’امریکی طالبان‘ جان واکر کی رہائی پر امریکہ میں غم وغصہ

امریکی طالبان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'امریکی طالبان' کہے جانے والے جان واکر لندھ کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے جبکہ اس عمل کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 'خلافِ ضمیر' قرار دیا ہے۔

جان واکر کو سنہ 2001 میں افغانستان میں لڑائی کے دوران پکڑا گیا تھا اور انھیں 20 سال قید کی سزا دی گئی تھی جس میں سے 17 سال قید وہ کاٹ چکے ہیں۔

سزا کی تکمیل سے قبل ان کی رہائی پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔ بہت سارے لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ ابھی بھی شدت پسند خیالات رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے

افغانستان: جنگی جرائم کی تحقیقات مسترد

امریکہ افغانستان سے کیوں نکل رہا ہے؟

امریکہ: قیدی کو تجرباتی ٹیکے سے سزائے موت

امریکی صدر ٹرمپ نے جان واکر کی رہائی کے بارے میں کہا کہ 'مجھے یہ (بات) بالکل پسند نہیں آئی' اور انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت جان پر 'کڑی نظر رکھے گی۔'

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'قانونی نقطۂ نظر سے، ہمیں کچھ نہیں کر سکتے۔'

جمعرات کو امریکہ کہ ایک نجی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مائیک مومپیو نے کہا کہ یہ عمل 'غلط اور بہت پریشان کن ہے۔'

انھوں نے کہا کہ جان واکر 'ابھی بھی امریکہ کو دھمکیاں دیتا ہے' اور وہ ' ابھی بھی اس جہاد کے ساتھ مخلص ہے جس میں وہ مشغول تھا۔'

جان کے وکیل بل کمنگز نے سی این این کو بتایا کہ ان کے موکل انڈیانا کی جیل سے ورجینیا منتقل ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے پروبیشن افسر کے احکامات کے مطابق رہیں گے۔

جان واکر لندھ کون ہیں؟

امریکی نژاد جان واکر کو نائن الیون کے حملے کے بعد افغانستان سے حراست میں لیا گیا تھا۔ انھیں اور سینکڑوں دیگر افراد کو دہشت گردی، غداری اور جرائم کے باعث جیل بھجوایا گیا تھا۔

وہ سنہ 1981 میں واشنگٹن ڈی سی کے ایک کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا نام جان لینن سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا۔

انھوں نے 16 برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر عربی سیکھنے کے لیے یمن چلے گئے۔

وہ سنہ 2000 میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان گئے اور پھر مئی 2001 میں طالبان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے افغانستان پہنچے۔

سنہ 2002 میں انھیں طالبان کی معاونت کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا اور 20 برس قید کی سزا ملی تھی جس کے 17 سال پورے کرنے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔

اس کے بعد انھیں ’غدار‘ کے طور پر جانا گیا۔ اب ان کی رہائی پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو ‘امریکی طالبان‘ کہے جانے والے اس شخص کی رہائی نے اس بات کی عکاسی کی ہے کہ امریکہ نے ان لوگوں کی رہائی سے متعلق کتنی کم تیاری کر رکھی ہے۔

جان واکر کی عمر 38 برس ہے۔ رہائی کے بعد بھی ان پر چند پابندیاں رہیں گی۔ وہ بغیر خصوصی اجازت کے انٹرنیٹ استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی آزادانہ طور پر سفر کر سکیں گے۔

جان واکر نے قید کے دوران ہی آئرلینڈ کی شہریت حاصل کر لی تھی۔ ان کی دادی کا تعلق آئرلینڈ سے تھا اور جب ان پر عائد سفری پابندیاں ہٹ جائیں گی تو وہ آئرلینڈ جا سکیں گے۔

ان کی جیل سے رہائی کے بعد وہ جانیں گے کہ دنیا میں کس قدر ڈرامائی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ انھیں روزمرہ کی چیزوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا مثال کے طور پر یہ کہ موبائل فون کیسے استعمال کرنا ہے۔

وہ اب اس معاشرے کا سامنا بھی کریں گے جس نے ان کی جیل سے رہائی کے بارے میں بہت کم تیاری کر رکھی ہے۔

امریکی سائنس دانوں کی فیڈریشن سے منسلک سٹیو آفٹر گڈ نیشنل سکیورٹی کے ماہر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایسے افراد کی مزید مدد کرنی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے نظام انصاف میں ہم کہتے ہیں کہ ’تم مجرم ہو اور ہماری طرح نہیں۔‘

لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ کہے کہ ’تمھارے لیے ہماری دنیا میں جگہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption (فائل فوٹو)

جان واکر وہ پہلے شخص نہیں ہیں جو ایسے جرائم میں طویل قید کے بعد رہا ہو کر معاشرے میں لوٹ رہے ہیں جنھیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان الزامات کے بعد رہا ہونے والے دیگر افراد کی طرح اب جان والکر کو بھی جیل سے باہر کی زندگی کے خدشات کا سامنا ہے۔

سنہ 2001 کے بعد سے تین ہزار امریکی شہریوں کو شدت پسندی سے متعلق جرائم کا مرتکب پایا جا چکا ہے۔

واشنگٹن میں قائم تھِنک ٹینک ’نیو امیرکن فاؤنڈیشن‘ کے اعداد وشمار کے مطابق ان تین ہزار جہادی ملزموں کے علاوہ درجنوں ایسے افراد بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ چینی حکومت کو راز فروخت کرتے رہے ہیں یا دیگر ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جن سے امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

کچھ افراد کو عارضی رہائی (پیرول) کا حق مل جانے کے باوجود عمر قید میں رکھا جا رہا ہے۔ تاہم ایسے افراد کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے جنھیں یا تو رہا کیا جا چکا ہے یا کسی وقت کر دیا جائے گا۔

جب جان واکر لنڈ جیل سے باہر نکلیں گے تو وہ اپنے جیل کے دوستوں کے رنگا رنگ حلقے سے بھی ملیں گے جو رہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکی صدر ریگن پر قاتلانہ حملہ کرنے والے جان ہنکلے کو عشروں کی قید کے بعد سنہ 2016 میں نفسیاتی امراض کے مرکز سے رہا کر دیا گیا تھا۔ جان ہنکلے کی عمر اب 63 برس ہو گئی ہے اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرکز سے رہائی کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ ورجینیا منتقل ہو گئے تھے لیکن انھیں کوئی نیا رشتہ قائم کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح فیصل غالب، جن کا تعلق ریاست پینسلوینیا کے مشہور لیکوانا گروپ سے بتایا جاتا ہے، کو بھی دہشت گردی سے متعلق الزامات کی پاداش میں سات برس قید کی سزا ملی تھی۔ سنہ 2008 میں انھیں رہا کیا گیا اور وہ انڈیانا کی اسی جیل میں قید تھے جس میں جان والکر قید ہیں اور وہاں سے انھیں بھی ڈیٹرائٹ سینٹر میں منتقل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2001 میں جان واکر کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا۔ تصویر میں وہ بائیں جانب ہیں جبکہ دائیں جانب افغان سکیورٹی اہلکار ہے

’ان کا قرض معاشرے کو ادا کرو‘

ان میں سے ہر ایک کا کیس مختلف ہے، لیکن مجموعی طور پر ان پر ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ کیا جن لوگوں نے قابل ملامت جرائم کا ارتکاب کیا ہو، چاہے وہ دہشت گردی کے الزامات ہوں یا پھر قومی سلامتی کے لیے خطرہ، کیا سزا کے ختم ہونے کے بعد ان افراد کا معاشرے میں خیرمقدم کیا جانا چاہیے؟

اگر ہاں تو پھر انھیں کیسے خوش آمدید کہا جانا چاہیے یا پھر کم از کم معاشرے میں انہیں شامل کیسے کیا جائے؟

قانونی طور پر بات کی جائے تو یہ بہت سیدھا سا معاملہ ہے۔ جو لوگ اپنی سزا کاٹ چکے ہیں وہ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ دوبارہ مل سکتے ہیں اور اپنی زندگی دوبارہ شروع سکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ سے منسلک جان سٹفٹن کہتے ہیں کہ جس شخص نے اپنا قرض چکا دیا ہے وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ لیکن ایسے افراد اپنی زندگی دوبارہ کیسے شروع کرتے ہیں، یہ ہر شخص کے لیے مختلف ہوگا اور اس لحاظ سے ہر ایک کو مختلف پابندیوں کا سامنا ہو گا۔

امریکی حکومت کے پاس سرکاری طور پر کوئی ایسا پروگرام یا طریقہ کار نہیں جس سے رہا ہونے والوں کو باہر کی دنیا میں اپنا راستہ تلاش کرنے میں مدد دی جا سکے۔

معاشرے میں شامل ہونے کو تیار؟

ان کو سزا دیے جانے کے بعد ہم نے جان واکر کی واحد جھلک سنہ 2012 میں اس وقت دیکھی تھی جب وہ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ انھوں نے قیدیوں والا لباس پہن رکھا تھا اور سر پر نماز کے لیے سفید ٹوپی احتجاجاً پہن رکھی تھی کیونکہ گروپ کی شکل میں نماز پڑھنا قانونی طور پر منع تھا۔

انھوں نے کہا تھا ’میں سمجھتا ہوں یہ لازم ہے کہ آپ کو نماز با جماعت ادا کرنی چاہیے اور اگر آپ نہیں کرتے تو یہ ایک گناہ ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا ’اگر ہمیں اجتماعی طور پر نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو اس میں قانونی طور پر سکیورٹی کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہ بالکل مضحکہ خیز ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption (فائل فوٹو)

لیکن دوسری جانب امریکی حکومت نے عدالتی دستاویزات میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ جان والکر نے عربی میں خطبہ دیتے ہوئے بنیاد پرستانہ باتیں کی تھیں۔

اسی طرح افشا ہونے والی دستاویزات جو کہ فارن پالیسی میگزین میں سنہ 2017 میں شائع ہوئی تھی، اس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جان واکر نے انتہا پسندی پر مبنی مواد لکھا اور اس کا ترجمہ کیا۔

کچھ امریکی سینیٹرز نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا جیلوں کے عملے اور پیرول افسران کو بنیاد پرستی اور جرم کی جانب دوبارہ راغب ہونے والی علامات کو پہنچاننے کے لیے مناسب مدد فراہم کی جا رہی ہے یا نہیں۔

ایک رپبلکن اور ایک ڈیموکریٹ رہنما نے قید خانوں کے ڈائریکٹر کے نام لکھے ایک مشترکہ خط میں یہ ذکر کیا کہ ملک کی جیلوں میں 108 ایسے قیدی موجود ہیں جو دہشت گردی کے جرم میں ملوث تھے اور انھیں اگلے کچھ برسوں میں رہائی مل جائے گی۔

انھوں نے لکھا کہ ’عوامی سطح پر ایسی معلومات بہت کم ہیں کہ ان مجرموں میں سے کسے، کب اور کہاں رہا کیا جائے گا۔ اور یہ کہ کیا یہ لوگ عوام کے لیے خطرہ ہیں اور کون سی وفاقی ایجنسیاں ان کی قید کے دوران اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کام کرتی ہیں۔'

لیکن انسداد دہشتگردی کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ نظام چاہے کتنا بھی غیر منظم سہی، کام کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ جان واکر کو اپنی سزا پوری کرنی چاہیے تھی۔

بروکنگ انسٹی ٹیوٹ میں سینئیر فیلو ڈینئیل بیمین کہتے ہیں کہ ایک ایسا فرد جو دہشت گردی کا جرم کرے اور پھر اسے جیل سے رہا کر دیا جائے، اس کی بہت نگرانی کی جاتی ہے۔

تاہم دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ جان والکر جیل میں اپنا وقت پورا کر چکے ہیں۔

جیسلین راڈک اس وقت افغانستان میں امریکی محکمہ انصاف میں بطور اٹارنی کام کر رہی تھیں جب جان والکر کو وہاں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ سمجھتی ہیں کہ والکر کو بہت سخت سزا دی گئی ہے۔

اب وہ کہتی ہیں ’مجھے امید ہے کہ وہ باہر آ کر خاموشی سے اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں گے۔‘

اسی بارے میں