرانی علماؤں کے ایک اجلاس کو بتایا ’ایران کو کسی سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا ’خدا کی مرضی سے ہم اس مشکل صورت حال سے عزت کے ساتھ گذر جائیں گے، ہمارے سر بلند ہوں گے اور دشمن کو شکست ہو گی۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ برس ایران کے اس یادگارجوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہو گئے تھے جس پر امریکہ اور دیگر ممالک نے سنہ 2015 میں اتفاق رائے کیا تھا۔

امریکی صدر نے پچھلے برس اس معاہدے سے علحیدہ ہوتے وقت کہا تھا کہ یہ معاہدہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ بقول ان کے ایران بدستور خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ تاہم اس معاہدے پر دستخط کرنے والی دیگر طاقتیں اس معاہدے کو بچانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرتے ہوئے بین الاقوامی مبصرین کو دورے کی اجازت دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بدلے اسے عائد پابندیوں میں نرمی کا کہا گیا تھا۔

اسی بارے میں