قطر کو سعودی عرب کی طرف سے مکہ اجلاس میں شرکت کی دعوت

تميم بن حمد الثانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جون 2017 میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب عمارات اور مصر نے قطر کا بائیکاٹ کر کے اس پر معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کر دیں

قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کو سعودی عرب کی جانب سے 30 مئی کو مکہ میں ہونے والے خلیجی تعاون کونسل گلف (جی سی سی) کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت آئی ہے۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کو دونوں ممالک کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز السعود‎ نے قطر کے امیر تميم بن حمد الثانی کے لیے تحریری پیغام دیا ہے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل قطر کا کہنا تھا کہ ان کو جی سی سی کے کسی اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی قطر تنازع: ’بیٹیوں کا نام ال سعودی اور قطر‘

قطر خلیجی ممالک کو کھٹکتا کیوں ہے؟

قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

19 مئی کو شاہ سلمان نے مکہ میں دو اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں اس خطے میں ہونے والے تناؤ اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی کے مسائل کو زیر بحث لانے کی بات کی گئی تھی۔

اس بیان سے کچھ روز قبل سعودی عرب کی تیل بردار گاڑیوں اور تنصیبات پر ڈرون کے ذریعے حملے کیے گئے۔ اسی طرح 26 مئی کو بھی سعودی عرب کا کہنا تھا کہ انھوں نے یمن کے حوثی باغیوں کا ایک ڈرون مار گرایا جو کہ ان کے ایک ہوائی اڈے پر بمباری کرنے بھیجا گیا تھا۔

سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام ایران پر لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے سعودی عرب پر وار کر رہا ہے، جبکہ ایران نے اس طرح کے تمام الزامات کو رد کر دیا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک سے آنے والے بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ جنگ نہیں چاہتے، لیکن کسی قسم کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

حال میں مشرق وسطیٰ کے حالات میں خاص کشیدگی آئی ہے۔ امریکہ نے مئی کے شروعات میں ایران کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے باعث اس خطے میں اپنے جنگی طیاروں سمیت دیگر جنگی سازو سامان بھی بھیجا ہے۔

1981 میں وجود میں آنے والا جی سی سی بحرین، کویت، عمان، متحدہ عرب عمارات، قطر اور سعودی عرب کے چھ ممالک پر مشتمل ہے۔ اس کونسل کا مقصد اس خطے میں سیاسی اور اقتصادی عرب اتحاد کو محفوظ رکھنا تھا، لیکن جون 2017 میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب عمارات اور مصر نے قطر کا بائیکاٹ کر کے اس پر معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

انھوں نے قطر پر دہشت گردی اور کالعدم سیاسی تنظیموں کی حمایت کرنے کے الزامات لگائے ہیں، جن کی قطر نے تردید کی ہے۔ سعودی عرب کا اشارہ بنیادی طور پر دوحہ اور تہران کے بیچ دوستی کی طرف رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں