خلیج اومان میں ٹینکروں کو ’تقریباً یقینی‘ طور پر ایرانی دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچا: جان بولٹن

ناروے کا بحری جہاز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 12 مئی کو آبنائے ہرمز کے قریب متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں چار ٹینکروں کو بارودی مواد سےنقصان پہنچا۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے الزام عائد کیا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں خلیج اومان میں بحری جہازوں کو پہنچنے والا نقصان 'تقریباً یقینی طور' پر ایرانی بارودی سرنگوں سے پہنچا ہے۔ البتہ امریکی مشیر نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

ایران نے امریکی مشیر کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

اس ماہ کے اوئل میں امریکی تفتیش کارروں نے کہا تھا کہ 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں چار ٹینکروں کو دھماکہ خیز مواد کے استعمال سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ امریکی اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروپس اس کے پچھے ہیں۔

واقعے کے بعد فوجی ماہرین کو واقعے کی تفتیش کے لیے بھیجا گیا، جن کے مطابق ہر ٹینکر میں ایک بڑا سوراخ تھا۔

یہ ٹینکروں کو نقصان پہنچانے کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر تھی۔

گذشتہ ہفتے امریکہ کے وائس ایڈمرل مائیکل گلڈی نے کہا تھا: کہ ’وہ کافی اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حملے اعلیٰ ترین ایرانی قیادت کی تائید سے ہوئے ہیں۔‘

امریکی کے قومی سلامتی کے مشیر ایک لمبے عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی وکالت کرتے آ رہے ہیں جسے انھوں ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کے دورے کے دہرایا ہے۔

جان بولٹن نے متحدہ عرب امارات میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ واضح ہے کہ ایران ان حملوں کے پیچھے ہے۔

انھوں نے کہا کہ واشنگٹن میں سب کو یقین ہے کہ اس کے پیچھے ایران ہے۔ ’آپ کیا سمجھتے ہیں اور کون ہو سکتا ہے، کیا کوئی نیپال سے آیا ہو گا۔‘

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے جان بولٹن کے الزامات کو رد کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کے اس طرح کے مضحکہ خیز الزامات کی ایک لمبی تاریخ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران اپنے صبر، چوکسی اور دفاعی طاقت کی مدد سے بولٹن اور اسی طرح کے دیگر جنگ کے حامیوں کے شرانگیز منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔

ہم اس واقعے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

ابھی تک اس واقعے کی بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ بارہ مئی بروز اتوار 02:00 جی ایم ٹی پر آبنائے ہرمز کے باہر متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں پیش آیا۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے کہا کہ چار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جان بولٹن ایک لمبے عرصے سے طاقت کے استعمال سے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی وکالت کرتے رہے ہیں

اس واقعے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ سعودی عرب نے کہا کہ اس کے دو جہازوں کو ’اچھا خاصہ‘ نقصان پہنچا ہے۔ تیسرا ٹینکر ناروے میں رجسٹرڈ ہے جبکہ چوتھے پر متحدہ عرب امارات کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

متحدہ عرب امارات نے کسی پر جہازوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد نہیں کیا ہے۔

اس واقعے کا ایران اور امریکہ سے کیا تعلق ہے؟

کاغذوں پر کوئی تعلق نہیں بنتا۔ نہ تو امریکہ کا کوئی جہاز اس سے متاثر ہوا اور نہ ہی کوئی ایسی شہادتیں موجود ہیں جو ظاہر کریں کے اس کے پچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

لیکن امریکہ اس حملے کو اپنے اتحادیوں کے خلاف ایرانی مہم کا حصہ سمجھتا ہے۔

جان بولٹن نے مزید کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ طاقتوں نے سعودی عرب کے تیل کے مراکز پر ڈرون کے ذریعے حملے کیے ہیں اور 19 مئی کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ایمبیسی پر راکٹ فائر کیا۔

جان بولٹن نے انکشاف کیا کہ آئل ٹینکروں پر حملوں سے کچھ روز پہلے سعودی عرب کی بندرگاہ ینبو پر حملے کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

ایران تردید کرتا ہے کہ وہ عراق اور سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کے پیچھے ہے۔

ایران اور امریکی کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

کشیدگی کا آغاز مئی کے اوائل میں ہوا جب امریکہ نے مختلف ملکوں کو ایران سے تیل کی خریداری کی اجازت واپس لے لی۔

اس فیصلے کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنا تھا۔ تیل کی برآمد ایران کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک سال قبل امریکہ کو اس جوہری معاہدے سے نکال لیا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو کم کر لیا تھا۔

ایران نے جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین سے کہا ہے کہ اگر انھوں نے اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنایا تو وہ بھی اس معاہدے پر عمل درآمد روک کر یورینیم کو ایک بار پھر ہائی گریڈ میں افزودہ کرنا شروع کر دے گا۔

اسی بارے میں