شہزادی ڈیانا کی موت: ’ماں کی موت کے درد جیسا کوئی درد نہیں‘‘

پرنس ویلیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ ویلیم کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کی موت ان کے لیے ایسی تکلیف تھی جو اس سے پہلے کبھی انھوں نے محسوس نہیں کی تھی (فائل فوٹو)

ڈیوک آف کیمبرج شہزادہ ولیم کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ شہزادی ڈیانا کی موت ان کے لیے ایسی تکلیف تھی جو اس سے پہلے کبھی انھوں نے محسوس نہیں کی تھی۔

شہزادہ ویلیم نے ان جذبات کا اظہار نفسیاتی صحت سے متعلق بی بی سی ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں جذبات کا برملا اظہار نہ کرنے کی بات اپنی جگہ مگر یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے جذبات کا اظہار کریں اور تھوڑا ریلیکس محسوس کریں کیونکہ ہم ربورٹ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادی ڈیانا کی زندگی پر ایک نظر

’دنیا کی سب سے شرارتی ماؤں میں سے ایک‘

شہزادی ڈیانا کے برقعے کا ڈیزائن نیلامی کے لیے تیار

شہزادہ ویلیم نے فضائی ایمبولینس میں بطور پائلٹ اپنے تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا تھا کے جیسے ’موت سر پر کھڑی‘ ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی والدہ کو کھو دینے کا صدمہ برداشت کرنے کے بعد وہ ان افراد کا درد محسوس کر سکتے ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کی موت کا غم برداشت کیا ہے۔ شہزادی ڈیانا سنہ 1997 میں کار حادثے میں ہلاک ہوئیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس بارے میں بہت سوچا ہے اور میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں مجھے ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ جب آپ عمر کے کسی بھی حصے میں خاص کر نوعمری میں ایسے صدمے سے گزرتے ہیں تو آپ ایک ایسی تکلیف محسوس کرتے ہیں جو آپ نے پہلے کبھی محسوس نہ کی ہو۔ اور یہ میں بہت بہتر جانتا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ ویلیم اپنی والدہ لیڈی ڈیانا کے ہمراہ (فائل فوٹو)

شہزادہ ویلیم نے کہا کے انھوں نے جو چند نوکریاں کی ہیں اس دوران جن خاندانوں سے وہ ڈیل کر رہے تھے ان سے ان کے مخصوص ذاتی تعلقات تھے۔

انھوں نے بتایا کے کیسے ایسٹ اینگلین ائیر ایمبولینس میں بطور پائلٹ نوکری کے ساتھ وابستہ جذباتی پہلو ’مشکل‘ تھے۔ خاص کر جب آپ کا اپنا فوجی پسِ منظر ہو جہاں جذبات کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینس کی دنیا عجیب ہے۔ اس حوالے سے اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’یہ تکلیف دہ ہے، آپ روزانہ جذباتی معاملات سے نمٹتے ہیں۔ آپ روزانہ ان خاندانوں سے ڈیل کر رہے ہوتے ہیں جن کو اپنی زندگی کی انتہائی بری خبر ملی ہوتی ہے۔‘

'وہ تکلیف دہ جذبات۔۔۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ وہ میرے اندر پنپ رہے تھے اور مجھے اندازہ تھا کہ بعد ازاں اس کے اثرات ہوں گے اور یہ مسائل کو جنم دیں گے۔ مجھے اس بارے میں بات کرنی چاہیے تھی۔'

بی بی سی ون کی یہ دستاویزی فلم اتوار کو نشر کی جائے گی۔ اس میں شہزادہ ویلیم فٹ بال کے موجودہ اور سابقہ کھلاڑیوں پیٹر کراؤچ، ڈینی روز، تھیری ہنری، جرمین جینس اور انگلینڈ ٹیم کے مینجر گیرتھ ساؤتھگیٹ سے بات چیت کرتے نظر آئیں گے۔

دستاویزی فلم کے شرکا نے ان نفسیاتی صحت کے مسائل پر بات کی ہے جن کا انھیں اپنے کرئیرز کے دوارن سامنا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption شہزادہ ویلیم (فائل فوٹو)

ماضی میں نفسیاتی صحت کی مہم، ہیڈز ٹوگیدر، کے افتتاح کے موقع پر شہزادہ ویلیم اور ان کے بھائی ڈیوک آف سسیکس اپنی والدہ کی وفات پر اپنے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اور اس بات چیت نے دوسرے افراد کو بھی اپنے مسائل کا زیادہ کھل کر اظہار کرنے کی ترغیب دی تھی۔

ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج اور ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس نے گزشتہ ماہ ان افراد کے لیے ایک ٹیکسٹ میسجنگ سروس لانچ کی تھی جو نفسیاتی صحت سے مسائل سے دوچار ہیں۔

ویلیم، کیٹ، میگھن اور ہیری نے 'شاؤٹ' نامی منصوبے کی پشت پناہی کی تھی اور اس کے لیے رائل فاؤنڈیشن نے 30 لاکھ پاؤنڈ فراہم کیے تھے۔

شاؤٹ نامی منصوبے کو چلانے والے خیراتی ادارے کو بی بی سی 'چلڈرن ان نیڈ' کی طرف سے بھی 15 لاکھ پاؤنڈ عطیہ کیے گئے تھے۔

اے رائل ٹیم ٹاک: ٹیکلینگ مینٹل ہیلتھ نامی دستاویزی فلم 19 مئی بروز اتوار بی بی سی ون سے نشر کی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں