لاکھوں ڈالر کی کلاسک فراری گاڑی ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران چوری ہو گئی

فراری تصویر کے کاپی رائٹ Polizei Dusseldorf

گاڑیوں کا ایک موقع شناس ’کلیکٹر‘ تقریباً دو ملین یورو مالیت کی ایک فراری ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران لے اڑا۔

جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف میں پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ چور نے سنہ 1985 ماڈل کی فراری 288 جی ٹی او خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

مبینہ چور ایک ٹیکسی کے ذریعے آیا اور دو گھنٹے بعد وہ ایک ٹیسٹ ڈرائیو کے لیے نکلے۔

ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران جب ’گاہک‘ کو گاڑی دینے کے لیے ڈیلر ڈرائیونگ سیٹ سے اترے تو نقلی گاہک نے گاڑی سنبھالی اور بھگا دی۔ بعد میں یہ گاڑی ایک گیراج سے ملی۔

یہ بھی پڑھیے

100 کروڑ کی نمبر پلیٹ: 'ہر خاص چیز میری ہو'

فراری گاڑیوں کو ٹکر مارنے والے نوجوان کے لیے ہمدردی

چین: سپر کاروں پر دس فیصد اضافی ٹیکس

100 کروڑ کی نمبر پلیٹ: 'ہر خاص چیز میری ہو'

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی گاڑی 43,000 کلو میٹر چل چکی تھی اور اس کی قیمت تقریباً 20 لاکھ یورو کے قریب ہے۔

اس گاڑی کے ڈیلر نے جو اشتہار لگایا اس کے مطابق اس گاڑی کے سابق مالک شمالی آئرلینڈ کے فارمولا ون ڈرائیور ایڈی اروین تھے جنھوں نے سنہ 1996 سے سنہ 1999 تک فراری کی ٹیم کے لیے ریسنگ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Polizei Dusseldorf

ایسی گاڑیاں عموماً 15 سے 20 لاکھ پاؤنڈ قیمت کی ہوتی ہیں۔ انھیں اکثر نیلام گھروں کے ذریعے بیچا جاتا ہے۔

تفتیش کاروں کی خوش قسمتی یہ تھی کہ یہ نایاب گاڑی انتہائی شوخ لال رنگ میں تھی اور اسی وجہ سے لوگوں کی توجہ اس کی جانب جاتی تھی۔

پولیس کی جانب سے عوامی سطح پر لوگوں سے اپیل کے تھوڑی ہی دیر بعد ہی یہ گاڑی مل گئی۔

یہ گاڑی شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک گیراج میں چھپائی گئی تھی۔

گاڑی کے مبینہ چور کو اب تک پکڑا نہیں جا سکا ہے۔ پولیس نے چور کی تصویر جاری کی ہے۔

ڈیلرشپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ اس نقلی گاہک نے کئی ہفتوں تک ای میل اور فون کے ذریعے ان سے بات چیت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گاڑی بلیک مارکیٹ میں فروخت نہیں جا سکتی تھی کیونکہ خریدنے والے کو فوراً پتہ چل جاتا کہ یہ گاڑی چوری ہوئی ہے۔

فراری 288 جی ٹی او کے صرف 272یونٹ بنائے گئے تھے اور سب ہی کے بارے میں لوگ جانتے ہیں۔

اسی بارے میں