الشباب کی خفیہ تنظیم سٹالن کی خفیہ پولیس سے کم نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صومالیہ میں الشباب کو ختم کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں

صومالیہ کے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف بارہ برس تک اقوام متحدہ کی سرپرستی میں چلنے والی مہم کے باوجود وہ کسی حد تک اپنی جگہ موجود ہیں جس کی وجہ ان کے جاسوسوں کا بُنا ہوا جال ہے، بی بی سی کی میری ہارپر کا تجزیہ۔

اکثر جب میں صومالیہ سے برطانیہ لوٹتی ہوں تو مجھے الشباب کی طرف سے فون آتا ہے۔ عموماً یہ فون مجھے اپنے گھروں والوں سے رابطہ کرنے سے بھی پہلے آ جاتا ہے، جب میں ابھی ایئرپورٹ پر اپنے سامان کا یا گھر جانے کے لیے ٹیکسی کا انتظار کر رہی ہوتی ہوں۔

ایک مرتبہ جب میں جنوب مغربی صومالیہ کے قصبے بیدوا سے واپس لوٹی تو مجھے وہاں میری مصروفیات کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کی گئیں کہ میں کہاں کہاں گئی تھی، کس کس سے ملی اور میں نے کیا کیا۔

الشباب کے ایک رکن نے مجھے بتایا کہ 'آپ بینک گئیں لیکن وہ بند تھا، آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے کھولنے کی کوشش کی۔ آپ نے کچھ تصاویر لیں۔'

آپ کے باڈی گارڈز پیشہ ور لوگ نہیں تھے۔ بجائے اس کے وہ چوکس رہتے اور آپ پر نظر رکھتے وہ آپس میں گپ شپ کر رہے تھے اور ادھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے اور ان کی بندوقیں ان کے کندھوں پر جھول رہی تھیں۔'

میں نے جب ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ سب معلومات کیسے حاصل ہوئیں اور کس طرح وہ اتنی صحیح ہو سکتی ہیں تو مجھ سے رابطہ کرنے والے کا جواب تھا کہ ان کے دوست ہر جگہ ہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ میرے لیے یہ پریشان کن بات ہے کہ میرا اس طرح پیچھا کیا جاتا ہے تو جواب دیا گیا کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہمارے پاس اور بھی بہت اہم اہداف ہیں۔ لیکن وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ آپ کسی غلط وقت پر غلط جگہ ہو سکتی ہیں اور اس صورت میں آپ کو نتائج بھگتنا پڑے سکتے ہیں۔

وہ ہر جگہ موجود ہیں

میرے خیال میں جو لوگ صومالیہ میں میری نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں وہ الشباب کے بے رحم خفیہ دھڑے امنیات کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو معمولی دہاڑی پر میرے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوں گے۔

زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ شدت پسند جس کو بھرتی کرنا چاہتے ہیں اس پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور اس کو ہلاک کرنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'الشاب جنوں کی طرح ہیں۔ وہ ہر جگہ موجود رہتے ہیں' یہ کہنا تھا ایک دکاندار کا جو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں قائم صومالی حکومت اور افریقی یونین کی فورسزکو فریج اور ایئر کنڈشنرز بیچتے ہیں۔

الشباب سے منحرف ہونے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ ایک دن اُسے گروہ کے ایک رکن نے بلایا اور اُسے بتایا کہ فلاں دن وہ فلاں رنگ کی قمیض پہنے فلاں گلی سے گزرا تھا۔

کچھ اور لوگوں نے بتایا کہ دارالحکومت موگادیشو میں کس طرح شدت پسند ان کے گھروں یا کام کرنے کی جگہوں پر آئے اور انھیں الشباب میں شامل ہونے کے لیے ڈرایا دھمکایا۔ باوجود اس کے کہ وہ اگست دو ہزار گیارہ میں موگادیشو سے پسپا ہو چکے ہیں۔

صومالیہ کے صدر کے سابق مشیر اور موگادیشو کے ایک تھنک ٹینک کے رکن حسین شیخ علی کا کہنا تھا کہ 'امنیات اس تنظیم کی رگ جاں ہے۔ یہ بہت طاقتور اور بااختیار ہے۔ اگر امنیات کو ختم کردیا جائے تو پھر الشباب باقی نہیں رہ سکتی۔'

انھوں نے کہا کہ امنیات ایک خفیہ یونٹ سے بڑی چیز ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صومالیہ: الشباب نے ’11 شوہروں کی بیوی‘ سنگسار کردی

خواتین دہشت گردوں کا ہتھیار کیوں بنتی ہیں؟

صومالیہ کی واحد مفت ایمبولینس سروس کے بانی

'یہ حقیقتاً الشباب کو چلاتی ہے۔ خفیہ معلومات اکھٹی کرنے کے اپنے بنیادی کام کے علاوہ یہ حساس نوعیت کے سیکیورٹی معاملات کو بھی دیکھتی ہے۔ اگر الشباب کا کوئی اہم رکن زخمی یا بیمار ہو جاتا ہے تو امنیات اس کا خیال کرتی ہے۔ یہ نازک اور حساس نوعیت کی خفیہ معاملات کے لیے رقوم کا بندوبست کرتی ہے اور ملک کے اندر اور باہر تخریب کاری کی بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہے۔'

امنیات کے ارکان کو تنظیم کے باقی ارکان کی نسبت زیادہ بہتر تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ انھوں نے دور دور تک اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں جن میں ایسی جگہیں بھی شامل ہیں جن کو محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔

دشمن کے علاقے میں بے خوف

ایک مرتبہ میں سخت سیکیورٹی والے ہوائی اڈے سے باہر نہیں نکلی اور اس اڈے کے اندر ہی ٹھہری رہی تو ایک شدت پسند نے مجھے فون کر کے بتایا کہ انھیں علم تھا کہ وہ صومالیہ گئی تھیں۔

موگادیشو کے ایک تحقیق کار محمد مبارک کے مطابق امنیات کے اہلکاروں کی تعداد پانچ سو سے ایک ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کو دشمن کے علاقے میں رہنے کی پوری تربیت حاصل ہوتی ہے اور وہ زیادہ تر وقت بھی حکومت کے زیر اثر علاقوں میں گزارتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مبارک کے مطابق خواتین امنیات کے اراکین کو مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'خواتین امنیات کی مدد کرتی ہیں۔ وہ ان کے تنظیمی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں۔ الشباب کے ارکان کی خواتین انھیں رات گزارنے کے لیے جگہ اور کھانے کے علاوہ ان کی پیغام رسانی کرنے اور سامان ادھر سے اُدھر کرنے میں مدد کرتی ہیں۔'

امنیات ایک انتہائی خفیہ تنظیم ہے۔ اس کے ارکان ایک دوسرے سے بھی اپنی شناخت مخفی رکھتے ہیں۔ مبارک تفصیل سے بتاتے ہیں کہ کس طرح امنیات کے ایک سیل کو اس کے دوسرے سیل کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اکثر وہ آپس کی ملاقاتوں میں بھی اپنے چہرے ڈہانپ کر رکھتے ہیں اور ایک سیل کے لوگ بھی ایک دوسرے کی شکلیں نہیں پہچانتے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف ان کے لیڈر ہی ان کے چہرے پہچانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سٹالن کی خفیہ پولیس کی طرح

امنیات میں بہت سے مختلف شعبے ہیں۔ مرکزی شعبہ انٹیلی جنس اور کاونٹر انٹیلی جنس پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے جب کہ دوسرے شعبے تخریبی کارروائیوں کو دیکھتے ہیں۔

الشباب سے منحرف ہونے والے اس خوف کا شکار رہتے ہیں کہ وہ ان کا سراغ لگا لیں گے اور وہ پکڑے جائیں گے۔

بحالی کے مراکز میں موجود ایسے منحرف ارکین کا کہنا ہے کہ وہ صومالیہ سے نکل کر ہی الشباب کی پہنچ سے دور رہ سکتے ہیں۔

ایک شخص جو چھ سال تک الشباب کی کارروائیوں میں شامل رہا تھا اس کا کہنا تھا کہ الشباب انھیں فون کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ موگادیشو اور بیدوا جیسے بڑے شہروں میں روپوش ہونے کی کوشش کریں گے لیکن مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے ڈھونڈ لیں گے اور میں یورپ یا خلیج کے ممالک جا کر ہی بچ سکتا ہوں۔

امریکہ نے حالیہ مہینوں میں صومالیہ پر فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے لیکن الشباب کو ختم کرنے میں اسے شدید مشکل کا سامنا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امنیات کے زیادہ تر کارکن حکومت کے زیرِ اثر علاقوں میں عام لوگوں کی طرح رہتے ہیں اور ان کی نشاندھی کرنا بہت مشکل ہے۔

برطانیہ کے عالمی دہشت گردی کی انسدادی کارروائیوں کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ بارنٹ جو ان دنوں صومالیہ میں کام کرتے ہیں کہتے ہیں کہ امنیات الشباب کا اہم ترین شعبہ ہے جس کو ایک انتہائی موثر، سفاک اور منتظم تنظیم کے طور پر صومالیہ کے اندر اور باہر شہرت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ الشباب کی حکومت کے زیر اثر علاقوں میں کامیاب کارروائیوں کی ذمہ دار امنیات ہی ہوتی ہے۔ یہ سٹالن کی خفیہ پولیس کی طرح کی ایک تنظیم ہے جس کو وسیع اختیارات اور کارروائیاں کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں