مزید ڈیموکریٹس کا امریکی صدر کے مواخذے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی سپیشل قونصل رابرٹ مُلر کے پہلی بار عام ریمارکس کے بعد امریکی کانگریس میں تین سرکردہ ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دعوے کے برعکس بدھ کے روز رابرٹ ملر نے کہا تھا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق صدر ٹرمپ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے بری نہیں ہوئے۔

رابرٹ ملر کو دو ہزار سولہ کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ حالیہ صدر پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی سپیشل قونصل رابرٹ مُلر نے دو ہزار سولہ کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کیں

مواخذے کے معاملے نے ڈیموکریٹک پارٹی کو منقسم کر دیا ہے اور ایوان نمائندگان میں سپیکر نینسی پلوسی کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نینسی پلوسی کا، جو خود سب سے سینئر ڈیموکریٹ ہیں اور مواخذے کی مزاحمت کر رہی ہیں، کہنا ہے کہ ایسی کسی تحریک کا الٹا نتیجہ نکل سکتا ہے۔

مگر اب رابرٹ ملر کے ریمارکس کے بعد صدارتی نامزدگی کے خواہشمند تین مزید ڈیموکریٹکس نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس طرح ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے نامزدگی کے خواہشمند تئیس امیدواروں میں سے مواخذے کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

ان تین ڈیموکریٹک امیدواروں میں کوری بُکر، کرسٹِن گِلیِبرانڈ اور پیٹی بیٹیگائگ شامل ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ مواخذے کی کارروائی فوری طور پر شروع ہو جانی چاہئیے۔

پیٹی بیٹیگائگ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "مواخذے کے ریفرنس کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔"

رابرٹ ملر کا بیان سامنے آنے کے بعد سپیکر نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ کانگریس تحقیقات اور صدر کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ان کے احتساب کی اپنی آئینی ذمہ داری کو مقدس فریضہ سمجھتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کے خلاف "شہادت ناکافی" ہے "اور ہمارے ملک میں ایسا شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔"

ملر رپورٹ کے خاصے بڑے حصے کو حذف کرنے کے بعد گزشتہ ماہ منظر عام پر لایا گیا تھا۔

انھوں نے ایسے دس واقعات کا ذکر کیا تھا جن میں صدر ٹرمپ نے ممکنہ طور پر تحقیقاتی عمل میں حائل ہونے کی کوشش کی تھی۔ تاہم رابرٹ ملر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موجودہ صدر پر فرد جرم عائد کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

شمالی امریکا میں بی بی سی کے نامہ نگار اینتھونی زرکر کا کہنا ہے کہ رابرٹ ملر نے تحقیقاتی عمل کے باضابطہ اختتام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے آٹھ منٹ طویل بیان میں کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔

اسی بارے میں