سعودی عرب: ابہا کے ہوائی اڈے پر ’حوثی باغیوں کے میزائل حملے‘ میں 26 زخمی

ریاض تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ چند ہفتوں کے دوران حوثیوں کا سعودی عرب میں کسی ہوائی اڈے پر دوسرا حملہ ہے

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع شہر ابہا کے ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

یمن میں جاری لڑائی میں شریک سعودی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ابہا ایئرپورٹ پر بدھ کی صبح ایک میزائل فائر کیا گیا جس کے گرنے سے 26 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فوجی ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں تین خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ زخمی خواتین میں ایک یمنی، ایک انڈین اور ایک سعودی خاتون ہیں جبکہ آٹھ افراد کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

حملے سے ایئرپورٹ کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کرنل ترکی المالکی کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے میزائل کی شناخت کی جا رہی ہے تاہم حوثیوں کی ویب سائٹ کے مطابق یہ حملہ کروز میزائل سے کیا گیا جس سے ہوائی اڈے کا واچ ٹاور تباہ ہوا۔

حوثی باغیوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ میزائل حملے کے بعد ابہا ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا۔

یہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حوثیوں کا سعودی عرب میں کسی ہوائی اڈے پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل مئی کے تیسرے ہفتے میں حوثیوں نے جنوبی سعودی صوبے نجران میں ایئرپورٹ پر اسلحے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا تھا۔

حوثیوں کے المصیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اِس حملے میں ’کے ٹو قصیف ڈرون' کا استعمال کیا گیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق اِس حملے کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALMASIRAH

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق اِس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے یمن میں سعودی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک ڈرون کے ذریعے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو عام لوگوں کے زیرِ استعمال تھیں۔

اس سے قبل سعودی ٹی وی العربیہ کی ویب سائٹ نے عینی شاہدین کے حوالے سے خبر دی تھی کہ 'مکہ کو میزائل سے نشانہ بنانے کی حوثی باغیوں کی کوشش کو ناکام بنایا گیا ہے۔'

جبکہ حوثی باغیوں نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی تھی کہ انھوں نے مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشمکش کے باعث یہ خطہ اِس وقت کشیدگی کا شکار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں