امریکہ کی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے جدید ترین مسافر بردار طیاروں کے پروں میں ’نقص‘ کی نشاندہی

بوئنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بوئنگ نے دنیا بھر میں 300 سے زیادہ طیاروں میں ممکنہ ناقص پرزوں کے استعمال کی نشاندہی کی ہے (فائل فوٹو)

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے فضائی کمپنیوں کو ایسے تین سو سے زیادہ 737 طیاروں کے پروں میں ممکنہ نقائص کے بارے میں خبردار کیا ہے جو اس وقت استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ان میں جدید ترین ماڈل 737 ’میکس‘ بھی شامل ہیں جن کو دو فضائی حادثات کے بعد دنیا بھر میں گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

طیارے کے پروں میں استعمال ہونے والے ’وِنگ سلیٹس‘ نامی پرزے طیارے کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران جہاز پر پڑنے والے ہوا کے دباؤ کو کم کرتے ہیں۔

امریکہ کے ہوابازی کے نگران ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ’متاثرہ پرزے وقت سے پہلے ناکارہ ہونے کا اندیشہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بوئنگ طیاروں کی فیکٹری، حیرتوں کی انتہا

بوئنگ 737 میکس طیارے دنیا بھر میں گراؤنڈ

بوئنگ 737 میکس طیاروں پر پابندی کا سلسلہ جاری

فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اتھارٹی (ایف اے اے) کا مزید کہنا تھا کہ اس مسئلے کا پتہ ان پرزوں کی ’ناقص تیاری‘ کے عمل سے چلا۔

بوئنگ کمرشل ایئرپلینز کے صدر کیون میک ایلسٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اپنے صارفین کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہیں اور ان ممکنہ ناقص پرزوں کو تبدیل کرنے والے ہیں۔‘

بوئنگ کے چئیرمین اور چیف ایگزیکٹیو ڈینس مولینبرگ نے ٹی وی چینل سی این بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی کمپنی اس مسئلے کو بہت فوقیت دے رہی ہے۔

’یقیناً یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے ہمارے خریداروں پر پڑنے والے اثرات پر ہم شرمندہ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’737 میکس طیاروں کے حوالے سے جب بھی خبر آتی ہے تو اس کو انتہائی سنجیدگی اور اعلیٰ سطح پر دیکھا جاتا ہے۔ ہم اس معاملے کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔‘

ناقص پروں کی خبر آنے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں بوئنگ کے حصص کی قیمت میں 1.6 فیصد کمی آئی، تاہم کچھ بہتری کے بعد یہ کمی 0.8 فیصد پر آ گئی ہے۔

حالیہ مسئلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی پہلے ہی 737 میکس طیاروں کے گراؤنڈ ہونے کے نتائج بھگت رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ونگ سلیٹس طیارے کے پر کے اوپر آنے والی ہوا کے دباؤ کو کم کرتی ہیں (فائل فوٹو)

یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں انڈونیشیا اور اس سال مارچ میں ایتھوپیا میں 737 میکس طیاروں کو پیش آئے۔ ان دو فضائی حادثات میں 346 افراد کی ہلاکت کے بعد اس ماڈل کے طیاروں کو دنیا بھر میں گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔

ان واقعات کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اتھارٹی کی ساکھ کافی متاثر ہوئی جبکہ میکس طیاروں کو پرواز کے لیے موزوں ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتے وقت ہونے والی کوتاہی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

بوئنگ کمپنی میکس طیاروں کی پروازیں بحال کرنے کے لیے اس وقت ایک سافٹ ویئر پر کام کر رہی ہے تاہم امریکہ اور کینیڈا کے درمیان اس بات پر تنازع ہے کہ سافٹ ویئر کی درستگی کے بعد پائلٹس کو کس طرح تربیت دی جائے گی۔

امریکہ کا کہنا ہے کے ماہر پائلٹس کی کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر تربیت کافی ہو گی جبکہ کینیڈا چاہتا ہے کے تربیت فلائیٹ سیمیولیٹرز پر ہو۔

دنیا بھر میں دوسرے نگران ادارے بھی میکس طیاروں کی فضا میں واپسی کے لیے مربوط حکمت عملی پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں