امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی بھیجنے کا اعلان: ’عراق کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے‘

عراقی وزیر اعظم عدل عبدل مہدی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے مسلح افواج کے جنرل چیف کی حیثیت سے کسی بھی غیر ملکی طاقت یا ملک پر حکومت کی اجازت کے بغیر عراقی سرزمین کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ فیصلہ عراقی وزیر اعظم کی سرکاری ویب سائٹ پر منگل کو شائع ہونے والے چار نکاتی بیان میں سامنے آیا۔

بیان میں کہا گیا ہے 'کسی بھی غیر ملکی طاقت پر عراقی حکومت کی اجازت، معاہدے اور کنٹرول کے بغیر عراقی علاقے کے استعمال یا اسے منتقل کرنے پر پابندی ہے۔'

وزیراعظم نے عراقی مسلح افواج کے فریم ورک یا کمانڈ اور نگرانی سے باہر کسی بھی مسلح عراقی یا غیر عراقی قوت کے قیام پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

عادل عبدالمہدی نے عراقی مسلح افواج کے فریم ورک کے اندر کسی بھی مسلح افواج کو منتقل کرنے یا آپریشن کرنے، گوداموں یا صنعتوں کو جو عراق کی افواج کے زیر اثر نہ ہوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

مزید پڑھیے

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

’ٹینکروں سے بارودی سرنگ ہٹانے کی ویڈیو‘، ایران کا انکار

'ہم کسی خطرے سے نمٹنے میں پس و پیش نہیں کریں گے'

ایران نے بارودی سرنگیں استعمال کیں: امریکی الزام

خیال رہے کہ عراقی وزیر اعظم کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے حال ہی میں ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے خلیج فارس میں آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا ہے، جس کی ایران تردید کرتا ہے۔

خلیج عمان میں جمعرات کو دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جس کے بعد امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار اضافی فوجی بھیج رہا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فوجی حکمتِ عملی کے لحاظ سے آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

امریکہ کی طرف سے ایران پر 'انتہائی' دباؤ

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ان ٹینکروں پر 'بلااشتعال حملوں' کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جبکہ تہران کی جانب سے یہ الزام مسترد کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل چین نے امریکہ کی طرف سے ایران پر 'انتہائی' دباؤ بڑھانے پر تنقید کی تھی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ یی نے منگل کو امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا پنڈورا بکس کھلنے کا خطرہ ہے۔

چین کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ نے خطے میں مزید ایک ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے سرکاری ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کسی کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری دیکھ سکتی ہے کہ امریکہ کا رویہ کیا اور ایران کا رویہ کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ان ٹینکروں پر 'بلااشتعال حملوں' کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جبکہ تہران کی جانب سے یہ الزام مسترد کر دیا گیا تھا۔

امریکہ کے قائم مقام وزیرِ دفاع پیٹرک شناہن کے مطابق ان فوجی دستوں کی تعیناتی ایرانی فوج کے 'جارحانہ رویے' کے ردعمل میں کی گئی۔

امریکی بحریہ نے کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن سے ان کے مطابق ایران کے ان حملوں میں ملوث ہونے کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔

ایران نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ اگر یورپی ممالک نے اسے امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو وہ 27 جون کو افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ US Department of Defense

اضافی فوجی دستوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے مزید دستوں کی تعیناتی کا اعلان سیکریٹری دفاع شیناہن نے پیر کو کیا۔

اپنے بیان میں انھوں نے کہا 'امریکہ ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا' البتہ فوجی دستوں کی تعیناتی اس لیے کی گئی ہے تاکہ وہ 'اس خطے میں ہمارے فوجی اہلکاروں اور (امریکہ کے) قومی مفادات کی حفاظت کر سکیں۔'

ان کا کہنا تھا 'ایران کے حالیہ حملوں نے ایرانی افواج اور اس کے گماشتوں کے جارحانہ رویوں کے بارے میں ہماری قابلِ اعتماد انٹیلیجنس معلومات کو درست ثابت کیا ہے اور یہ رویے خطے میں امریکی فوج اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ امریکی فوج اس صورت حال کی نگرانی کرتی رہے گی اور فوجیوں کی تعداد کو ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں کہ یہ اضافی فوجی دستے کہاں تعینات کیے جائیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ ماہ علاقے میں 1500 فوجیوں کی تعیناتی کے حکم کے علاوہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا لیکن وہ 'تمام ممکنہ امکانات پرغور کر رہا ہے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پینٹاگون کی جاری کردہ تصویر جس میں ان کے مطابق ایرانی کے پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کو دیکھا جاسکتا ہے جب وہ نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ کے باقیات کو جاپانی ٹینکر سے ہٹا رہے ہیں

تازہ ترین تصاویر کیا بتاتی ہیں؟

مزید فوجیوں کی تعیناتی کے اعلان کے بعد امریکی محکمۂ دفاع نے کچھ نئی تصاویر بھی جاری کیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ جاپانی آئل ٹینکر پر نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ کی باقیات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

تصاویر میں بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار بارودی سرنگ ہٹا رہے ہیں۔ اس سے قبل پینٹاگون نے اِسی بارے میں ایک دھندلی ویڈیو پہلے ہی جاری کی ہوئی ہے۔

تصاویر میں جاپان کے تیل بردار بحری جہاز کوکوکا کریجیئس پر واٹر لائن سے اوپر ایک سوراخ بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو بظاہر نقصان کی نشاندہی کر رہا ہے۔

ایک اور تصویر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ کی باقیات کو ہٹا رہے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو ہونے والے اس حملے میں ناروے کے تیل بردار بحری جہاز دی فرنٹ الٹئر کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

امریکہ نے ان تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں مئی کے دوران ہونے والے ایسے چار حملوں کا الزام بھی ایران پر عائد کیا تھا جس کے جواب میں ایران نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں