امریکہ ایران کشیدگی: ایرانی ہتھیاروں کے نظام پر امریکہ کا ’سائبر حملہ‘

ایرانی میزائل تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ نے جمعرات کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کرنے کا حکم واپس لینے کے بعد ایرانی ہتھیاروں کے نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ اس سائبر حملے کی مدد سے اُن کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کیا گیا جن سے راکٹ اور میزائل لانچر کنٹرول کیے جاتے ہیں۔

آزاد ذرائع سے اس کمپیوٹر نظام کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ سائبر حملہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے اور خلیجِ عمان میں تیل کے ٹینکرز پر حملے کے ردِعمل میں کیا گیا۔

امریکہ کے مطابق آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیچھے ایران ہے، مگر ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے یروشلم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی تفصیلات ممکنہ طور پر پیر تک سامنے آ جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کو مشرق وسطی میں شکار کرنے کا لائسنس‘ کسی نے نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

کیا چین ایران کو اقتصادی بحران سے نکال سکتا ہے؟

امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر کتنی بھاری پڑ رہی ہیں؟

انڈیا ایران کا ساتھ دے یا امریکہ کا؟

سائبر حملے سے کیا ہوا؟

امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے مبینہ سائبر حملے کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے کی جارہی تھی۔

ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ خلیجِ عمان میں تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے بارودی سرنگوں کے حملے کا جواب اِس طریقے سے دیا جاسکتا ہے۔

اس کا مقصد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ہتھیاروں کو کمزور کرنا تھا۔ ایران نے ان ہی ہتھیاروں کی مدد سے امریکی ڈرون گرایا تھا اور امریکہ کے مطابق تیل کے ٹیکرز پر حملہ بھی ان سے کیا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سائبر حملے سے یہ سسٹمز بند ہو گئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق حملے کا مقصد سسٹمز کو کچھ دیر کے لیے آف لائن کرنا تھا۔ 

امریکہ کے ادارہ برائے داخلی سلامتی نے ہفتے کو کہا تھا کہ ایران خود امریکہ پر سائبر حملے کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کا ایران پر بڑی پابندیاں لگانے کا اعلان

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے اس پر مزید پابندیاں عائد کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک تہران میں موجود مقامی قیادت اپنا ارادہ تبدیل نہیں کرتی ان پر اقتصادی دباؤ قائم رکھا جائے گا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں، بعض معاملات میں ہم تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایران کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی جوہری پروگرام پر عائد حد عبور کر لے گا۔

سنہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد ایران کے افزودہ کیے گئے یورینیئم کی ایک حد مقرر کی گئی تھی۔ جس کے بدلے میں کچھ پابندیاں ختم کی گئی تھی اور ایران تیل کی برآمد کر سکتا تھا جو ایرانی حکومت کا بڑا ذریعہ آمدن ہے۔

لیکن امریکہ نے یہ معاہدہ گذشتہ برس ختم کر دیا اور پابندیاں پھر سے عائد کر دیں۔ اس کی وجہ سے ایران میں معاشی بحران ائا اور اس کی کرنسی ریکارڈ حد تک گر گئی اور وہاں سے غیر ملکی سرمایہ کار بھی دور ہوئے۔

ایران نے بھی جوہری معاہدے کے تحت کیے وعدوں سے ہٹنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

'اگر جنگ چھڑی تو ایران کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا'

ایران پر مزید امریکی دباؤ، پاسدارانِ انقلاب نشانے پر

ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران کا میزائل تجربہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’اگر ایران ایک مستحکم قوم بننا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر وہ ایسا سوچتے ہیں کہ پانچ سے چھ برس میں وہ جوہری بم بنائیں گے تو ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے۔ ‘

اس کے بعد ایک ٹویٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف مزید بڑی پابندیاں پیر سے قابلِ عمل ہوں گی۔

امریکی پابندیاں ایران کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟

امریکی کی جانب سے گذشتہ برس پابندیاں بحال کی گئی ان میں توانائی، شپنگ اور اقتصادی سیکٹر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور تیل کی برآمد کو نشانہ بنایا گیا۔

ان پابندیوں کے تحت نہ صرف امریکی کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتی تھیں بلکہ دیگر ممالک اور غیر ملکی کمپنیاں بھی ایسا نہیں کر سکتیں۔

اس سے ایران میں ان درآمد شدہ اشیا کی کمی ہوگئی جو غیر ملکی خام مال سے بنائی جاتی تھیں، ان سے سب سے اہم بچوں کی نیپیز تھیں۔

ایران نے بھی اقتصادی دباؤ کا جواب جوہری معاہدے کے تحت کیے جانے والے وعدوں سے منحرف ہو کر دیا۔ اس نے یورپی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کی معشیت کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے اپنے وعدوں پر قائم رہنے میں نکام ہے ۔

اسی بارے میں