یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جون میں ریکارڈ درجہ حرارت

فرانس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیاح ہوں یا مقامی افراد سب ہی گرمی کے ستائے ہوئے ہیں۔ فرانس میں ایسا ہی ایک سیاح جوڑا ایفل ٹاور کے سامنے واقع فوارے میں بوس و کنار کرتے ہوئے

یورپ میں درجہ حرارت بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا اور یورپی باشندے گرمی کی اس تازہ لہر سے بچاؤ کے طریقے ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ فرانس، جرمنی، سوئزرلینڈ اور بیلجئیم میں جون کے ماہ میں گرمی کے نئے ریکارڈ بنیں گے اور ان کے مطابق آئندہ دنوں میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا۔

جمعرات کے روز فرانس اور سوئزرلینڈ سمیت کچھ ممالک میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے۔

سہارا کے ریگستانوں سے آنے والی گرمی کی شدید لہر کے باعث فرانس میں بچوں کے امتحانات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

سپین کے شمال مشرقی حصوں میں جمعے کے روز درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی تک پہنچ سکتا ہے۔ ہسپانوی حکام نے کچھ علاقوں کے جنگلات میں آگ کے ’بڑے خطرے‘ کے بارے میں خبرادر کیا ہے۔

سپین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین میں ایک شخص خود کو گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی ٹوپی کو ٹھنڈا کر رہا ہے
سپین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین میں گرمی کے ستائے افراد عوامی مقامات پر لگے فواروں سے پانی پی رہے ہیں
روم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روم میں گرمی کی حدت سے بچنے کا مشہور طریقہ چھتری کا استعمال ہے
سوئٹزرلینڈ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گرمی سے بچاؤ کے لیے سوئزرلینڈ میں بچوں کو جنیوا جھیل کا ٹھنڈا پانی میسر ہے
ڈنمارک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈنمارک میں بھی پانی گرمی سے بچاؤ کا آزمودہ نسخہ ہے
سپین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین میں نوجوان گرمی سے بچنے کے لیے ساحل سمندر پر نہا رہے ہیں
جرمنی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمنی کے شہر برلن میں چڑیا گھر میں ایک ہاتھی کو نہلایا جا رہا ہے
آسٹریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسٹریا کے دریائے ویینا میں سیاح اپنے ہمراہ گملے میں لگا پودا بھی ساتھ لے کر آئے ہیں

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اسی بارے میں