پیرو کا قدیم گھاس سے بنا ہوا پل

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

ہر سال پیرو کے علاقے کوئسکا میں اپوریمیک دریا پر رسی سے بنے پل کو گِرا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا پل تعمیر کر دیا جاتا ہے۔ یہ پل پیرو کے شاہی خاندان کی آخری باقیات میں سے ایک ہے اور آج بھی قابلِ استعمال ہے۔

کوئسکا نامی یہ پل کم از کم 600 برس قبل ہاتھ سے تیار کیا گیا تھا اور گئے زمانوں میں یہ شاہی سلطنت میں شہروں اور قصبوں کو ملانے والی شاہراہوں کا ایک اہم حصہ تھا۔ اس پل کو اقوام متحدہ کے آثار قدیمہ نے سنہ 2013 میں عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لاطینی امریکہ: پہلا پیار پیرو سے

بچوں کی ’سب سے بڑی انسانی قربانی‘

پیرو کی 'نازکا لائنز' کی خلا سے فوٹوگرافی

امریکہ سمگل کیے گئے نوادرات کی پیرو واپسی

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

ہر سال پل کو ہاتھ سے بنانے کی یہ روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے اور دریا کے دونوں اطراف آبادی کے بڑے اس پل کو نئی زندگی دینے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

کہا جاتا ہے کہ اس پل کو بنانے میں صرف مرد حصہ لیتے ہیں جبکہ خواتین پل کے اوپر کے راستے کے لیے چھوٹی رسیاں تیار کرتیں ہیں۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

پل کی تعمیر کے پہلے دن مرد پل کے گرد اکٹھے ہو کر چھوٹی رسیوں کو بڑی رسیوں کے اندر پروتے ہیں۔

اس پل کا مرکزی سہارا تین تہوں والی چھ بڑی رسیوں سے تعمیر کیا جاتا ہے جن کی موٹائی ایک فٹ تک ہوتی ہے۔ اور ہر ایک بڑی رسی میں تقریباً 120 چھوٹی رسیاں پروئی ہوئی ہوتی ہیں۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

ہر خاندان دو تہہ والی ہاتھ سے بنی رسی کی تیاری میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس رسی کو ایک خاص قسم کی خشک گھاس سے بنایا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں کویا ایچوں کہا جاتا ہے۔

اس کو لچک دار اور نرم بنانے کے لیے گھاس کو پہلے گول پتھر سے مسلا جاتا ہے اور پھر اسے پانی میں بھگویا جاتا ہے۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

جب سب لوگ پل کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں تو کچھ گاؤں والے تندور میں کھانے پکا کر ان کے لیے لاتے ہیں۔

اس موقع پر مرغی، اپوریمیک کے دریا کی ٹراوٹ مچھلی اور گنی پگ یعنی چوہے کی طرح کے چھوٹے جانور کے پکوان عمومی طور پر اس موقع پر مقبول ہوتے ہیں۔ ان تمام پکوان کے ساتھ مختلف شکلوں اور رنگوں کے آلو بھی پکائے جاتے ہیں۔

پرانے پل کو کاٹ دیا جاتا ہے اور اسے دریا میں بہا دیا جاتا ہے، گھاس کا بنا ہونے کے باعث یہ پل آسانی سے پانی میں گل سڑ جاتا ہے۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

بُنے ہوئے گھاس کی چھ چھڑیوں میں سے چار پل کی منزل بن جائے گی اور دوسرے دو زینے ہوں گے۔

تمام چھ رسیوں کو مضبوطی سے پہاڑی کے دونوں اطراف پر کھودے ہوئے پتھر کے ساتھ بڑی مضبوطی کے ساتھ باندھا جاتا ہے. اور اس پل کی رسیوں کو مناسب سے باندھنے اور کھینچنے میں مردوں کے دن کا بہت سا حصہ صرف ہوتا ہے۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

تیسرے دن وہ افراد جنھیں بلندی سے کوئی خوف نہیں ہوتا اس پل کی ڈھانچے پر چلتے ہوئے زینے سے چھوٹی رسیوں کو پل کی فرش پر باندھتے ہیں اور ایک ایسا جال بنا دیتے ہیں جو باقی افراد کے لیے آسانی سے پل پار کرنا ممکن بناتا ہے۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

پل کی تیاری کے سارے عمل میں کوئی جدید مشینری، اوزار اور مواد استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف گھاس اور افرادی قوت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

کوئسکا پل کی تعمیرِ نو کا کام سال میں ایک مرتبہ کیا جاتا ہے اور اس کا اختتام چوتھے روز موسیقی اور پکوان تیار کر کے جشن کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور یہ ہر برس جون کے دوسرے ہفتے میں اتوار کو ہوتا ہے۔

پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Jordi Busque

تصاویر بشکریہ جورڈی بُسکے

اسی بارے میں