امریکہ ایران کشیدگی: ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران کے رہبر اعلیٰ کا دفتر بھی نئی امریکی پابندیوں کا ہدف ہوگا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن کا اطلاق ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے دفتر پر بھی ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ڈرون گرائے جانے کے علاوہ 'دیگر وجوہات' بھی ہیں جن کے باعث یہ اضافی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر دباؤ جاری رکھیں گے اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

ان اضافی پابندیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

مزید پڑھیے

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

متعدد ایئر لائنز کا ایرانی فضائی حدود سے گریز

'ہم کسی خطرے سے نمٹنے میں پس و پیش نہیں کریں گے'

امریکہ کے ایران پر حملے کا پاکستان کے لیے کیا مطلب ہو گا؟

حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومیو نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ملاقات میں دونوں دوست ممالک کے سٹریٹیجک تعلقات پر بات چیت ہوئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

ملاقات کے دوران سعودی عرب میں امریکہ کے سفیر، سعودی وزیرِ خارجہ اور دیگر سرکاری اہلکار بھی موجود تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے سنہ 2015 کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

20 جون کو ایران نے امریکہ کا بغیر پائلٹ کا فوجی ڈرون مار گرایا تھا۔ جس کے بعد دونوں ممالک نے تسلیم تو کیا کہ ڈرون مار گرایا گیا ہے لیکن یہ کہاں ہوا اس پر دونوں متفق نہیں تھے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ ایک بغیر پائلٹ کا طیارہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہوا جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ اس کے طیارے کو بین الاقوامی فضائی حدود میں گرایا گیا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکی فوج ایران کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے تیار تھی تاہم انھوں نے صرف دس منٹ پہلے اپنا ارادہ بدل دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشیدگی میں اضافہ خلیجِ عمان میں تیل کے ٹینکروں پر حملوں کے بعد دیکھنے میں آیا

امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے جمعے کو بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن وہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دے گا۔

ایران اور امریکہ: ایک پرانی لڑائی

دونوں ممالک کے درمیان ایک عرصے سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں خطے میں تیل کے ٹینکروں پر حملے کا الزام ایران پر عائد کیا ہے جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے جوہری پروگرام کی حد میں اضافہ کرے گا۔

امریکہ نے ایران کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس پیر کو طلب کیا ہے۔

امریکہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ نے جمعرات کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کرنے کا حکم واپس لینے کے بعد ایرانی ہتھیاروں کے نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھیے

خلیجِ عُمان میں ٹینکرز پر ’حملے کا ذمہ دار ایران‘

ایران نے بارودی سرنگیں استعمال کیں: امریکی الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ کی فوجی دھمکی کے بعد واشنگٹن میں جنگ مخالف مظاہرہ کیا جا رہا ہے

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہے کہ اس سائبر حملے کی مدد سے اُن کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کیا گیا جن سے راکٹ اور میزائل لانچر کنٹرول کیے جاتے ہیں۔

آزاد ذرائع سے اس کمپیوٹر نظام کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ سائبر حملہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے اور خلیجِ عمان میں تیل کے ٹینکرز پر حملے کے ردِعمل میں کیا گیا۔

امریکہ کے مطابق آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیچھے ایران ہے، مگر ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے یروشلم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی تفصیلات ممکنہ طور پر پیر تک سامنے آ جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایران کو مشرق وسطی میں شکار کرنے کا لائسنس' کسی نے نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ U.S. Navy
Image caption امریکہ نے اپنے بحری بیڑے خلیج کی طرف بھیج دیے ہیں

امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے مبینہ سائبر حملے کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے کی جارہی تھی۔

ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ خلیجِ عمان میں تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے بارودی سرنگوں کے حملے کا جواب اِس طریقے سے دیا جا سکتا ہے۔

سنہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد ایران کے افزودہ کیے گئے یورینیئم کی ایک حد مقرر کی گئی تھی۔ جس کے بدلے میں کچھ پابندیاں ختم کی گئی تھیں اور ایران تیل کی برآمد کر سکتا تھا جو ایرانی حکومت کا بڑا ذریعہ آمدن ہے۔

لیکن امریکہ نے یہ معاہدہ گذشتہ برس ختم کر دیا اور پابندیاں پھر سے عائد کر دیں۔ اس کی وجہ سے ایران میں معاشی بحران آیا، اس کی کرنسی ریکارڈ حد تک گر گئی اور وہاں سے غیر ملکی سرمایہ کار بھی دور ہوئے۔

ایران نے بھی جوہری معاہدے کے تحت کیے وعدوں سے ہٹنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں