ہوشیار! ساحلوں پر نصب چھتریاں آپ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں

بیچ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گرمیوں کی سہپہر کو ساحل سمندر پر کسی چھتری کے نیچے گزارنے سے بہتر شاید کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔ لیکن جوناتھن بر کا کہنا ہے کہ بعض بدقسمتوں کے لیے ہوا کا ایک جھونکا دھوپ کی سرمستی کو برے خواب میں بدل سکتا ہے۔

ایڈ کوئگلی چار سال قبل امریکی ریاست ڈیلاویئر کے بیتھنی بیچ پر چار جولائی کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ جشن منا رہے تھے کہ ساحل پر نصب ایک چھتری اڑی اور اس کی کمانی ان کی بائیں آنکھ میں گھستے ہوئے دماغ تک پہنچ گئی۔

اس حادثے میں نہ صرف ان کی بینائی چلی گئی بلکہ ان کے دماغ کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا جس سے سونگھنے اور چکھنے کی حسیں بھی جاتی رہیں اور نتیجے میں عمر بھر کے لیے ان کے کھانے اور پینے کا لطف بھی جاتا رہا جو ان کی زندگی کا ایک اہم شوق تھا۔

یہ بھی پڑھیے

شراب نوشی کے لیے مصنوعی جزیرہ تعمیر کر لیا

سڈنی کے ساحل پر مجسموں کی سالانہ نمائش

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'اب جب میں کسی ریستوران میں جاتا ہوں تو میں اس چیز کا آرڈر دیتا ہوں جس کے بارے میں مجھے یاد ہے کہ وہ کبھی مجھے پسند ہوا کرتی تھی۔'

اب انھوں نے خود کو چھتریوں سے محفوظ رکھنے کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا: 'میں اپنے حادثے سے قبل اس کے خطرات سے ناواقف تھا۔ لیکن اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ہر سال ہزاروں لوگ اس طرح زخمی ہوتے ہیں اور زیادہ تر معاملوں کو درج نہیں کرایا جاتا۔'

مہلک نتائج

امریکہ کی کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن (سی پی ایس سی) کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2008 سے سنہ 2017 کے درمیان چھتری سے منسلک زخموں کے لیے 31 ہزار افراد کا ہسپتال میں علاج ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUBMITTED PHOTO
Image caption ایک چھتری ایڈ کی آنکھوں ایس گھسی کہ آنکھ کی روشنی تو گئی ان کی قوت شامہ اور قوت ذائقہ بھی جاتی رہی

چھتریوں سے آنے والے بعض زخم نسبتا معمولی تھے۔ رواں سال اپریل میں مائرٹل بیچ پر ریڈیو پریزینٹر کرس ڈیم کے سر پر ایک اڑتی ہوئی چھتری سے چوٹ لگی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'مجھے دوسری چیز جو یاد ہے کہ میں دوسرے ہی لمحے ریت پر تھا اور میرے سر کے بائیں حصے میں درد ہو رہا تھا۔' انھوں نے بتایا کہ وہ چھتری سے تقریبا 25 فٹ کی دوری پر کھڑے تھے اور انھوں نے واقعی 'چھتری کو آتے نہیں دیکھا۔'

کرس ڈیم خوش قسمت تھے۔ گذشتہ سال لندن کی رہائشی مارگریٹ رینالڈز نیو جرسی کے ساحل پر تھیں کہ ایک دھات کی چھتری ان کے ٹخنے کو چیرتی ہوئی دوسری جانب نکل آئی۔ پہلے پہل پہنچنے والوں نے اسے لوہے کے بولٹ کاٹنے والے اوزار سے کاٹ کر نکالا۔

سنہ 1999 میں فائیلس کیلیانو بہاج کو ایک چھتری اس وقت تارپیڈو کی طرح آ کر لگی جب وہ اپنے آٹھ سالہ بیٹے کے ساتھ ساحل سمندر پر ٹہل رہی تھیں۔ ان کو 13 ٹانکے لگے اور گردن کے اعصاب کو مستقل نقصان ہوا۔ ریاست نیویارک نے سنہ 2006 میں ان کے دو لاکھ ڈالر کے مقدمے کا تصفیہ کیا۔

ساحل پر لگی چھتریوں سے کم از کم ایک موت واقع ہو چکی ہے۔ سنہ 2016 میں لوٹی مائيکل بیلک جب ورجینیا بیچ پر چھٹیاں گزار رہی تھیں تو ایک آفتابی چھتری ان کے جسم میں گھس گئی اور اس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

ان کی موت نے ساحل پر چھتریوں کی سیفٹی کے لیے سخت ہدایت نامے جاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

مزید جانچ کی ضرورت

امریکی سینیٹرز باب میہینڈیز (ڈی-این جے) اور مارک ورانر (ڈی-وی اے) نے سی پی ایس سی سے ایک تازہ خط کے ذریعے ساحل پر چھتریوں سے آنے والی چوٹوں کی مخصوص رپورٹ طلب کی ہے۔

انھوں نے سی پی ایس سی سے چھتریوں کو مزید محفوظ بنانے کی تجویز دینے اور خطرناک چھتریوں کے بارے میں وارننگ جاری کرنے کے لیے کہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رواں سال کی ابتدا میں سینیٹروں نے لکھا: 'آپ کو معلوم ہے کہ ساحل پر موجود چھتریاں ساحل پر جانے والوں کو گرمی اور دھوپ سے راحت پہنچانے کے لیے ہیں لیکن ہوا کے تیز جھونکے سے یہ آس پاس کے لوگوں کے لیے کلفت کا سبب بھی ہو سکتی ہیں۔'

سی پی ایس سی نے ابھی تک سینیٹروں کے خط کا جواب نہیں دیا ہے اور انھیں جواب کے لیے جون تک کا وقت دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نام ایک ای میل میں سی پی ایس سی کی ترجمان نے کہا کہ ایجنسی اس مسئلے سے آگاہ ہے اور وہاں جانے والے صارفین پر زور دیتی ہے کہ وہ ان چھتریوں سے محتاط رہیں۔ انھوں نے مزید تفصیل دینے سے انکار کیا۔

دھوپ سے حفاظت

اس صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے صارفین چھتریوں کو ریت میں ٹھیک سے نہیں گاڑتے ہیں اور انھیں اس وقت تک یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ خطرناک ہے جب تک کہ کوئی ہوا کا جھونکا انھیں اڑا نہیں لے جاتا۔

چھتری بنانے والی مختلف کمپنیاں ہوادار دن میں چھتریوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف طریقے اپناتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بعض ریت میں گہرے کھود کر دھات کے لنگر اور سکریو سے کس کر اسے محفوظ بنانے کے حق میں ہیں۔ جبکہ بعض چھتریوں کے جڑ پر وزن رکھنے کی حامی ہیں۔ کنزیومر رپورٹ کی سنہ 2016 کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں طریقے مؤثر ہیں۔

بیچ بب کے صدر بل شرمرہارن نے ایک ایسی چھتری ایجاد کی ہے جس کے پیندے کو ریت سے بھر کر اسے دبائے رکھا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بیچ پر لگی چھتریاں کسی کی جان لینے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'اگر آپ کسی کوہستانی راستے پر گاڑی چلا رہے ہوں اور کوئی بڑا پتھر لڑھکتا ہوا آئے اور آپ کی گاڑی سے ٹکرا جائے تو یہ قدرتی حادثہ ہے لیکن اگر کوئی چھتری اکھڑ کر ساحل پر لڑھکتی چلی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کسی نے اس چھتری کو ٹھیک سے نصب نہیں کیا تھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں