کمیاب معدنیات: تجارتی جنگ میں چین کا ٹرمپ کارڈ؟

A rare earth mineral mine in China تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا میں نایاب معدنیات کا نوے فیصد حصہ چین میں پایا جاتا ہے

چین ایسے اشارے دے رہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ شدت پکڑتی ہے تو وہ امریکہ کی ان کمیاب معدنیات تک رسائی کو ختم یا محدود کر سکتا ہے جس سےامریکہ کی کئی صنعتوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔

کمیاب معدنیات جنھیں ’ریئر ارتھ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، ان کی نوے فیصد سے زیادہ مقدار صرف چین میں پائی جاتی ہے۔ یہ معدنیات بجلی سے چلنے والی کاروں، موبائل فون جیسی مصنوعات کی تیاری میں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔

گذشتہ برس امریکہ کے جیالوجیکل سروے نے ان معدنیات کو ملکی دفاع اور ملکی معیشت کے لیےانتہائی ضروری قرار دیا تھا۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ چین کمیاب معدنیات کی امریکہ برآمد کو روکنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کمیاب معدنیات کیا ہیں؟

ریر ارتھ سترہ مختلف معدنیات کا ایک گروپ ہے جو مختلف صنعتی شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں جن میں دوبارہ قابل استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، آئل ریفائنری، الیکٹرانکس اور شیشے کی صنعت شامل ہیں۔

کہنے کو تو انھیں کمیاب کہا جاتا ہے لیکن امریکہ جیالوجیکل سروے کے مطابق یہ زمین کی پرت میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں لیکن دنیا میں صرف چند جگہیں ہیں جہاں انھیں نکالا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھییے

امریکہ، چین کی شدت اختیار کرتی تجارتی جنگ

تجارتی جنگ پر چین کی امریکہ کو سخت تنبیہ

چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ، چین کا جوابی اقدام

ان معدنیات کو نہ صرف نکالنا مشکل ہے بلکہ وہ ماحول کی خرابی کا بھی سبب بنتی ہیں۔

ان کمیاب معدنیات کی 70 فیصد مقدار صرف چین میں پائی جاتی ہے۔ چین کے علاوہ میانمار، آسٹریلیا، امریکہ کے علاوہ چند اور ممالک صرف تھوڑی سی مقدار نکالتے ہیں۔

ان معدنیات کو صاف کرنے کے حوالے سے چین کا غلبہ اور زیادہ ہے اور دنیا بھر میں قابل استمعال اوکسائیڈ کا نوے فیصد چین میں پایا جاتا ہے۔

چین کے علاوہ صرف ایک آسٹریلین کمپنی ملائیشیا میں یہ معدنیات نکالتی ہے۔

چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے پانچ برسوں میں کمیاب معدنیات کی برآمد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کا چین پر کتنا بھروسہ ہے؟

امریکہ کمیاب معدنیات کا ستر فیصد چین سے درآمد کرتا ہے۔

امریکہ فرانس، ایسٹونیا اور جاپان سے بھی تیار شدہ نایاب معدنیات درآمد کرتا ہے لیکن یہ تمام ممالک بھی خام مال چین سے ہی درآمد کرتے ہیں۔

امریکہ میں ایک کان کمیاب معدنیات کو نکال کر اسے پراسیسنگ کے لیے چین بھیجتی ہے اور تجارتی جنگ ہونے کے بعد اس پر 25 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جا چکی ہے۔

امریکہ کے پاس ایک راستہ ہے کہ وہ ان کمیاب معدنیات کو ملائیشیا سے درآمد کرے لیکن اس کی مقدار امریکی طلب سے کہیں کم ہے۔

ملائیشیا کی حکومت ماحولیاتی خدشات کی وجہ سے ان کمیاب معدنیات کی پیداوار کو روکنے کی دھمکی دی چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین میں نایاب معدنیات کی پیداوار

کیا امریکہ کمیاب معدنیات کی صنعت کو ترقی دے سکتا ہے؟

یہ ممکن ہے لیکن اس کے لیے وقت اور سرمایہ کی ضرورت ہو گی۔ درحقیقت امریکہ 1980 تک یہ کمیاب معدنیات سب سے زیادہ پیدا کرتا تھا۔

چین ماضی میں بھی کمیاب معدنیات کی برآمد کو محدود کر چکا ہے۔ 2010 میں جاپان کے ساتھ کچھ جزیروں کی ملکیت کے تنازعہ کی وجہ سے چین نے ان کمیاب معدنیات کی جاپان برآمد کو محدود کر دیا تھا۔

اگر چین نے ان معدنیات کی امریکہ کو برآمد روک دی یا محدو د کر دیا اس سے امریکہ کی کھربوں ڈالر مالیت کی کئی صنعتوں پر منفی اثر پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں