طیب اردگان: ’ترکی کو آئندہ ماہ تک روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم ڈیلیور ہو جائے گا‘

روس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایس-400 روسی میزائل نظام

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے وہ پرامید ہیں کہ آئندہ ماہ جولائی تک انھیں روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم دستیاب ہو گا۔ اس میزائل سسٹم کو امریکہ اپنے طیاروں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ترکی ایک ہی وقت میں امریکہ سے جدید ایف-35 لڑاکا طیارے اور روس سے ایس- 400 طیارہ شکن میزائل سسٹم نہیں خرید سکتا۔

تاہم صدر اردگان کا کہنا ہے کہ ترکی ہر اس شخص سے باز پرس کرے گا جس نے ترکی کو ایف 35 پروگرام سے بیدخل کیا۔

روئٹرز کے مطابق صدر اردگان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جون کے اختتام پر ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے قبل وہ فون ڈپلومیسی کے ذریعے اس معاملے کو حل کر لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے!

اسرائیل: ایف 35 جنگی طیارہ استعمال کرنے والا پہلا ملک

روس کے میزائل شکن نظام کی تنصیب پر جاپان کو تشویش

روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟

صدر اردگان کے اس اعلان سے قبل امریکہ نے ترکی کو جولائی کے آخر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ امریکہ سے جنگی جہاز خریدے گا یا روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم۔

ترکی کو یہ الٹی میٹم امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی اکار کو ایک خط کے ذریعے دیا تھا۔

امریکہ اور ترکی دونوں نیٹو اتحادی ہیں اور ایس-400 طیارہ شکن میزائل سسٹم کے معاملے کو لے کر دونوں ممالک میں مہنیوں سے اختلاف جاری ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کا میزائل سسٹم نیٹو کے دفاعی نظام سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ عالمی سلامتی کو بہت بڑا خطرہ اور یہ چاہتا ہے کہ ترکی روس کا میزائل سسٹم خریدنے کی بجائے امریکہ سے اس کا پیٹریاٹ طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ترکی نے امریکہ سے جدید لڑاکا طیارے ایف-35 خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے

ترکی جو ایک آزادانہ دفاعی پالیسی کے لیے کوشاں ہے نے 100 امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں اور ملکی سطح پر ایف-35 طیارے کے پرزے بنانے کے لیے 937 ترکی کمپینوں کے ساتھ بہت زیادہ سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔

ترکی کو کن نتائج کا سامنا کرنا ہوگا

قائم مقام امریکی وزیر دفاع شانہان نے خط میں کہا ہے کہ امریکہ کو یہ جان کر 'مایوسی' ہوئی کہ ترکی نے اپنے فوجیوں کو روس میں ایس-400 طیارہ شکن میزائل نظام کی تربیت کے لیے بھیجا ہے۔

انھوں نے لکھا ' ترکی کو ایف-35 لڑاکا طیارہ نہیں ملیں گے اگر ترکی نے ایس-400 طیارہ شکن میزائل نظام خریدا، ترکی کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ایس-400 میزائل نظٌام کی خریداری پر اپنا ارادہ تبدیل کر لے۔'

اس خط میں ایف 35 طیاروں کی پائلٹ ٹریننگ میں ترکی کی شرکت کے خاتمے کے لئے ایک شیڈول بھی شامل ہے.

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@Joyce_Karam
Image caption قائم مقام امریکی وزیر دفاع کا ترکی ہم منصب کو لکھا گیا خط

امریکی نائب وزیر دفاع ایلن لارڈ نے رپورٹرز کو بتایا کہ ' ہم نہیں چاہتے کہ اس عرصے میں ایف 35 طیاروں کو روسی طیارہ شکن میزائل نظام کے ساتھ استعمال کیا جائے اور وہ ان جہازوں کی صلاحیت کو جانچنے۔'

ترکی کے حوالے ہونے والے پہلے چار ایف -35 لڑاکا طیارے ابھی تک امریکہ نے ترکی کو نہیں دیے ہیں ، اور ترک پائلٹوں کو ان جہازوں ہر امریکہ میں باضابطہ تربیت دینے کی اجازت نہیں دی ہے۔

ترک صدر طیب اردوغان کا منگل کو کہنا تھا کہ ان کا ملک ایس-400 میزائل نظام کے حصول کے معاہدے کی لیے مکمل طور پر 'پرعزم' ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے امریکی میزائل نظام پیٹریاٹ پر ہمیں امریکہ سے کوئی مثبت پیش کش نہیں کی گئی تھی جس طرح سے ہمیں روس سے ایس-400 میزائل پر کی گئی۔'

ترکی کی فوج نیٹو ممالک اتحاد میں دوسری سب سے بڑی فوج ہے، یہ 29 ممالک رکنی فوجی اتحاد سوویت یونین کے خلاف دفاع کے لئے قائم کیا گیا تھا۔

روس کے ریاستی دفاعی تنظیم کے سربراہ رستیک، سرجئی کیممیف نے جمعہ کو یہ بتایا کہ روس 'تقریباً دو ماہ` میں ترکی کو ایس -400 میزائل نظام کی ترسیل شروع کرے گا.

ایس- 400 میزائل نظام ہے کیا؟

ایس-400 'ٹریمف' زمین سے فضا میں مار کرنے والا دنیا کا سب سے جدید میزائل نظام ہے۔

یہ میزائل نظام 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں تقریباً 80 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ یہ میزائل نظام فضا میں نچلی سطح پر پرواز کرنے والے ڈرونز سمیت مختلف بلندیوں پر پرواز کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دور تک مار کرنے والے میزائلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایس-400 میزائل نظام کیسے کام کرتا ہے؟

  • لانگ رینج کی نگرانی کے ریڈار گاڑیوں کو کمانڈ کرنے کے لۓ اشیاء اور ریل کی معلومات کو ٹریک کرتی ہے، جو ممکنہ اہداف کا تعین کرتی ہے
  • ہدف کی نشاندہی کرتا ہے اور کمانڈ گاڑی کو میزائل داغنے کے احکامات جاری کرتا ہے
  • لانچ ڈیٹا کو میزائل لانچ کرنے کی لیے موزوں جگہ پر کھڑی گاڑی کوہدف کی معلومات فراہم کرتا ہے اور وہ زمین سے فضا میں میزائل داغ دیتی ہے
  • ریڈار میزائلوں کو ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں