وزیر اعظم ٹریزا مے کا سیاسی سفر، تصاویر میں

British Prime Minister Theresa May reacts as she delivers a statement in London, Britain, May 24, 2019. REUTERS/Toby Melville تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ کی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے سات جون کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعے کو لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر خطاب میں برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے 'شدید پشیمانی' کی بات ہے کہ وہ بریگزٹ نہیں کروا سکیں۔

ٹریزا مے کا دکھ بھرے لہجے میں کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھانا ان کے لیے افتخار کی بات رہی ہے اور انہیں فخر ہے کہ وہ برطانیہ کی تاریخ کی دوسری خاتون وزیر اعظم رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

بریگزٹ میں ناکامی پر ٹریزا مے کا مستعفی ہونے کا اعلان

بریگزٹ یا نیا وزیراعظم؟

بریگزٹ: ٹریزا مے کا معاہدہ 149 ووٹوں سے مسترد

Theresa May تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میڈن ہیڈ کے حلقے سے پارلیمان کی رکن منتخب ہو کر قومی سیاست میں قدم رکھنے والی ٹریزا مے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں وزیر داخلہ تھیں۔

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ تصویر مئی 1997 کی ہے جب ٹریزا مے برکشائر کی کاؤنٹی میں میڈن ہیڈ کے حلقے سے پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں۔ اپنی اس پہلی فتح کے بعد سے وہ ہرانتخابات میں اس حلقے سے رکن پارلیمان منتخب ہوتی رہی ہیں۔

Theresa May shows her shoes تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹریزا مے نے کون سا جوتا پہن رکھا ہے، یہ بات ان کے سیاسی کیریئر کے ابتدائی برسوں میں ہمیشہ فوٹوگرافروں کی خاص توجہ کا مرکز رہی ہے۔

یہ تصویر سنہ 2004 میں کنزرویٹو پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر لی گئی تھی جب ان کی جماعت حزب اختلاف میں تھی۔

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب 2010 میں کنزرویٹو نے 70 سال میں پہلی مرتبہ لبرل ڈیموٹریک پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے مخلوط حکومت بنائی تو ٹریزا مے کو وزارت داخلہ کا قلمدان دیا گیا تھا۔

سنہ 2014 میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے انھوں نے پولیس فیڈریشن کی سالانہ کانفرنس میں یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا تھا کہ بد عنوانی کا مسئلہ ’چند سڑے ہوئے سیبوں‘ تک محدود نہیں۔ اس خطاب میں انہوں نے پولیس فیڈریشن کو دھمکی بھی دی تھی کہ بطور وزیر وہ تنظیم پر پابندی لگا سکتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے افسران کو تنظیم کی رکنیت دیدے۔

پھر سنہ 2019 میں بطور وزیر اعظم بھی انہیں اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم اور پولیس فورس میں کٹوتی کے درمیان ’کوئی براہ راست تعلق‘ نہیں ہے۔

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکلنے کے سوال پر ہونے والے ریفرنڈم کے بعد جب وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہو گئے تو جولائی 2016 میں ٹریزا مے ایک سخت مقابلے کے بعد کنزیرویٹو پارٹی کی سربراہ منتخب ہوئیں۔

Theresa May and Queen Elizabeth II تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

13 جولائی 2016 کو ملکہ برطانیہ نے انہیں حکومت سازی کی دعوت دی اور وہ مارگریٹ تھیچر کے بعد ملک کی دوسری خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزارت عظمی کا حلف اٹھانے کے بعد اپنی سرکاری رہائش گاہ، 10 ڈاؤننگ سٹریٹ، کے دروازے پر اپنے شوہر فلپ کے ساتھ ۔

Theresa May and Donald Trump holding hands تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوری 2017 میں ٹریزا مے امریکہ کے دو روزہ دورے پر واشگنٹن پہنچیں تو وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والی پہلی عالمی رہنما تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے دالان کی جانب جاتے ہوئے جب دونوں رہنماؤں نے کچھ دیر کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تو یہ خبر دنیا بھر کی شہہ سرخیوں کی زینت بنی۔

Newspaper front covers featuring coverage of May's 2017 snap election تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹریزا مے دباؤ کے باوجود وسط مدتی انتخابات کے اعلان سے انکار کرتی رہیں لیکن پھر انھوں نے اپریل 2017 میں اعلان کر دیا کہ نئے انتخابات اسی سال 8 جون کو ہوں گے۔

Theresa May تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹریزا مے نے اپنی انتحابی مہم کا آغاز ’ قومی مفاد میں ایک مضبوط اور مستحکم رہنمائی‘ کے نعرے سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انتخابات کرانے کا فیصلہ بریگزٹ کے معاملے پر یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کیا ہے۔

Theresa May eating chips تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انتخابی مہم کے دوران فوٹوگرافروں نے ان کی چپس کھاتے ہوئے تصویریں بنائیں، جنھیں کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر مختلف میمز بنا کر شیئر کیا۔

دو ماہ کی دھواں دھار مہم کے بعد جب انتخابات ہوئے تو کنزرویٹو پارٹی پارلیمان میں اکثریت کھو بیٹھی۔ اس شکست پر ٹرییزا مے کو حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حزب اختلاف کے رہنما جیرمی کوربن کا اصرار تھا کہ ٹریزا مے کو وزارت عظمی سے استعفے دے دینا چاہیے، لیکن ٹریزا مے کا کہنا تھا ان کی جماعت ہی برطانیہ میں استحکام کو ’یقینی‘ بنا سکتی ہے۔

Theresa May and Dany Cotton, Commissioner of the London Fire Brigade تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

14 جون 2017 کو وزیر اعظم ٹریزا مے کو اس وقت ایک بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑا جب لندن میں گرینفِل ٹاؤر نامی کئی منزلہ سرکاری رہائشی عمارت میں آتشزدگی میں 72 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس تصویر میں وہ لندن فائر برگیڈ کے افسران سے بات کر رہی ہیں۔

Theresa May handed a P45 form تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اکتوبر 2017 میں جب مانچسٹر میں کنزرویٹو پارٹی کی سالانہ کانفرنس ہوئی تو اس وقت بھی ٹریزا مے کو بریگزٹ کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا تھا۔ اس تصویر میں کامیڈین سائمن بروڈکِن ٹریزا مے کو فارم ’پی 45‘ دکھا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں جب کسی ادارے کے ساتھ آپ کی ملازمت ختم ہوتی ہے تو آپ کو ’پی 45‘ فارم دیا جاتا ہے۔

Theresa May تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بریگزٹ معاہدہے میں بار بار ناکامی کے تناظر میں ٹریزا مے کی اکتوبر 2017 کی یہ تصویر بہت زیادہ استعمال کی گئی جس میں وہ برسلز میں یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک سے ملاقات کے موقع پر بیزار بیٹھی ہیں۔

Theresa May dancing تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیاسی ہنگامہ خیزی کے دنوں میں اکتوبر 2018 کی سالانہ پارٹی کانفرنس کے موقع پر لی جانے والی یہ تصویر اس لحاظ سے خاصی مشہور ہوئی کہ ٹریزا مے ماضی کے میوزک بینڈ ’ایبا‘ کے مشہور گانے ’ڈانسِنگ کوین‘ کی دھن پر رقص کرتے ہوئے سٹیج پر آئیں۔

Theresa May تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

14 نومبر 2018 کو ٹریزا مے نے اپنی کابینہ کے مختلف وزیروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن کا مقصد انہیں 585 صفحات پر مشتمل ایک معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لینا تھا۔ یورپی یونین سے انخلاء کا یہ معاہدہ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد طے پایا تھا، لیکن اس پر تمام فریق متفق نہ ہو سکے۔

دسمبر 2018 میں آخر کار ٹریزا مے کے بریگزٹ معاہدے پر ارکان پارلیمان رائے شماری کے لیے تیار ہو گئے، لیکن ٹریزا مے کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ان کے معاہدے کو ’خاصے بڑے فرق سے مسترد کر دیا جائے گا۔‘ اس خدشے کے تحت انہوں نے رائے شماری اس وقت تک ملتوی کر دی جب تک وہ واپس برسلز جا کر یورپی یونین سے معاہدے میں مزید تبدیلیاں نہیں کروا لیتیں۔

Theresa May in Parliament تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اور پھر 13 مارچ 2019 کو پارلیمان میں ٹریزا مے کے منصوبے پر رائے شماری ہوئی، لیکن اس میں ان کے منصوبے کو ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا گیا، اس وقت بریگزٹ معاہدے کی حتمی تاریخ میں صرف 17 دن باقی بچے تھے۔ اس کے بعد ٹریزا مے کو تیسری رائے شماری میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعے کو ٹریزا مے کے استعفے کے اعلان کے بعد برطانیہ میں عوام کی نظریں اس پر لگیں ہوئی ہیں کہ آئندہ وزیر اعظم کون ہوگا اور بریگزٹ کا کیا ہوگا۔

۔

اسی بارے میں