رضا اسلان: ’ایران سے جنگ ہو گی یا نہیں سب ٹرمپ کے دماغ میں ہے‘

رضا اسلان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رضا اسلان حال ہی میں کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں بطورِ مہمان لیکچر دینے کے لیے آئے تھے

آپ ایرانی نژاد امریکی مصنف اور مبصر رضا اسلان سے ملیں تو وہ مذہب کے بارے میں بات کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں اور اس بارے میں ان کا ایک منفرد نظریہ بھی ہے۔

رضا صرف سات سال کے تھے جب ان کے والدین نے ایران سے امریکہ نقل مکانی کی۔

یہ دور ایران میں انقلاب کا تھا۔ حالانکہ ان کے گھر میں مذہبی گفتگو نہیں کی جاتی تھی لیکن رضا کی تعلیم کا مرکز مذہب رہا اور انھوں نے پہلے مذہبی امور کی تعلیم میں بی اے اور پھر تھیولوجیکل سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔

47 سالہ اسلان نے اب تک مذہب پر چار کتابیں لکھی ہیں اور ان میں سے ’زیلٹ‘ نامی کتاب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سی این این کی مشہور دستاویزی سیریز ’بیلیور‘ کا بھی حصہ رہے ہیں۔

رضا حال ہی میں کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں بطورِ مہمان لیکچر دینے کے لیے آئے۔ ان کی تقریر کا موضوع یقین، عقیدہ اور شناخت سے متعلق سوالوں کے گِرد گھوم رہا تھا جس میں انھوں نے مذہب سے متعلق موجودہ سوچ، انسان کیوں یقین کرتا ہے اور مذہب سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

’مذہب پر جو کہنا چاہتا تھا کہہ چکا‘

اس موقع پر بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں رضا اسلان نے ایک انکشاف کیا کہ وہ اب مذہب پر مزید کتابیں نہیں لکھیں گے۔ اس سوال پر کہ یہ فیصلہ انھوں نے کیوں لیا، ان کا کہنا تھا کہ ’میں کتابیں لکھوں گا اور اب بھی واضح طور پر مذہب اور شناخت پر لکھنا چاہتا ہوں لیکن میرے خیال سے میں مذہب کے بارے میں جو کہنا چاہتا تھا، کہہ چکا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری اب ایک آڈیئنس ہے۔ ایک طرف میں فلم اور ٹیلی ویژن کے لیے کام کررہا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے ہماری آڈیئنس وہیں ہے اور اگر میں حقیقت میں لوگوں کی سوچ بدل سکتا ہوں تو وہ یہی پلیٹ فارم ہے۔ اس کے علاوہ پاپ کلچر ہے جو ہمیشہ سے اپنا پیغام پہنچانے کا اچھا ذریعہ ہے۔ اور میں اب کتابوں میں مذہبی عنصر پر تو بات کروں گا لیکن وہ خصوصی طور پر مذہب کے بارے میں نہیں ہوں گی۔‘

Image caption مصنف، میزبان اور پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ رضا ایک مبصر کی حیثیت سے بھی توجہ حاصل کر چکے ہیں

’صحافی نہیں مبصر ہوں‘

مصنف، میزبان اور پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ رضا ایک مبصر کی حیثیت سے بھی توجہ حاصل کر چکے ہیں جہاں ٹی وی پر ان کے تبصروں کو سُننے سے لے کر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان کی ٹویٹس تک سب غور سے پڑھتے ہیں۔

لیکن اکثر رضا کی صاف گوئی ان کے کام کے آڑے بھی آجاتی ہے۔ جون 2017 میں سی این این نے رضا کو اپنی دستاویزی سیریز بیلیور سے یہ کہہ کر ہٹا دیا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف ان کی ٹویٹس ادارے کی پالیسی کے برعکس ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے رضا اسلان نے کہا کہ ’میں صحافی نہیں ہوں۔ میں صحافیوں کی اور صحافت کے پیشے کی بہت عزت کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک صحافی کی عمر لگ جاتی ہے اپنے پیشے کی اقدار سمجھنے اور نبھانے میں۔ لیکن میں صحافی نہیں ہوں۔ میں ایک مبصر ہوں جو کہ ایک بالکل مختلف بات ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت دنیا بھر میں صحافیوں کو اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان کا اپنی رائے کا اظہار کرنا بارودی سرنگوں سے بھرے میدان میں قدم رکھنے سے کم نہیں ہے۔‘

رضا اسلان کا کہنا تھا کہ جہاں تک بات صدر ٹرمپ کے بارے میں ان کے خیالات کے اظہار کی ہے تو وہ اپنے خیالات کا اظہار یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ وہ جس صدر کے بارے میں بات کر رہے ہیں ’وہ صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے سے کم نہیں۔‘

ان کے مطابق ’میں نے جو کہا تھا وہ میری ذاتی رائے تھی لیکن سی این این کو لگا کہ اس سے ان کا نام متاثر ہوگا اور انھوں نے مجھے نکالنا بہتر سمجھا تو میں نے ان سے بحث نہیں کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رضا اسلان نے کہا کہ امریکی صدر اپنے ملک اور پوری دنیا کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں

’امریکی خارجہ پالیسی اس وقت ایک معمہ ہے‘

رضا اسلان کے ساتھ ٹوئٹر پر جھگڑنے کے علاوہ صدر ٹرمپ کے حال ہی میں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے ساتھ ٹویٹس کے تبادلے سے کافی لوگوں اور مبصرین کو ایسا تاثر ملا جیسے امریکہ کا اگلا نشانہ ایران بننے والا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا ان کے خیال میں امریکہ ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے، رضا اسلان نے کہا کہ اس وقت امریکی عوام یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخر صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کو کیسے سمجھا جائے۔

’ان سے پہلے صدارتی بیان یا بات کا مطلب پالیسی کے زمرے میں لیا جاتا تھا۔ اگر صدر اوباما، صدر بُش یا صدر کلنٹن اگر ایران سے نمٹنے یا دو طرفہ باہمی امور پر کچھ کہتے تھے تو اس کو امریکی پالیسی سمجھا جاتا تھا لیکن کیونکہ ہمارے صدر ایک جذباتی نوجوان کی طرح ٹویٹ کرتے ہیں تو اس لیے ہم سب کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا اب یہ امریکی پالیسی ہے یا امریکہ کا دنیا کے لیے طے کردہ ردعمل ہے یا ان سب کے برعکس کیا ٹرمپ رات کے چار بجے پنیر والا برگر کھاتے ہوئے دنیا سے ٹوئٹر کے ذریعے جھگڑا مول لے رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے لیے یہ سمجھنا ایک معمے سے کم نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک ایران کے ساتھ تنازعے کی بات ہے تو اگر وائٹ ہاؤس میں ایک عقلمند اور بُردبار شخص ہوتا تو اس بات کا جواب باآسانی دیا جا سکتا تھا لیکن اس وقت کی صورتحال عام نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں جانتا کہ صدر ٹرمپ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کی ’باتیں اور اقدامات مکمل طور پر غیرمعقول ہیں۔ ہم ایران کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ سب ان کے (صدر ٹرمپ کے) دماغ میں کہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رضا اسلان کے مطابق امریکہ ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں سب کچھ امریکی صدر کے دماغ میں کہیں نہاں ہے

’سفید فام قوم پرستی اور مذہب‘

رضا اسلان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ میں ابھرتی ہوئی سفید فام قوم پرستی کے حوالے سے خوف بہت ہی واضح طور پر نسلی بنیادوں پر پنپ رہا ہے۔

ان کے مطابق ’امریکہ میں نسل اور مذہب میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہماری نسلی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس میں مذہب اور نسل کو مضبوطی سے ایک دوسرے سے جوڑ دیا گیا تھا۔‘

اسلان نے کہا کہ خوف کا ایک عنصر اپنے خلاف کسی بھی قسم کی بات کو پروپیگینڈا کا نام دے کر روکنے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ’زیادہ تر لوگ دنیا کے کسی بھی حصے میں چلے جاییں وہ اپنے جیسے لوگ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ پھر چاہے وہ مذہبی انتہا پسند ہوں یا نسل پرست۔‘

’عرب سپرنگ اور ڈیجیٹل جنگ‘

سوڈان کے حالات اور انٹرنیٹ پر روک ٹوک کی بات کرتے ہوئے امریکی مبصر اور تجزیہ کار نے کہا کہ ’اس وقت سوڈان میں جو ہو رہا ہے وہ باقی ممالک میں رائج حالات سے مختلف نہیں۔ چاہے وہ ترکی ہو یا چین یا روس۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عرب سپرنگ سے لوگوں میں امید پیدا ہوئی کہ آن لائن احتجاج معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتا ہے کیونکہ اس پلیٹ فارم کو روکا نہیں جا سکتا۔ ہم کتنے بیوقوف اور معصوم تھے! کیونکہ اب انھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور کی جا رہی ہے۔‘

اس پر مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اب گلی، محلوں اور میدانوں سے زیادہ سختی آپ کو آن لائن پلیٹ فارمز پر ملے گی۔ یہ ایک تباہ کن صورتحال ہے۔ میرے خیال میں جب بھی ہم مطلق العنانیت یا اس کی شکل میں موجود حکومت کو چیلنج کرنے کا کوئی طریقہ کار ڈھونڈتے ہیں اور پرامید ہوتے ہیں تو وہ لوگ بھی اپنا ردعمل سوچ سمجھ کر تبدیل کر لیتے ہیں تاکہ اپنے خلاف اٹھنے والے آواز کو دبا سکیں‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں