پناہ گزین کا عالمی دن: اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں سات کروڑ سے زیادہ افراد گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے

وینزویلا کی ایک پناہ گزیں بچہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ رپورٹ میں وینزویلا میں جاری بحران کی مکمل عکاسی نہیں کی گئی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے قیام کے ستّر برسوں کے دوران پہلی بار جنگوں، تنازعات اور جبر کے باعث بے گھر ہونے اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد سات کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ادارے کی سالانہ رپورٹ، گلوبل ٹرینڈز، کے مطابق گذشتہ برس 23 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

یہ تعداد 20 برس پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 37 ہزار افراد روزانہ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’نصف سے زیادہ پناہ گزین بچے ہونا لمحۂ فکریہ ہے‘

افغان پناہ گزین طلبا ’نہ اِدھر کے رہیں گے نہ اُدھر کے‘

’2017 میں پانچ لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی ہوئی‘

ایسے افراد کو پناہ دینے والے ممالک میں ترکی سرِفہرست ہے جہاں پناہ گزینوں کی تعداد 37 لاکھ ہے جبکہ پاکستان دوسرے نمبر ہے جہاں اس وقت پناہ گزینوں کی تعداد14 لاکھ ہے۔ یوگینڈا میں 12 لاکھ، سوڈان میں 11 لاکھ جبکہ جرمنی میں بھی 11 لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ ’ان اعداد و شمار میں جو چیز ہمیں نظر آ رہی ہے وہ اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ طویل مدت میں جنگوں، تنازعات اور جبر سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

’اگرچہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے تلخی کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی ہم دوسرے لوگوں کی جانب سے فراخدلی کا مظاہرہ بھی دیکھ رہے ہیں، خاص طور سے جو ان افراد کو پناہ دیتے ہیں۔‘

دنیا کی آبادی کے تناسب سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سنہ 1992 میں پناہ لینے والوں کی تعداد سب سے زیادہ 3.7 افراد فی ہزار تھی جبکہ سنہ 2018 کے اختتام پر یہ دگنی سے بھی زیادہ سطح پر پہنچ گئی، یعنی 9.3 افراد فی ہزار تھی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کے مطابق سنہ 2018 کے حقیقی اعداد و شمار کہیں زیادہ ہیں کیونکہ رپورٹ میں وینزویلا کے بحران کی وجہ سے نقل مکانی کرنے کی درست تعداد کی عکاسی نہیں ہو سکی ہے۔

وینزویلا کے شہریوں کو پناہ دینے والے ملکوں کے مطابق تقریباً چار ملین افراد نے وینزویلا سے نقل مکانی کی ہے جو کہ حالیہ عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی ہے۔

رپورٹ میں تین بڑے گروہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلا گروہ ان لوگوں کا ہے جنھیں جنگوں، تنازعات یا جبر کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ سنہ 2018 میں ایسے پناہ گزینوں کی تعداد دنیا بھر میں دو کروڑ 59 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ سنہ 2017 کے مقابلے میں پانچ لاکھ زیادہ ہے۔ اس تعداد میں 55 لاکھ فلسطینی پناہ گزین بھی شامل ہیں۔

دوسرا گروہ 35 لاکھ تارکین وطن کا ہے جنھوں نے اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ کی درخواست دے رکھی ہے مگر ابھی ان کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

تیسری قسم ان افراد کی ہے جنھیں ملک کے اندر ہی نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ عالمی سطح پر ان کی تعداد 34 لاکھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے دو تہائی سے بھی زائد کا تعلق شام، افغانستان، جنوبی سوڈان، میانمار اور صومالیہ سے ہے۔

شام کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ 67 لاکھ ہے جس کے بعد افغانستان ہے جس کے پناہ گزینوں کی تعداد 27 لاکھ ہے۔

سنہ 2018 میں صرف 92 ہزار چار سو پناہ گزینوں کو واپس ان کے گھروں میں بسایا جا سکا ہے۔ یہ اپنے گھروں کو لوٹنے کے منتظر افراد کا سات فی صد سے بھی کم ہے۔

جبری نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے جو کہ سنہ 2009 میں چار کروڑ 33 لاکھ تھی۔ شام میں جنگ کی وجہ سے اس میں زیادہ اضافہ سنہ 2012 اور سنہ 2015 کے دوران ہوا۔

تاہم دنیا بھر میں دوسرے تنازعات بھی پیدا ہوئے اور اب بھی جاری ہیں۔ مثلاً مشرق وسطیٰ میں عراق اور یمن، اسی طرح سب صحارا میں ڈیموکریٹک رپبلک آف کونگو اور جنوبی سوڈان۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنہ 2017 کے اختتام پر میانمار کی رخائن ریاست میں فوجی آپریشن کے بعد روہنگیا پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد بنگلہ دیش پہنچی۔

سنہ 2018 میں 15 لاکھ ایتھوپین شہری پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ تعداد اس برس سب زیادہ رہی جوکہ ابتدائی تعداد کے مقابلے میں 98 فی صد ہے۔ اس کا سبب متنازع حدود کے پاس رہنے والی مختلف برادریوں کے درمیان جھگڑوں میں ہونے والے تشدد کو گردانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں