برطانوی یونیورسٹی کا سکینڈل: ’پورے فلیٹ کا ریپ کر دو، انھیں سبق سکھاؤ‘

وارک یونیورسٹی
Image caption برطانوی یونیورسٹی میں دو طالبات کی شکایت کے بعد سامنے آنے والے ’چیٹ سکینڈل‘ کے بعد پانچ لڑکوں کو قصوروار قرار دیا گیا

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو پڑھنے والوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتا ہے۔

ایک میسج میں لکھا تھا 'ان کو سبق سکھانے کے لیے فلیٹ میں موجود سب کا ریپ کر دو‘۔

ایک اور پیغام تھا ’میرے خدا، اگر میں لڑکی ہوتا تو نشانے پر ہونا انتہائی تکلیف دہ ہوتا۔‘

اینا(فرضی نام) ایک فیس بک چیٹ گروپ میں سینکڑوں جنسی طور پر جارحانہ پیغامات ایک ایک کر کے دیکھ رہی تھیں۔

اینا کے یہ دیکھ کر ہوش اڑ گئے کہ ان پیغامات میں ان کا اور ان کی یونیورسٹی کی دوسری ساتھیوں کا نام بار بار آ رہا تھا۔

اور جو افراد یہ پیغامات لکھ رہے تھے وہ اینا کی طرح وارک یونیورسٹی میں ان کے ہی شعبے میں زیر تعلیم تھے۔ اور ان میں نہ صرف ان کے ہم جماعت بلکہ قریبی دوست بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

میرے افسر نے مجھے ریپ کیا: امریکی سینیٹر

’شمالی کوریا کی خواتین چین میں جسم فروشی پر مجبور‘

مائیکل جیکسن پر جنسی زیادتی کے سنگین الزامات

Image caption اس سکینڈل میں ملوث افراد نہ صرف اینا کے ہم جماعت بلکہ گہرے دوست بھی تھے

اس چیٹ کا اینا کو پتا چلنے کے ہفتوں بعد یہ بات یونیورسٹی کیمپس میں پھیل چکی تھی۔ وہ باتیں جو لڑکوں کی نجی چیٹ میں شروع ہوئی تھیں اب پھیل رہی تھیں۔

اینا اور ان کی ساتھی طالب علم نے، جن کا اس چیٹ میں ذکر تھا، یونیورسٹی انتظامیہ کو اس کی شکایت کر دی۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد ایک طالب علم کو نہ صرف یونیورسٹی سے نکال باہر کیا گیا بلکہ کیمپس میں ان کے داخلے پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی۔ دو دوسرے طالب علموں کو بھی یونیورسٹی سے نکال کر ان پر 10 سال کی پابندی لگائی گئی جبکہ دو مزید طالب علموں پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی۔

تاہم دو طالب علموں پر ابتدائی طور پر لگائی جانے والی 10 سال کی پابندی کو کم کر کے ایک سال کر دیا گیا۔ پابندی میں اس کمی کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر ہونے والی تفتیش پر سوالات کھڑے ہو گئے۔

اس واقعے کو ایک برس بیت چکا ہے لیکن زخم ابھی ہرے ہیں۔ یونیورسٹی کے طالب علم اور اساتذہ اب بھی اس سوال میں الجھے ہوئے ہیں کہ آخر یہ ہوا کیسے؟

’لڑکوں کی گپ شپ

گذشتہ برس کی ابتدا میں اینا ،جو اس وقت 19 برس کی تھیں، اپنے سٹوڈنٹ ہاؤس میں ایک صوفے پر لیٹی تھیں جب ان کے ایک دوست کے لیپ ٹاپ ہر میسیج آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

جب میسیج آنے کا سلسلہ جاری رہا تو اینا نے اپنے دوست سے پوچھا کے یہ کیا ہے؟ جواب میں وہ مسکرا دیا۔

Image caption اینا کہتی ہیں کے فیس بک چیٹ کرنے والے یہ افراد میری زندگی کا حصہ تھے

اس نے بتایا کہ ’اگر تم اس کو برا سمجھتی ہو تو تم نے لڑکوں کی چیٹ نہیں دیکھی۔‘ اینا کہتی ہیں کے ’اس نے مجھے گذشتہ ڈیڑھ سال پر محیط جنسی زیادتی پر مبنی دھمکیوں سے بھرپور پیغامات دکھائے۔‘

اینا نے فیس بک پر دیکھا کے اس لڑکے اور اس کے دوستوں نے اپنے نام تبدیل کر کے بدنام زمانہ سیریل کِلرز اور جنسی زیادتی کرنے والوں کے نام پر رکھے ہوئے تھے۔

’وہ اپنی ایک ساتھی طالبہ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ وہ اس کو اغوا کرنے، بیڈ کے ساتھ باندھنے، اس کو اپنے ہی اوپر پیشاب کرنے پر مجبور کرنے اور پھر اپنے پیشاب پر سونے کی باتیں کر رہے تھے۔‘

اینا کہتی ہیں کے ’یہ صرف غیر سنجیدہ گفتگو نہیں تھی بلکہ یہ ایک آن لائن کمیونٹی تھی۔۔۔ اور وہ اس کے خوفناک ہونے پر فخر محسوس کرتے تھے۔‘

اینا نے چیٹ میں اپنا نام ڈھونڈا۔ یہ سینکڑوں مرتبہ دہرایا گیا تھا۔

اینا کہتی ہیں کے ان کے دوست نے پہلے تو یہ کہتے ہوئے بات ختم کرنے کی کوشش کی ’لڑکے ایسے ہی بات کرتے ہیں‘ اور یہ کے یہ مذاق تھا۔

انھوں نے چیٹ پڑھنا جاری رکھا اور اس کی سکرین کی تصاویر بھی بناتی رہیں۔

اینا کا کہنا تھا کے انھوں نے اسے بتایا کہ ’میں ایسا صرف اپنے ذہنی سکون کے لیے کر رہی ہوں۔ وہ مجھے پریشان ہوتا دیکھ پا رہا تھا۔ اور میرے خیال میں بعد میں اس پر یہ عیاں ہوا کے یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا جتنا وہ سوچ رہا تھا۔‘

جلد ہی اس نے اپنا انداز بدلا اور کہا کے اسے معلوم تھا کے یہ میسیج ناقابلِ قبول ہیں اور یہ کے اس (اینا) کی حفاظت کے پیشِ نظر اس نے یہ میسیج اینا کو دیکھائے ہیں۔

تاہم ان پیغامات میں جب اینا نے اجتماعی زیادتی اور اعضائے مخصوصہ کو کاٹ دینے جیسے پیغامات دیکھے تو ان کی چھٹی حِس نے انھیں کچھ اور ہی تاثر دیا۔ ۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا کروں۔ کیوںکہ یہ لوگ (چیٹ کرنے والے) میری زندگی کا بہت بڑا حصہ تھے۔‘

چند دن بعد وہ ایسٹر کی چھٹیاں گزارنے اپنے والدین کے گھر گئیں۔ تاہم واپس جانے اور ان لڑکوں کا سامنا کرنے کے خیال سے ہی ان پر وحشت طاری ہونے لگی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں واپسی کے لیے اپنا سامان تیار کر چکی تھی مگر میں دروازے سے باہر نہیں نکل پائی۔‘

اس وقت انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اس واقعے کی شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔

’مفادات کے تصادم کے امکانات‘

جب اینا اور ان کی ایک ساتھی نے، جنھیں ان پیغامات میں متعدد بار نشانہ بنایا گیا تھا، اپنی شکایت انتظامیہ سے کی تو انھیں بتایا گیا کے ان کا باقاعدہ انٹرویو کیا جائے گا۔

مگر اس میں ایک مسئلہ تھا۔ جس شخص نے انٹرویو کرنا تھا وہ یونیورسٹی کے شعبہ پریس کا ڈائریکٹر تھا۔

اینا کہتی ہیں کہ ’انٹرویو کے لیے ایسے شخص کا انتخاب باعثِ تعجب تھا۔‘

پریس آفیسر کے طور پر پیٹر ڈن کی یہ ذمہ داری تھی کے وہ میڈیا کے معاملات دیکھیں اور برطانیہ کی بڑی یونیورسٹی میں سے ایک وارک کی ساکھ کی حفاظت کریں۔

جبکہ دوسری جانب تفشیشی افسر کے طور پر ان کو یہ کام سونپا گیا کے وہ بداخلاقی کے الزامات کو دیکھیں اور اگر کوئی قصوروار ثابت ہو تو اس کے لیے سزا تجویز کریں۔

پیٹر ڈن نے دونوں ذمہ داریاں سنبھالیں اگرچہ طالب علموں کے اخبار ’دی بور‘ میں اشاعت کے بعد اس واقعے کو ملکی میڈیا میں کافی توجہ ملی۔

Image caption الزامات کی تفشیش کے بعد پانچ طالب علموں کو سزائیں ہوئیں

فروری 2009 میں یونیورسٹی نے پیٹر ڈن کا بیک وقت دو عہدے سنبھالنے کی وجہ سے ’ممکنہ تنازع کے خدشے‘ کے امکانات کو تسلیم کیا مگر انتظامیہ بضد رہی کے تفشیش کے دوران پیٹر ڈن نے پریس سے متعلق اپنی ذمہ داریاں کسی دوسرے کو سونپ دیں تھیں۔

بی بی سی نے ایک ای میل دیکھی جس میں پیٹر ڈن نے شکایت کرنے والی لڑکیوں کو بتایا تھا کے وہ تفیشیش کے دوران میڈیا کو ایک اعلامیہ جاری کرنے کا سوچ رہے ہیں اور اس بابت انھوں نے لڑکیوں سے ان کی آرا پوچھی تھیں۔

اینا کہتی ہیں ’یہ بہت پریشانی کی بات تھی کہ وہ شخص جو میڈیا کے لیے بیانات لکھ رہا تھا وہ میری زندگی کے بارے میں اتنی زیادہ اور اہم تفصیلات سے آگاہ تھا۔ یہ بہت غیر حقیقت پسندانہ تجربہ تھا۔‘

یونیورسٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس انتہائی نازک معاملے کو ڈیل کرنے کے حوالے سے جائز سوالات پوچھے گئے ہیں۔ ہم اس کیس کی تفشیش کرنے والے افسر پیٹر ڈن کی معاونت جاری رکھیں گے۔‘

متاثرہ لڑکیوں کو انٹرویو کرنے کے ایک ماہ بعد ان پانچ لڑکوں پر پابندی عائد کر دی گئی جو اس چیٹ میں ملوث تھے۔ دو لڑکوں پر دس اور دو لڑکوں کے یونیورسٹی داخلے پر ایک، ایک سال کی پابندی لگا دی گئی۔ جب کے ایک لڑکے پر تاحیات پابندی عائد کی گئی۔

اینا اور اس کی دوست کہتی ہیں کے انھیں تفشیش کے نتیجے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے انھیں اس کا میڈیا سے پتا چلا۔ انھیں یہ بھی نہیں پتا کے کس لڑکے کو کتنی سزا ملی۔

یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ وہ دو لڑکے جن پر 10 سال کی پابندی عائد کی گئی تھی انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی۔

ہیش ٹیگ ’شیم آن یو وارک‘

چاہ ماہ کے بعد دو لڑکوں کی سزا 10 سال سے کم کر کے ایک سال کر دی گئی۔

اینا کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس کی کبھی وضاحت نہیں دی گئی۔ ہمیں بتایا گیا کے کچھ نئے شواہد ملے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم یہ شواہد کیا ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہونا شروع ہوا کے مجھے اس معاملے کو چھوڑنا ہو گا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں اور میری دوست اس معاملے میں پورے ادارے کے خلاف کھڑی ہیں، وہ ادارہ جو ہمیں کبھی نہیں سنے گا۔‘

اینا اور اس کی دوست نے یونیورسٹی کو تفتیش کے طریقہ کار پر اپنے خدشات سے آگاہ کرنے کی آخری کوشش کی۔

لیکن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سٹورٹ کروفٹ نے یہ کہہ کر تفشیش ختم کرنے کا اعلان کیا کہ ’ضوابط میں کسی طرح کی بے قاعدگی یا تعصب کے شواہد نہیں ملے‘۔

تین ہفتوں بعد ایک متاثرہ لڑکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ’شیم آن یو وارک‘ شروع کیا جو جلد ہی ٹرینڈ کرنا شروع ہوا۔

یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر میڈیا میں زیر بحث آ گیا۔ یونیورسٹی کے کئی ڈیپارٹمنٹس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اس معاملے پر اعلانِ لاتعلقی کیا۔

جلد ہی پروفیسر کروفٹ نے 1000 الفاظ پر محیط اعلامیہ جاری کیا جس میں انھوں نے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کے ’اس (چیٹ) نے نفرت انگیز ردِ عمل کو جنم دیا ہے۔‘

طالب علموں نے ان کے اس بیان کو قبول نہیں کیا۔

تین روز بعد انھوں نے اعلان کیا کہ وہ طالب علم جن کی سزا کم کی گئی تھی انھیں یونیورسٹی واپسی کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فیصلہ یونیورسٹی کا تھا یہ انفرادی نوعیت کا۔

اس اعلان کے باوجود کیمپس کے لوگوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ دو دن بعد سینکڑوں طالب علموں اور یونیورسٹی سٹاف نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سینئیر عہدے داروں کی آفس کی جانب مارچ کیا۔

احتجاج کی صبح یونیورسٹی نے میڈیا کو ایک اور اعلامیہ جاری کیا جس میں متاثرین کے جذبات مجروح ہونے پر ’معافی‘ مانگی گئی تھی۔

اس معاملے میں متاثرہ لڑکیوں کو یونیورسٹی کی جانب سے ذاتی طور پر معذرت نہیں کی گئی۔

’میں وہاں واپس نہیں جانا چاہتی‘

وارک میں ہونے والے واقعے سے یونیورسٹیوں کی جانب سے سنجیدہ نوعیت کے جنسی بے قاعدگیوں کے الزامات کو ڈیل کرنے کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔

وارک یونیورسٹی نے اپنے ڈسپلنری اور اپیل کے طریقہ کار پر نظر ثانی کا عمل شروع کیا ہے جو 2019 کی گرمیوں تک مکمل ہو جائے گا۔

پروفیسر کروفٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اس واقعے سے جو سیکھا ہے نظر ثانی اس کا اظہار کرے گی اور اس سے ہماری اقدار مزید مضبوط ہوں گی۔

اینا جو اپنی ڈگری کے تیسرے سال میں ہیں وہ فائنل امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یونیورسٹی نے مجھے بہت تکلیف دی ہے اور ایک سال گزرنے کے باوجود میں اس کو محسوس کر سکتی ہوں۔‘

’آگے بڑھنے، شکایت کرنے اور اس کے بدلے میں یونیورسٹی کی جانب سے ملنے والی سزا اس کا سب سے تاریک پہلو ہے۔‘

’میں اس دن کا شدت سے انتظار کر رہی ہوں جب مجھے وارک دوبارہ نہ جانا پڑے۔‘

بی بی سی میں اس خبر کی اشاعت کے بعد یونیورسٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم معذرت خواہ ہیں اگر ہماری وجہ سے کمیونٹی کے کسی بھی فرد کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم وہ تبدیلیاں لا رہے ہیں ’جو ایسی غلطیوں کے دوبارہ نہ ہونے کے امکانات کو کم کریں گی۔‘

اسی بارے میں