جاپان: چاقو زنی کے واقعے میں بچی سمیت تین افراد ہلاک

جاپان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جائے حادثہ پر چاقو کے حملے کے شکار زخمیوں کے لیے طبی خیمے قائم کیے جا رہے ہیں

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے جنوب میں واقع شہر کاواساکی میں چاقو زنی کے واقعے میں ایک بچی سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے سکول بس کا انتظار کررہے تھے کہ ایک شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔

ہلاک ہونے والوں میں سکول کی طالبہ اور ایک 39 سالہ شخص شامل ہے جبکہ 18 افراد زخمی ہیں۔ کیوڈو نیوز سائٹ کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والوں میں سکول کی 16 طالبات شامل ہیں۔

مشتبہ شخص نے جس کی عمر 50 برس ہو گی، مبینہ طور پر اپنی گردن پر بھی چاقو سے وار کیا ۔ اسے بعد میں حراست میں لے لیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا اور چل بسا۔

حملے کے پس پشت مقصد کا علم نہیں ہو سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سنکیانگ: چاقو سے مسلح افراد کے حملے میں پانچ ہلاک

فرانس: مارسیے میں چاقو بردار کا حملہ، دو ہلاک

جاپان: دھماکوں میں ایک شخص ہلاک دو زخمی

سرکاری خبررساں ایجنسی این ایچ کے کے مطابق پولیس نے جائے حادثہ سے دو چاقو برآمد کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حائے حادثہ پر ایمرجنسی سروس فراہم کی جا رہی ہے

کاواساکی کے فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ منگل کی صبح سات بج کر 44 منٹ پر ایک ایمرجنسی کال آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سکول کی متعدد بچیوں کو چاقو سے مارا گیا ہے۔

ایک سکول بس ڈرائیور نے این ایچ کے کو بتایا کہ انھوں نے مشتبہ شخص کو بچوں کی ایک قطار کی جانب بڑھتے دیکھا تھا جو کاواساکی کے رہائشی علاقے میں پاس کے پرائیوٹ سکول کیریٹاس کی بس میں سوار ہونے کے منتظر تھے۔

ٹوکیو میں بی بی سی کے نمائندے روپرٹ ونگفیلڈ ہیز نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے بچوں کو چاقو مارنا شروع کردیا اور پھر بس میں داخل ہو گیا اور وہاں بھی کئی بچوں پر چاقو سے وار کیے۔

ایک عینی شاہد نے این ایچ کے کو بتایا: 'میں نے ایک شخص کو بس سٹاپ پر گرے ہوا دیکھا تھا اس کے بدن سے خون نکل رہا تھا۔'

انھوں نے مزید کہا: 'میں نے ایلمینٹری سکول کے بچوں کو بھی زمین پر لیٹا دیکھا۔۔۔ یہ ایک پرسکون علاقہ ہے، اور اس قسم کے واقعات دیکھنا بہت ڈراؤنا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی اطلاعات کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی گردن پر چار جگہ چاقو کے زخم تھے۔

مقامی اطلاعات کے مطابق مرنے والے مشتبہ حملہ آور کی گردن پر چار جگہ چاقو کے زخم تھے۔

مقامی نیوز چینل کی فوٹیج میں جائے حادثہ پر ایمرجنسی خدمات کو پہنچتے اور زخمیوں کے علاج کے لیے طبی خیمے قائم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو ان دنوں جاپان کے سرکاری دورے پر ہیں، نے اس حملے کے شکار افراد کے لیے 'دعا اور ہمدردی کا اظہار' کیا ہے۔

جاپان دنیا کے ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں پرتشدد واقعات کی شرح سب سے کم ہے لیکن حالیہ برسوں میں چاقو کے کئی حملے دیکھے گئے ہیں۔

سنہ 2016 میں ذہنی معذوری سے دوچار افراد کے مرکز پر ایک سابق ملازم نے کئی لوگوں پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔ انھوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ معذور لوگوں کو ’غائب‘ کرنا چاہتے ہیں۔

سنہ 2001 میں اوساکا میں آٹھ طلبہ اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک ایلیمینٹری سکول میں ایک شخص نے داخل ہو کر چاقو سے حملہ شروع کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں