دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں 1300 عام شہری ہلاک ہوئے: امریکی اتحاد

عراق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی اتحاد کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریو ں کو بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں

امریکہ کے سربراہی میں قائم اتحاد نے تسلیم کیا ہے کہ عراق اور شام میں پچھلے پانچ برسوں میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں 1300 عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے 2014 سے اب تک شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کےخلاف 34,502 فضائی حملے کیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم میں ایک مانیٹرنگ گروپ نے کہا ہے کہ امریکی اتحاد کی کارروائیوں میں مرنے والوں کی تعداد 1300 سے کہیں زیادہ ہے۔ اس گروپ کے اندازے کے مطابق 13 ہزار سے زیادہ عام شہری شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کا آغاز پانچ برس قبل اس وقت شروع کیا تھا جب شدت پسند گروپ نے شام اور عراق کے ایک وسیع علاقے کو اپنےقبضے میں لے لیا تھا۔ شدت پسند گروہ نےاپنے زیر قبضہ علاقوں میں انتہائی ظالمانہ نظام مسلط کیا تھا اور دنیا بھر میں خودکش حملے کیے۔

امریکی اتحاد نے اپنے تازہ بیان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں جو اعداد و شمار بیان کیے ہیں وہ اس تعداد سے تھوڑے سے زیادہ ہیں جسے وہ پہلے بھی مانتے ہیں۔ امریکہ اتحاد پہلے 1100 عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتا تھا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ 111 مزید واقعات کا جائزہ لے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

’دولت اسلامیہ کی مکمل شکست ایک ہفتے میں ممکن‘

’خلافت‘ کے خاتمے کا مطلب دولت اسلامیہ کا خاتمہ بھی ہے؟

عراق، شام میں کتنے غیرملکی جنگجو باقی رہ گئے؟

امریکی اتحاد کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے جو اقرار سامنے آیا ہے وہ اس تعداد سے بہت ہی کم ہیں جتنی انسانی حقوق کے ادارے اور مانیٹرنگ گروپ کے خیال میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایمنٹسی انٹرنشینل کی مشیر ڈوایٹلا رویرا نے امریکہ سربراہی میں قائم اتحاد پر الزام عائد کیا وہ ہلاکتوں کے بارے میں سچائی کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آج کا یہ اقرار کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں اس تعداد سے زیادہ ہیں جسے وہ پہلے صحیح مانتے تھے، اس بات کا متقاضی ہے کہ آزادنہ انکوئری کی جائے کہ مغربی اتحاد کی فصائی کارروائیاں عالمی انسانی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی اور جو معصوم لوگ اس کا نشانہ بنے ہیں انھیں اس کو معاوضہ ادا کیا جائے۔

گذشتہ ماہ ہی انسانی حقوق کے کارکنوں کی تحقیق اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ 2017 میں شام کے شہر رقہ میں دولت اسلامیہ کے خلاف پانچ ماہ تک جاری رہنے والے فضائی حملوں میں 1600 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

رقہ کو دولت اسلامیہ کی خلافت کا دارالخلافہ تصور کیا جاتا تھا۔

اس وقت امریکی سربراہی میں قائم اتحاد کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کی غیر ارادی ہلاکتیں ایک المیہ ہیں لیکن اس کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ دولت اسلامیہ کی موجودگی کتنا بڑا خطرہ تھی۔

ترجمان نے کہا تھا کہ اتحاد پوری کوشش کرتا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم رکھے۔

برطانیہ میں مقیم مانیٹرنگ گروپ ایئروارز جو فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر نظر رکھتی ہے اس کےمطابق اب تک آٹھ سے تیرہ ہزار کے درمیان عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں