بریگزٹ میں ناکامی: برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے کا سات جون کو مستعفی ہونے کا اعلان

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹریزا مے نے کہا کہ انھوں نے ارکان پارلیمان کو قائل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں

برطانیہ کی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے سات جون کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعے کو لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر اپنے خطاب میں برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے ’شدید پشیمانی‘ کی بات ہے کہ وہ بریگزٹ نہیں کروا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘میری وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی یہ کوشش رہی کہ برطانیہ صرف چند لوگوں کو فائدہ نہ دے بلکہ سب کے لیے ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

بریگزٹ اکتوبر تک موخر کرنے پر اتفاق

بریگزٹ: ٹسک کی برطانیہ کو ایک سال کی مہلت دینے کی تجویز

بریگزٹ میں تاخیر کے لیے قرارداد ایک ووٹ سے کامیاب

بنا معاہدے کے بریگزٹ سے اب بھی بچا جا سکتا ہے‘

ان کا کہنا تھا ’میں نے ریفرینڈم کے نتائج کو عزت دینے کی کوشش کی‘ اور ’ہمارے انخلا کے لیے شرائط پر مذاکرات کیے۔‘

ٹریزا مے نے کہا کہ ’میں نے ارکان پارلیمان کو قائل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں لیکن افسوس میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔‘

انھوں نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واضح ہو چکا ہے کہ برطانیہ کے بہترین مفاد میں یہی بہتر ہے کہ کوئی نیا وزیر اعظم ملک کی قیادت کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں آج یہ اعلان کر رہی ہوں کہ میں سات جون کو کنزرویٹو پارٹی کے قائد کی حیثیت سے مستعفی ہو رہی ہوں۔‘

برطانوی وزیراعظم نے کہا ’میں نے پارٹی کے چیئرمین سے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ ہفتے نئے وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل شروع ہو جائے گا۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے بعد آنے والا وزیرِ اعظم شاید بریگزٹ پر اتفاق رائے حاصل کر لے تاہم ان کا کہنا تھا ’اتفاق رائے اسی وقت ہو گا جب فریقین سمجھوتہ کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپنے بیان کے اختتام پر برطانوی وزیر اعظم آبدیدہ ہو گئیں

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھے گذشتہ چند برسوں میں ہونے والی پیش رفت پر فخر ہے۔ ہم نے کئی لوگوں کی ملازمتیں بچانے میں ان کی مدد کی۔‘

اپنے بیان کے اختتام پر برطانوی وزیر اعظم آبدیدہ ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہماری سیاست کشیدگی کا شکار ہے لیکن ہمارے ملک میں بہت کچھ اچھا بھی ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔‘

’میں جلد ہی وہ کام چھوڑ دوں گی جو میری زندگی کا فخر رہا۔‘ وہ یہ کہتے ہوئے گلوگیر ہو گئیں کہ ’میں اس ملک کی خدمت کرنے پر شکر گزار ہوں جس سے میں محبت کرتی ہوں۔‘

بریگزٹ کا معاملہ

یاد رہے کہ یورپین کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ کی ’لچکدار توسیع‘ پر اتفاق کیا تھا۔

ٹریزا مے نے نومبر 2018 میں یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر اتفاق کر لیا تھا مگر اس معاہدے کو دو مرتبہ برطانوی پارلیمان میں مسترد کیا گیا جبکہ اس کے بعد صرف علیحدگی کے معاہدے کو 58 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

پارلیمانی ارکان نے بریگزٹ پر آمادگی ظاہر کرنے کے لیے دو مرتبہ ووٹنگ بھی کروائی مگر کسی بھی معاہدے کو اکثریت نہ ملی۔

برطانیہ نے 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنی تھی لیکن ٹریزا مے نے یہ جانتے ہوئے مختصر توسیع پر اتفاق کیا کہ پارلیمان ڈیڈلائن تک معاہدے پر رضامند نہیں ہو گی۔

بریگزٹ سے متعلق اہم واقعات کی ٹائم لائن

جون 2016: ریفرینڈم میں برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

نومبر 2018: برطانیہ کا اخراج کے معاہدے اور یورپی یونین سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں لائحہ عمل پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔

دسمبر 2018: ٹریزا مے نے یورپی اتحاد کو مزید یقین دہانی کروانے کے لیے پہلے 'میننگ فُل ووٹ' ملتوی کر دیا۔

سنہ 2019:

15 جنوری: دارالعوام نے بریگزٹ معاہدے کو 239 ووٹوں سے مسترد کر دیا۔

13 مارچ: پارلیمانی ارکان نے دوسری مرتبہ 149 ووٹوں سے بریگزٹ معاہدے کو مسترد کر دیا۔

22 مارچ: یورپی اتحاد نے بریگزٹ میں 29 مارچ سے آگے تک تاخیر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن برطانیہ کی طرف سے ایک ہفتے تک معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں 12 اپریل تک تاخیر کی جائے گی۔

29 مارچ: پارلیمانی ارکان نے 58 ووٹوں سے اخراج کا معاہدہ مسترد کر دیا۔

2 اپریل: برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ یورپی اتحاد سے مزید 'مختصر توسیع' حاصل کریں گی۔

11 اپریل: یورپین کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک کے بقول برطانیہ اور یورپی یونین نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ کی ’لچکدار توسیع‘ پر اتفاق کر لیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں