ایران اپنی موجودہ قیادت کے ساتھ عظیم ملک بن سکتا ہے: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران کے معاہدے کا امکان موجود ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی نہیں چاہتے۔

صدر ٹرمپ نے جاپان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران موجودہ قیادت کے ساتھ ہی ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کا ارادہ ترک کر دے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین کوئی معاہدہ طے پا جائے۔

ایران نے امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اس نے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری یورینیم کی افزودگی کو ختم کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرنے جا رہا ہے؟

پومپیو: امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہے

صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدہ کر لیا تھا۔

حالیہ ایام میں امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو ا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں بلکہ خطے میں اپنی فوجی طاقت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جس سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ ایران اپنے حواریوں کے ذریعے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایران امریکی الزامات کی تردید کرتا ہے۔

امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھا دیا ہے اور بحری بیڑے ابراہم لنکن کو خطے میں روانہ کیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافے کے بعد بعض حلقوں کے جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے جنگ کے حامی نہیں ہیں لیکن ان کی انتظامیہ میں شامل کچھ مشیر ایران کے ساتھ جنگ کے خواہاں ہیں۔

جنگ کے حامی امریکی مشیروں میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پامپیو کے نام لیا جاتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں دعوی کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو بتایا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کےحامی نہیں ہیں جس کے بعد جنگ کے حامی مشیر کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'امریکی صدر ٹرمپ بھی لڑائی نہیں چاہتے لیکن ان کے کچھ مشیر انھیں جنگ پر مجبور کر رہے ہیں۔‘

ریٹائرڈ امریکی جنرل ڈیوڈ پٹریاس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ایران کی آبادی اور اس کا حجم وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایران پر حملہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا اگرچہ وہ نہیں سمجھتے کہ جنگ ہونے والی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں