امریکہ کا عراق سے ’غیر ضروری‘ سفارتی عملے کو نکالنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے گذشتہ ہفتے جرمنی کا طے شدہ دورہ منسوخ کر کے اچانک عراق کا دورہ کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بغداد میں اپنے سفارت خانے اور اربیل میں قونصل خانے سے غیر ضروری سفارتی عملے کو عراق سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے عراق میں سفارتی عملے کو یہ حکم ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے گذشتہ ہفتے جرمنی کا طے شدہ دورہ منسوخ کر کے اچانک عراق کا دورہ کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ نے عراقی رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عراق میں موجود امریکی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

امریکہ حالیوں ہفتوں میں ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقے میں امریکہ کے مفادات پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ خطے میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر کتنی بھاری پڑ رہی ہیں؟

خلیج اومان میں ٹینکرز پر ’حملے کا ذمہ دار ایران‘

’امریکی فوجی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کر سکتے ہیں‘

’ایران پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے‘

امریکہ نے سفارتی عملے کو جاری کیے جانے والے پیغام میں کہا ہے کہ عراق میں کئی دہشتگرد اور جنگجو گروپ متحرک ہیں اور وہ عراقی سکیورٹی فورسز پر تواتر سے حملے کرتے رہتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ عراق میں متحرک امریکہ مخالف ملییشیا عراق میں موجود امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عراق میں کئی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا متحرک ہیں اور وہ عراق میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں: امریکہ

امریکہ نے گذشہ برس ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر الزام لگاتے ہوئے بصرہ میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا تھا۔

عراق میں اپنے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے عراقی وزیراعظم عادل عبدل مہدی اور صدر برہام صالح سے ملاقات کی اور سکیورٹی کے حوالے سے امریکی خدشات کا اظہار کیا۔

مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ عراقی رہنماؤں نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں۔

مائیک پامپیو نے کہا تھا کہ امریکہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی بڑھتی نقل و حرکت کو دیکھ رہا ہے اور امریکہ کے پاس ان کے ممکنہ حملوں کی مصدقہ معلومات ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے عراقی رہنماؤں سے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عراقی رہنما ’بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھ سکیں‘۔

مائیک پامپیو نے کہا تھا کہ ’امریکہ عراق میں کسی ملک کو حملوں کی اجازت نہیں دے گا۔'

انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ عراقی رہنماؤں کو باور کرائیں کہ وہ توانائی کے معاہدے کرتے وقت ایران پر کم بھروسہ کریں۔

امریکہ پہلے ہی یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار سٹرائیک گروپ اور ایک جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بی باون بمبار طیارے خطے میں بھیج چکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ایرانی صدر حسن روحانی امریکہ ایران جنگ کے امکان کو رد کر چکے ہیں۔

البتہ امریکہ کے نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن کہہ چکے ہیں کہ اگر خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ایران کو اس کی بھاری قیمیت ادا کرنی پڑے گی۔

اسی بارے میں