وہ شخض جو سری لنکا میں ایسٹر پر ہونے والے حملوں کو روک سکتا تھا

محمد رزاق تسلیم کا خاندان
Image caption پولیس حکام کہتے ہیں کہ تسلیم کو شدت پسندوں کے نیٹ ورک کے سرغنہ زہران ہاشم کے حکم پر گولی ماری گئی تھی۔

جب اس سال ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں نصب کیے گئے بم پھٹے اور تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تو اس وقت تک صرف چند ہی افراد ایسے تھے جنہیں یہ احساس تھا کہ سری لنکا کو اسلامی شدت پسندی کے مسئلے کا سامنا ہے۔

ان چند افراد میں سے ایک محمد رزاق تسلیم بھی تھے۔

جب میں محمد رزاق تسلیم سے ملنے ہسپتال پہنچا تو ان کے چہرے سے واضح تھا کہ وہ ابھی تک شدید درد سے گزر رہے ہیں۔ ان کے جسم کا بایاں حصہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، لیکن اس کے باجود میں نے دیکھا کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی اہلیہ اور بردارِ نسبتی کو چھونے کی کوشش کر رہے تھے، جو پریشانی کے عالم میں تسلیم کے بستر کے ساتھ کھڑے تھے۔

ان کی اہلیہ فاطمہ ایک رومال سے تسلیم کی پیشانی پر ہلکے ہلکے ٹکور کر رہی ہیں۔ ان کے سر کا ایک حصہ اندر کو دھنس چکا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تسلیم کو مارچ میں گولی ماری گئی تھی۔ اس دن سے تسلیم نہ بول پا رہے ہیں اور نہ ہی چل پھر سکتے ہیں۔

نیشنل توحید جماعت پر حملوں کا الزام اور کئی سوالات

سری لنکا میں سوگ، ہلاکتوں کی تعداد 321 ہو گئی

پولیس کا خیال ہے کہ تسلیم ان پہلے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنھیں سری لنکا کے اندر موجود دولت اسلامیہ سے منسلک انتہاپسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔ بعد میں ان ہی گروہوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر سلسلہ وار خود کش حملوں میں 300 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دیا۔

پولیس حکام کہتے ہیں کہ تسلیم کو شدت پسندوں کے نیٹ ورک کے سرغنہ زہران ہاشم کے حکم پر گولی ماری گئی تھی۔

ایسٹر دھماکوں سے کئی ماہ پہلے سے ہی تسلیم نے شدت پسندوں کے خلاف پولیس کی تفتیش میں مدد کرنا شروع کر دی تھی، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اس تفتیش میں پیش پیش تھے۔ اُس وقت تسلیم وسطی سری لنکا کے ایک مسلمان اکثریتی قصبے کی سیاست میں تیزی سے ابھر رہے تھے۔

تسلیم کی کہانی میں ہمیں دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ سری لنکا کی مسلمان برادری نے کس طرح مستعدی سے مسلمانوں کے اندر ان عناصر کو روکنے کی کوشش کی جو انتہاپسندی کی طرف جا رہے تھے، اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے خطرے کی واضح نشاندھی کے باوجود حکام ایسٹر حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام ہوئے۔

ماونیلہ نامی قصبہ کولمبو سے مشرق کی جانب چند گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ سرسبز درختوں میں گھرے ہوئے اس قصبے میں اکثریت بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں کی ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں قصبے میں مختلف مقامات پر لگے ہوئے گوتم بدھ کے مجسموں کی توڑ پھوٹ ہوئی۔ اب حکام سمجھتے ہیں کہ بدھ مت کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا مقصد علاقے میں کشیدگی کو ہوا دینا تھا تاکہ مسلمان اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان فسادات شروع ہو جائیں۔

اس وقت تسلیم قصبے کی ٹاؤن کونسل کے رکن تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک وفاقی وزیر کے نائب کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے تھے۔

میں ماونیلہ کے قصبے کے باہر واقع ایک گھر بھی گیا جہاں میری ملاقات تسلیم کی اہلیہ سے ہوئی جو اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ یہ ایک خستہ حال مکان ہے اور جب فاطمہ مجھے اپنے شوہر کے بارے میں بتا رہی تھیں تو اس وقت بھی بار بار چھت پر درختوں سے گرتے ہوئے ناریلوں کی زور دار آوازیں آ رہی تھیں۔

فاطمہ نے بتایا کہ تسلیم اکثر برادری کے لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے اور گذشتہ برسوں میں جب بھی کبھی سیلاب آیا تو انہوں نے امدادی کاموں میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی لیے جب بدھ مت کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کے واقعات ہوئے تو تب بھی تسلیم نے ان واقعات کی تفتیش میں حکام کی مدد کی۔

'وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگوں کو آپس میں متحد ہو کر رہنا چاہیے۔'

'وہ کہتے تھے کہ ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا کہ دوسرے مذاہب کے مقدس مقامات پر توڑ پھوڑ کریں۔ ہمیں ان لوگوں کو پکڑنا چاہیے جنہوں نے یہ حرکت کی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس نے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا، لیکن وہ شدت پسندوں کے سرغنہ تک نہ پہنچ سکی

ان واقعات کے بعد پولیس نے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا، لیکن جن دو بھائیوں پر سب سے زیادہ شک تھا، یعنی صادق عبدالحق اور شہید عبدالحق، وہ دونوں روپوش ہو گئے۔

ایسٹر حملوں کے بعد ان دونوں کو 'انتہائی مطلوب' افراد قرار دیا گیا اور پھر انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا۔ حملوں میں ان دونوں کا کردار کیا تھا یہ ابھی واضح نہیں ہوا ہے، تاہم تفتیش کاروں کے خیال میں صادق سنہ 2014 میں شام گئے تھے جہاں ان کی ملاقات دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے ہوئی تھی۔

میں ماونیلہ کے قریب ایک گاؤں میں ایک نوجوان سے بھی ملا جو ان دونوں بھائیوں سے رابطے میں تھا۔ مذکورہ نوجوان نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں بھائی یہ تبلیغ کیا کرتے تھے کہ سری لنکا 'اللہ کی زمین ہے جہاں کسی دوسرے کی عبادت نہیں کی جا سکتی۔۔۔ یہاں بسنے والے غیر مسلمانوں کو یا تو اسلام قبول کر لینا چاہیے یا جزیہ دینا چاہیے۔ ‘

نوجوان کے مطابق ان دونوں بھائیوں کا تعلق نہایت ہی مذہبی خاندان سے ہے اور یہ دونوں اکثر جہاد کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے، روحانی اور عسکری جہاد، دونوں کے بارے میں۔

ان دونوں بھائیوں کے ایک عزیز نے مجھے بتایا کہ یہ تینوں ایک مسلمان طلبہ تنظیم میں اکٹھے تھے۔ ان کے بقول وہ دونوں بھائیوں کو اکثر سمجھایا کرتے تھے کہ 'اسلام میں تشدد اور جارحانہ رویے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 'سنہ 2015 میں دونوں بھائیوں کو اس قسم کے خیالات کی وجہ سے طلبہ تنظیم سے بھی نکال دیا گیا تھا۔

ان صاحب نے مجھے مزید بتایا کہ بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی کشیدگی اور 2018 میں ہونے والی ہنگامہ آرائی سے دونوں بھائی بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ان ہنگاموں میں مسلمانوں کی دکانوں اور ان کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس پر صادق نے کہا تھا کہ 'یہ لوگ جان بوجھ کر ہمیں مار رہے ہیں اور ہماری املاک چھین رہے ہیں، ہمیں کچھ کرنا پڑے گا۔'

جب یہ دونوں بھائی روپوش ہو گئے تو پولیس حکام نے تسلیم سے درخواست کی وہ انہیں تلاش کرنے میں مدد کریں۔ ایک مرتبہ تسلیم پولیس والوں کے ساتھ انہیں تلاش کرنے کے لیے گھنے جنگلوں میں بھی گئے۔

پھر اس سال جنوری میں پولیس نے تسلیم کو بتایا کہ انھیں بدھ مت کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنے والے لوگوں سے متعلق نہایت حیران کن انکشافات ہوئے ہیں۔ پولیس کے بقول ان لوگوں نے قصبے سے ایک سو میل دور ایک فارم ہاؤس پر دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کیا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2018، مسلمانوں کے خلاف فسادات کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا

تسلیم پولیس والوں کے ساتھ ملک کے شمال مغرب میں ناریل کے درختوں کے درمیان واقع اس مقام پر گئے جہاں سے ایک سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے علاوہ کچھ خیمے اور ایک کیمرا بھی برآمد ہوا۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ جب تسلیم واپس گھر آئے تو وہ بہت پریشان تھے۔ تسلیم نے انہیں بتایا کہ ' مجھے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ مقدار میں دھماکہ خیز مواد کہیں اور مقام پر بھی ذخیرہ کیا جا چکا ہے۔ ہمیں (مسلمانوں) کو چاہیے کہ ہم ایک برادری کی حیثیت سے یہ کام کرنے والوں کو تلاش کریں اور ان سے اپنے طور پر نمٹیں۔'

اتنی بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد ملنے پر حکام کو سمجھ آ جانا چاہیے تھا کہ ملک میں کسی جہادی حملے کے امکانات موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ملک بھر سے صرف چار افراد کو حراست میں لیا گیا۔ لگتا ہے کہ ایک عرصے تک تامل علیحدگی پسندوں کے خلاف لڑنے والی سکیورٹی فورسز نے اسلامی شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں پر زیادہ توجہ نہیں دی۔

ایسٹر حملوں کے بعد حکام کو معلوم ہوا ہے کہ انہیں جو دھماکہ خیز مواد ملا تھا، اسی قسم کا مواد خود کش بمباروں نے استعمال کیا تھا۔ خود کش حملے کرنے والوں میں اس گروہ کے سرغنہ زہران ہاشم بھی شامل تھے۔

ہاشم اصل میں ملک کے مشرقی علاقے میں تبلیغ کا کام کیا کرتے تھے اور ایسٹر حملوں سے پہلے ہی کئی لوگوں نے بتا دیا تھا کہ یہ شخص شدت پسند ہے۔

ان برسوں میں سری لنکا کی بڑی مسلمان برادری کئی مرتبہ ہاشم کے خیالات کی وجہ سے انہیں خود سے دور کر چکی تھی۔ تاہم اس دوران وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے رہے اور ان کی ایک ویڈیو میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔

Image caption جنگل سے دھماکہ خیز مواد کے علاوہ کچھ خیمے اور ایک کیمرا بھی برآمد ہوا تھا

سری لنکا میں مسلماموں کی ایک تنظیم، مسلم کونسل، کے نائب صدر حلمی احمد کہتے ہیں کہ جب انہوں نے ہاشم کے ویڈیو پیغامات میں نفرت انگیز پیغامات دیکھے تو انہیں بہت پریشانی ہوئی اور انہوں نے اس سلسلے میں خفیہ اداروں کے حکام سے بھی بات کی۔

لیکن حکام ہاشم کو تلاش کرنے اور ان پر مقدمہ کرنے میں ناکام رہے۔ احمد کہتے ہیں کہ 'انہوں نے یہ خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ آنے والے دنوں میں ہاشم پوری قوم کے لیے اتنا بڑا خطرہ بن جائے گا۔'

لیکن اب حکام کو معلوم ہوا ہے کہ ہاشم ایک عرصے سے سری لنکا کے اندر بہت بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور جب دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تو ہاشم کو فکر ہونا شروع ہو گئی کہ تسلیم ان کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔

پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے مجھے بتایا کہ ہاشم کے قریبی ساتھیوں نے اقرار کیا ہے تسلیم کو گولی مارنے کا حکم ہاشم نے ہی دیا تھا۔

Image caption تسلیم کو گولی مارنے کا حکم ہاشم نے ہی دیا تھا

تفصیل کے مطابق ایسٹر حملوں سے تقریباً ایک ماہ پہلے آدھی رات کے بعد ایک حملہ آور تسلیم کے گھر میں داخل ہوا۔ تسلیم اپنی اہلیہ اور سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ سو رہے تھے۔ حملہ آور نے تسلیم کے سر میں ایک گولی ماری اور موقع سے فرار ہو گیا۔

'پہلے میں سمجھی کہ موبائل فون کا چارجر پھٹ گیا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا تو چارجر ٹھیک چل رہا تھا۔ پھر میں نے تسلیم کو جگانے کی کوشش کی، لیکن مجھے بارود کی بو آ رہی تھی۔ میں تسلیم کو ہلایا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ بے ہوش ہو چکے ہیں۔ مجھے لگا تسلیم مر چکے ہیں۔'

فاطمہ نے بتایا کہ تسلیم کو فوراً ہسپتال پہنچاد دیا گیا۔ گولی سے تسلیم کی موت واقع نہیں ہوئی، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کبھی پوری طرح صحتیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔

اب ایسٹر حملوں کی تفتیش سری لنکا کی فوج کے ایک کمانڈر، لیفٹینینٹ جنرل مہیش سینانائک کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ اب تصدیق ہو چکی ہے کہ ایسٹر حملوں میں ملوث افراد کا تعلق اسی گروہ سے تھا جس نے بدھ مت کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی تھی، جنگل میں دھماکہ خیز مواد چھپایا ہوا تھا اور بعد میں تسلیم کو گولی ماری تھی۔

لیفٹینینٹ جنرل مہیش سینانائک نے تسلیم کیا کہ ان واقعات سے حکام کو زیادہ خبردار ہو جانا چاہیے تھا کہ ملک میں جہادی حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ اسی طرح ایسٹر حملوں سے چند دن اور پھر چند گھنٹے پہلے انڈیا کی سکیورٹی سروسز نے جو اطلاعات دی تھیں، ان پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ مہیش سینانائک کے بقول اس کی وجہ مختلف محکموں کے درمیان 'خفیہ معلومات کے تبادلے' کا فقدان ہے۔

Image caption فاطمہ کو اپنے شوہر کی قربانی پر فخر ہے

فاطمہ اور تسلیم کے خاندان کے دیگر افراد کا کہنا ہے کہ سر میں گولی لگنے کے باوجود تسلیم ان کی باتیں سمجھتے ہیں اور اس کے جواب میں کاغذ میں کچھ لکھ کر جواب دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ فاطمہ کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ ایسٹر کے موقع پر حملے ہوئے تو تسلیم رو پڑے اور انھوں نے ایک کاغذ پر لکھا کہ 'میں نے تمہیں بتایا تھا کہ ایک دن اس قسم کا واقعہ ہو سکتا ہے۔'

ایسٹر حملوں کے بعد سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف ہنگامے بھی ہوئے جن میں ان کی دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور ایک شخص ہلاک بھی ہوا۔ کئی مسلمانوں نے ان الزامات پر بہت غصے کا اظہار کیا کہ وہ برادری کے اندر موجود شدت پسند عناصر کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ مسلمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی مرتبہ پولیس اور دیگر حکام کو اس خطرے سے آگاہ کیا تھا لیکن ان کی بات پر کان نہیں دھرے گئے۔

اس حوالے سے تسلیم نے جو قربانی دی ہے، فاطمہ کو اس پر فخر ہے۔ تسلیم کے بقول 'میں نے آپ کو وہ سب کچھ دے دیا تھا جس کی آپ کو ضرورت تھی۔ اگلے جہان میں جنت میں جانے کے لیے ہمارا مذہب تو یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔'

اسی بارے میں