خلیج عمان کشیدگی: سعودی عرب نے ٹینکر حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا دیا

خلیج عمان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے خلیجِ عُمان میں تیل کے دو ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے

سعودی عرب نے خلیج کے ایک اہم بحری راستے میں تیل کے ٹینکروں پر تازہ حملے کے لیے حریف ملک ایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

علاقے میں کشیدگی میں اضافے کے دوران سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی قسم کے خطرے سے نمٹنے میں کوئی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

جمعرات کو خلیج عمان میں دو ٹینکروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ حملہ ان چار دوسرے ٹینکروں پر متحدہ عرب امارات کے ساحل سے دور سمندر میں ہونے والے حملے کے ایک ماہ بعد ہوا ہے۔

امریکہ نے بھی ان حملوں کا الزام ایران پر لگایا ہے لیکن ایران نے فوری طور پر ان کی تردید کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران نے جمعرات کو ہونے والے اس واقعے میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے سے فوری انکار کیا ہے

شہزادہ محمد بن سلمان نے عالم عرب کے معروف اخبار 'الشرق الاوسط' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم خطے میں کوئی جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اپنے لوگوں، اپنی خومختاری، اپنی سالمیت اور اپنے اہم مفادات کو لاحق خطرے سے نمٹنے میں کسی قسم کے پس و پیش کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔'

یہ بھی پڑھیے

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

ایران نے بارودی سرنگیں استعمال کیں: امریکی الزام

’ٹینکروں سے بارودی سرنگ ہٹانے کی ویڈیو‘، ایران کا انکار

انھوں نے مزید کہا کہ 'ایرانی حکومت نے جاپانی وزیر اعظم کے تہران دورے کا کوئی خیال نہیں کیا۔ جب وہ وہاں تھے تو اس نے ان کی کوششوں کا جواب دو ٹینکروں پر حملہ کر کے دیا۔ ان ٹینکروں میں سے ایک ٹینکر جاپان کا تھا۔'

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے اس سے قبل حملے کے 'سریع اور فیصلہ کن' جواب کی بات کہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ملکی مفادات اور سالمیت کو لاحق کسی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہچکچائيں گے بھی نہیں

سنیچر کو دنیا کی سب سے بڑی دو بین الاقوامی شیپنگ ایسوسی ایشنز نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے بعض کمپنیوں نے اپنے جہاز کو آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں جانے سے روک دیا ہے۔

بحری سکیورٹی بمکو (بی آئی ایم سی او) کے سربراہ جیکب لارسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر صورت حال مزید خراب ہوتی ہے تو ٹینکروں کی حفاظت کے لیے اس کے ہمراہ فوجی دستے ہوں گے۔

امریکہ نے ایک ویڈیو پیش کی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جمعرات کے حملے کے بعد ایرانی فوجی ایک کشتی میں سوار ہوکر بحری جہاز کے ساتھ لگے اس بارودی دھماکہ خیز مواد کو ہٹا رہے تھے جو پھٹنے میں ناکام رہے۔ لیکن اس نے اس سے قبل متحدہ عرب امارت کے سمندر میں ہونے والے حملوں کے شواہد فراہم نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا‘

امریکہ: ایران سے بغیر کسی شرط کے بات چیت کرنے کے لیے تیار

خلیجِ عُمان میں ٹینکرز پر ’حملے کا ذمہ دار ایران‘

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سنہ 2017 میں صدر بننے کے بعد سے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کافی کمی آئی ہے۔ انھوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ختم کر دیا اور ایران پر اہم پابندیاں عائد کردیں۔

Image caption خلیج عُمان میں ٹینکروں کا محل وقوع

برطانیہ نے کہا ہے کہ جمعرات کے حملے کی ذمہ داری 'تقریباً یقینی طور پر' ایران پر عائد ہوتی ہے۔

اس نے ایران کے اس دعوے کو بھی جھٹلا دیا کہ تہران نے برطانوی سفیر کو بلا کر لندن کے ردعمل پر باضابطہ شکایت درج کی ہے۔

بہر حال برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ سفیر نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے ایران کے ایک سینیئر اہلکار سے ملاقات کی ہے۔

ایران کی میڈیا میں کہا گیا ہے کہ ایرانی اہلکار نے سفیر سے کہا کہ ایران حملے کے حوالے سے برطانیہ کی جانب سے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

اسی بارے میں