متعدد ایئر لائنز کا ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی ڈرون طیارے کو ایران کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کے واقعہ کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو ایران کی فضائی حدود سے گزرنے سے منع کر دیا ہے

دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے عراق میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کا انخلا شروع کر دیا ہے۔

خلیج کی بڑی فضائی کمپنی اتحاد ایئر لائنز نے بھی اپنے طیاروں کو آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اوپر سے گزرنے سے روک دیا ہے۔

ایران کی سول ایویشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ایران کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

امریکی ڈرون طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے دوسرے طرف ایران بھی ان دھمکیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر تین اہداف کو نشانہ بنانے کا حکم بھی دے دیا تھا لیکن اس کو آخر لمحے میں خود ہی واپس لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب انھیں بتایا گیا کہ اس حملے میں ایران کے کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو سکتے ہیں تو انھوں یہ حکم واپس لے لیا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خطرے سے خطے کے ملکوں کے علاوہ بین الاقوامی برادری بھی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ اینڈریو مورسن اتوار کو تہران کا دورہ کرنے والے ہیں جس دوران وہ اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

امریکی شہریوں کا عراق سے انخلا؟

امریکی فضائیہ کے کرنل کیون واکر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر مختلف امریکی کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے غیر فوجی اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔

انھوں نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا ہے۔

بلاد کے فوج اڈے پر گزشتہ ہفتے تین راکٹ داغے گئے تھے لیکن کسی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

لاک ہیڈ مارٹن کی مشرق وسطی میں موجود ایک ترجمان نے کہا تھا کہ کمپنی کے ملازمین کو بلاد کے فضائی اڈے سے نہیں نکالا جا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خلیج عمان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے

بلاد کے فضائی اڈے کے علاوہ دیگر فوجی تنصیبات پر بھی، جہاں امریکی فوجی اور شہری موجود ہیں، راکٹ حملے کئے گئے ہیں۔ عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے قریب بھی ایک اڈے پر راکٹ داغے گئے جہاں ایک بڑی امریکی کمپنی کے ملازمین کام کر رہے تھے۔

ان حملوں کی ذمہ داری کسی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے لیکن عام خیال یہی ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کے حمایت یافتہ عناصر اور تنظیم ملوث ہیں۔

حال ہی میں خلیج عمان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جس کے بعد امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار اضافی فوجی بھیج رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں