شمالی کوریا،امریکہ مذاکرت میں ناکامی: کیا شمالی کوریا نے اپنے جوہری سفیر کو پھانسی دے دی؟

کم ہیوک چول تصویر کے کاپی رائٹ EPA/YONHAP
Image caption کم ہیوک چول امریکہ میں شمالی کوریا کے سفیر رہ چکے ہیں اور ہنوئی میں کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مذاکرات کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے رہے ہیں

بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبر چل رہی ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے جوہری سفیر کو پھانسی دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ ان افسران کو راستے سے ہٹانے کا حصہ ہے جو امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ناکام سربراہ مذاکرات میں شامل تھے۔

لیکن ہم شمالی کوریا کے حکام کی پھانسی کی خبروں کو بہت احتیاط سے لیتے ہیں کیونکہ ان دعووں کی تصدیق انتہائی مشکل امر ہے اور ایسی خبریں عموماً غلط ثابت ہوئی ہیں۔

جنوبی کوریا کے میڈیا اور سیول حکومت دونوں نے ماضی میں شمالی کوریا میں لوگوں کو راستے سے ہٹانے (ختم) کے دعوے کیے ہیں لیکن چند ہفتوں کے بعد ایسا دیکھا گیا ہے کہ جن حکام کی پھانسی چڑھانے کی خبر دی گئی تھی وہ نہ صرف زندہ نظر آئے ہیں بلکہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔

اس مرتبہ بے نام ذرائع نے جنوبی کوریا کے ایک اخبار کو بتایا ہے کہ امریکہ میں شمالی کوریا کے سابق سفیر اور ہنوئی میں کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مذاکرات کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے کم ہیوک چول کو پیانگ یانگ کے ہوائی اڈے پر پھانسی دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی اقدامات ’تشویش ناک‘ ہیں: شمالی کوریا

ہمارے سفارت خانے میں دراندازی دہشت گردی تھی: شمالی کوریا

اس بے نام ذریعے نے بتایا ہے کہ سفیر کے علاوہ وزارتِ خارجہ کے تین اور اہلکاروں کو بھی سزا دی گئی ہے۔ ان افراد پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے اور امریکہ کے منصوبے کو اچھی طرح سے سمجھے بغیر مذاکرات کے بارے میں خراب رپورٹ دینے کے الزامات تھے۔

یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کے دائیں بازو کہلائے جانے والے ایک اہلکار، جنھیں ہنوئی مذاکرات کے انتظامات کے لیے واشنگٹن روانہ کیا گیا تھا، کو بھی چینی سرحد کے قریب واقع محنت اور ری ایجوکیشن کیمپ میں بطور سزا بھیج دیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WHITE HOUSE
Image caption کم ہیوک چول کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سنہ 2018 کی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے

یہ رپورٹس قرین قیاس نظر آتی ہیں کیونکہ ان اہم حکام کو فروری میں مذاکرات کے بعد سے نہیں دیکھا گيا ہے۔

کم جونگ ان ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے نتائج سے واضح طور پر ناراض ہیں اور کسی پر اس کا الزام لگانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ان کی سفارتی بازی اب تک کوئی نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہوئی ہے جس سے وہ دباؤ میں ہیں۔

شمالی کوریا پر سخت معاشی پابندیاں عائد ہیں جبکہ پیانگ یانگ اور واشنٹگن کے درمیان بات چیت معطل ہے۔

شمالی کوریا میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سرکاری اخبار رودونگ سنمن نے راوں ہفتے کے اوائل میں شائع ہونے والے اپنے ایک اداریے میں 'غداروں' اور 'نمک حراموں' کا ذکر کیا تھا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ جنھوں نے 'پارٹی مخالف' اور 'انقلابی اقدام کے منافی' کام کیا ہے انھیں 'انقلاب کا سخت فیصلہ جھیلنا پڑے گا۔'

ہرچند کہ اس ضمن میں کوئی نام نہیں لکھا گیا تھا تاہم پیغام واضح ہے۔

کم جونگ ان نے ماضی میں پھانسیاں دی ہیں۔ سنہ 2013 میں کم کے بااثر چچا جانگ سونگ-تھائگ کو غداری کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسیوں نے شمالی کوریا کے اعلان سے کئی روز قبل ہی ان کی موت کی بات ظاہر کر دی تھی۔

لیکن بارہا ان کی اس نوعیت کی رپورٹس غلط بھی ثابت ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلوکارہ ہیون سونگ وول نے سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کی نمائندگی کی تھی

ان میں سب سے نمایاں گلوکارہ ہیون سونگ-وول کی مبینہ موت تھی۔ اسی اخبار نے سنہ 2013 میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ انھیں گولیوں سے بھون دیا گیا جبکہ ان کے 'آرکیسٹرا کے ارکان کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔'

گذشتہ سال وہی ہیون سونگ وول سیول میں سرمائی اولمپکس سے قبل شمالی کوریائی مندوبین کی نمائندگی کر رہی تھیں اور وہ جاذبِ نظر کوٹ میں زیادہ پرکشش اور زندہ و جاوید نظر آئيں۔

جنوبی کوریائی خفیہ اداروں نے سنہ 2016 میں کہا کہ سابق فوجی سربراہ رائی یونگ-گل کو بدعنوانی کے الزامات میں پھانسی دے دی گئی ہے۔ اس کے چند ماہ بعد وہ عہدے میں ترقی پانے کے بعد سرکاری میڈیا پر نظر آئے۔

شمالی کوریا میں کسی ذریعے (خبر پہنچانے والے) کا ہونا کسی بھی صحافی کے لیے سب سے قیمتی چیز ہو سکتی ہے لیکن ساتھ ساتھ پریشان کن بھی۔ ہمارے پاس ان کے دعووں کی تصدیق کا کوئی راستہ نہیں۔

امریکہ اور سیول کے خفیہ ادارے کم ہیوک-چول کے بارے میں پتہ چلانے کی کوششوں میں لگے ہیں کہ آخر ان کا کیا بنا لیکن جب تک پیانگ یانگ خود سے اعلان نہیں کرتا شاید ہم ان کے بارے میں کبھی نہ جان سکیں۔

اسی بارے میں