آسٹریا: اعلیٰ عہدیدار، خاتون اور خفیہ کیمرہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سنہ 2017 میں ریکارڈ کی گئی وڈیو آئبیزا میں ریکارڈ کی گئی

ہسپانوی جزیرے آئبیزا کے پرتعیش ولا میں گرمیوں کی رات۔

کھانے میں سی بیس مچھلی، کارپاکاؤ اور ٹیونا مچھلی کے ساتھ ٹارٹار ساس، ساتھ شیمپین، ووڈکا اور بہت ساری ریڈ بُل، آسٹریا کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان ہائنز کرسٹین سٹراکے کے پسندیدہ مشروب میں سے ایک۔

وہ ولا میں ایک دلکش دوشیزہ سے ملنے گئے جو کالے رنگ کا ڈیزائنر لباس پہنے ہوئے تھیں اور ساتھ اونچی ہیلز تھیں اور بقول اُن کے وہ ایک امیر کبیر روسی آیگور ماکاروف کی بھتیجی تھیں۔

آسٹرین سیاست دان سٹراکے بہت پُرجوش تھے صرف اس لیے نہیں کہ وہ ایک خاتون سے مل رہے تھے جن کو اُنہوں نے'ہاٹ' کہا مگر اس لیے بھی کیونکہ وہ ایسی تجاویز لے کر آئی تھیں جن میں کچھ خلاف قاعدہ سودوں کے بدلے انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کو مدد ملنا تھی۔

مگر آئیگور ماکاروف کی کوئی بھتیجی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہائنز کرسٹین سٹراکے ایک پروگرام میں اُس رہنما کے ساتھ ایک پروگرام میں نظر آئے جو وڈیو میں بھی تھے۔

جولائی 2017 کی اُس شام میں مرسیڈیز مےبیخ اور بی ایم ڈبلیو ایم 4 سپورٹس گاڑی بھی تھی جو آسٹرین سیاستدان کو پھنسانے کے لمبے چوڑے منصوبے کا حصہ تھی اور ہائنز کرسٹین سٹراکے اس جھانسے میں آگئے۔

اس سب کو خفیہ طور پر فلم کیا گیا اور بظاہر بھرپور تیاری اور پیسے لگا کر کیا گیا۔ پچھلے ہفتے دو جرمن اخباروں نے اس خبر کو شائع کیا۔

ایک اخبار سُڈ ڈوئچے زائیٹنگ کا کہنا ہے کہ خفیہ کیمرے اور مائیکروفون بجلی کے سوئچ اور موبائیل فون چارج کرنے کے سٹیشن میں لگائے گئے تھے۔

مائیکروفون نے ملاقات میں 'ہر بولے گئے لفظ کو ریکارڈ کیا'، اخبار کے مطابق یہ ملاقات سات گھنٹے جاری رہی۔

اس سکینڈل کے بعد اور ' آئیبیزا گیٹ' وڈیو کے شائع ہونے کے بعد نہ صرف آسٹریا کے وائس چانسلر سٹراکے نے استعفی دیا بلکہ ملک میں فریڈم پارٹی اور قدامت پسند چانسلر سبیسٹین کروز کی مخلوط حکومت گر گئی ہے۔

ویڈیو کے ذریعے پھانسنے کے منصوبے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟

آسٹریا میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں لیکن کسی کے پاس جواب نہیں ہے۔ اخبارات سُڈ ڈوئچے زائیٹنگ اور ڈار سپیگل نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ ویڈیو کس سے حاصل کی گئی۔

استعفی دیتے ہوئے اپنے تقریر میں ہائنز کرسٹین سٹراکے نے کہا کہ وہ 'منصوبے کے تحت کیے گئے سیاسی حملے' کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو 'ہنی ٹریپ تھی جو خفیہ اداروں کے اشاروں پر ہوئی'۔

مگر انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اُن کو کس خفیہ ادارے پر شک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسٹریا کے چانسلر سبیسٹین کروز کی مخلوط حکومت اس سکینڈل کے بعد گر گئی

کیا روس بھی ملوث ہوسکتا ہے؟

اس معاملے میں ممکنہ روسی عمل دخل کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ویڈیو میں موجود خاتون روسی کاروباری شخصیت کی بھتیجی ہونے کا روپ دھارے نظر آئیں۔

کریملن نے اس وڈیو سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عجیب بات ہوگی کہ روس اس کے پیچھے ہو کیونکہ اُس کے فریڈم پارٹی کے ساتھ اچھے روابط ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے ساتھ تعاون کا سمجھوتہ بھی ہے۔

مبصرین کے مطابق اس ویڈیو کو شائع کرنے کے پیچھے روس کا آسٹریا اور یورپی سیاست میں اثر و رسوخ کا خوف ہے وہ بھی ایسے وقت جب یورپی انتخابات ہو رہے ہیں جن میں قوم پرست جماعتوں کو برتری حاصل ہونے کی امید ہے۔

مگر 2017 میں بنائی گئی یہ ویڈیو اس وقت کیوں منظر عام پر آئی ہے۔ کچھ حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کا بیرونی طاقتوں کے عمل دخل سے کوئی تعلق نہیں بلکہ آسٹریا کے اندرونی معاملات سے ہے۔ فی الحال اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ ایک معمہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں