امریکہ ایران کشیدگی: کیا صدر ٹرمپ مشرق وسطی میں ایک اور جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حوالے سے کچھ سجھائی نہیں دے رہا

ایران کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حوالے سے کچھ سجھائی نہیں دے رہا؟

ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا معیاری ضابطہ کار کیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیموکریٹک سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ کا کہنا تھا کہ ’یہ (ضابطہ کار) ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘

حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے کانگریس کے رہنماؤں سے رجوع کیا تھا کہ آیا وہ ایران کے خلاف کوئی جوابی عسکری کارروائی کریں یا نہیں۔

ریپبلکن رکنِ کانگرس مائیکل میک کال نے، جو وہاں موجود تھے، مجھے بتایا کہ سیاسی حلیفوں اور حریفوں نے صدر ٹرمپ کو اس بارے میں اپنی اپنی آرا سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

'اگر جنگ چھڑی تو ایران کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا'

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی پابندیاں

’ایران سے جنگ ہو گی یا نہیں سب ٹرمپ کے دماغ میں ہے‘

مائیکل میک کال نے ایران کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ایران پر حملہ نہ کرنے کی حکمت عملی کو ’متفقہ‘ قرار دیا۔

اس انتہائی اہم دن ہونے والے غور و فکر کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی جرنیلوں اور اپنے قومی سلامتی کی مشیران کو بھی سنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران پر حملے کے فیصلے کو مسترد کرنے سے قبل ٹرمپ نے امریکی فوجی جرنیلوں اور اپنے قومی سلامتی کی مشیران کو بھی سنا

اور نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس روز فوکس نیوز میں اپنے ایک پسندیدہ ٹی وی میزبان کو بھی سنا۔

میزبان ٹیکر کارلسن نے قرار دیا کہ اگر صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرتے ہیں تو وہ سنہ 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن میں اپنے دوبارہ منتخب ہونے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

کیا یہ وہ آخری مشورہ تھا جس نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے کو آخری وقت میں بدل دیا؟

کون جانتا ہے!

صدر ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکت پر اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا۔ امریکی فوجی سربراہ جوزف ڈنفورڈ کی باتوں کا بھی ان پر گہرا اثر ہوا جنھوں نے ٹرمپ کو اس حوالے سے متنبہ کیا۔

تاہم کسی بھی قومی سلامتی کے بحران میں یہ وہ واحد بحران تھا جس نے صدر ٹرمپ کی اس خواہش کے وہ معاملات سے نمٹنے میں سخت گیر نظر آئیں اور دوسری جانب ایک جنگ میں ملوث ہونے میں ان کی ہچکچاہٹ کی قلعی کھول دی۔

آخر کار انھوں نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگ نہیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وائٹ ہاؤس کے سامنے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کے حق میں ریلی ہوئی

اگرچہ وہ اپنے جنگ نہ کرنے کے فیصلے کی خوشی منا رہے ہیں مگر دوسری طرف وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ وہ ایران کی جانب سے امریکہ کو درپیش خطرات کی نفی بھی کر رہے ہیں مگر وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران نے حملے کیے تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

قصہ مختصر ان کی باتوں میں یکسانیت نہیں ہے۔

تاہم ایران پر صدر ٹرمپ کی پالیسی کا ایک اہم پہلو اور بھی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا اس حوالے سے کچھ اور ہی ایجنڈا ہے۔

صدر ٹرمپ عموماً یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ کتنا کمزور تھا اور یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اس ڈیل کو ختم کیا۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ اس متروکہ ڈیل کے بدلے میں سابق صدر اوباما نے ایران کو بہت کچھ دیا۔

دوسری جانب وہ گاہے بگاہے اس بات کا اعلان بھی کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک بڑی اور بہتر ڈیل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے ایک ثالث کے ذریعے ایراینوں کو یہ پیغام بھی بھیجا کہ مجھ سے رابطہ کیجیے اور یہاں تک کہ اپنا ٹیلی فون نمبر بھی دیا۔

یہ وہ لہجہ نہیں ہے جو محکمۂ خارجہ میں رائج ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مائیک پومپیو ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ قائم رکھنے کی سپورٹ کرتے ہیں

مائیک پومپیو بھی ایران کے ساتھ گفت و شنید کی بات کرتے ہیں مگر عموماً وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ قائم رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ ایران پر ایسی معاشی پابندیوں کے حق میں ہیں جن کے باعث ایرانی معیشت تباہ حال ہے۔

گذشتہ انتظامیہ کے دور میں یہ روزمرہ کی بات تھی کہ ہماری رپورٹنگ کا محور وہ خبریں تھیں جو ایران اور امریکہ کی پیچیدہ نیوکلیئر ڈیل کے بارے میں تھیں۔ پہلے پہل یہ بڑی خبر تھی کہ سابقہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے مل رہے ہیں مگر بعد ازاں یہ ایک عام سی بات ہو گئی۔

مائیک پومپیو اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پابندیاں اس وقت تک نہیں ختم کی جائیں گی جب تک ایران امریکہ کے 12 مطالبات مان نہیں لیتا اور ان مطالبات میں سرِفہرست پرانے جوہری معاہدے پر از سرِ نو بات چیت بھی ہے جبکہ دوسرے مطالبات میں میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور علاقائی مسلح گروہوں پر اپنا اثر و رسوخ ختم کرنا ہے۔

مائیک پومپیو ایران کو اپنا رویہ بدلنے کا بھی کہتے ہیں اور یہ بھی کہ ایران کو ایک 'عام ملک' کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی جنرل جوزف ڈن فورڈ نے بھی ٹرمپ کو ایران پر حملے کرنے کے حوالے سے متبنہ کیا تھا

جبکہ دوسری طرف وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایران اپنا رویہ ویسا نہیں کرے گا جس کا امریکہ متقاضی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ایران میں اعتدال پسند قیادت نہیں ہے اور اس بات کو رد کیا تھا کہ ایران میں سخت گیر اور عملیت پسند کے درمیان تفریق ہے۔

جواد ظریف کو، جنھیں عملیت پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اب امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے اور یہ بہت ہی غیر معمولی اقدام ہو گا جو صرف کشیدگی کو ہوا دے گا نہ کہ سفارتی سطح پر حالات کی بہتری ہو گی۔

امریکہ کے اتحادی اور اس کے قانون ساز اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کا رویہ علاقائی سالمیت کے لیے خطرناک اور انتشار انگیز ہے تاہم مبصرین کہتے ہیں کہ یہ 12 مطالبات ایران کو اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کریں گے، بالخصوص ان معاملات پر جن سے امریکی قومی سلامتی کو خطرات ہیں۔

اور ایسا بالکل نہیں ہونے جا رہا۔

ایران پر مائیک پومپیو کے ایلچی برائن ہوک نے گذشتہ ہفتے ایک کانگرس کی کمیٹی کو مطلع کیا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ ایران کو اس سرمائے سے دور کیا جائے جس سے وہ خارجہ پالیسی کو بڑھاوا دیتا ہے۔

مگر اس کہانی کا اختتام کیا ہے؟ ایران کے ساتھ ایک نئی امریکی نیوکلئیر ڈیل؟ یا خطے کی کایا پلٹنا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایرانی وزیر خارجہ بھی اب امریکی پابندیوں کی زد میں ہوں گے

اور یہ ڈیموکریٹک قانون سازوں کے لیے بالخصوص اور باقیوں کے لیے بالعموم ایک انتہائی اہم سوال ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر باب مینینڈز سینیٹ میں خارجہ امور سے ڈیل کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ 'انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ (ایران پر) زیادہ سے زیادہ دباؤ رکھا جائے۔ امریکہ کا ایسا کوئی سٹریٹیجک پلان نہیں جس سے ایران کو بات چیت کی میز پر لایا جا سکے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ دباؤ بڑھاتے ہیں اور نکاس کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تو یہ پھٹ پڑتا ہے۔'

اور اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ صدر ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ہی معاملات کو ایک نئی جنگ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران میں ٹرمپ مخالف مظاہرہ
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران میں ٹرمپ مخالف مظاہرہ

برائن ہک کی اس بات پر کافی لے دے بھی ہوئی تھی۔

'آئین کے تحت کانگرس جنگ کا اعلان کرنے کی مجاز ہے، جی ہاں؟' یہ وہ سوال تھا جو ڈیموکریٹک ٹیڈ لیو نے بارہا پوچھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ کوئی پیچیدہ سوال نہیں ہے!'

برائن ہوک اور مائیک پومپیو نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایران کے مسئلے کو لے کر امریکہ میں کافی سیاسی بحث و مباحثہ ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے مخالفین کو پریشان رکھنا پسند کرتے ہیں تاہم وہ اپنا رویہ اس وقت بدلتے بھی ہیں جب انھیں کچھ بہتر کی امید نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ اپنے مخالفین کو پریشان رکھنا پسند کرتے ہیں

آپ کو یاد ہے نہ شمالی کوریا کے ساتھ ان کے کیا معاملات ہوئے تھے تاہم ایران کے خلاف ان کی مخالفت بہت سخت ہے۔

موجودہ انتظامیہ خارجہ پالیسی میں بہت آگے نکل آئی ہے اور بہت سے وہ افسران جنھیں دنیا کی سمجھ بوجھ تھی وہ جا چکے ہیں۔

واشنگٹن میں کئی لوگوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ ایک ایسا شخص جسے اکثر حادثاتی صدر کہا جاتا ہے وہ مشرق وسطی میں ایک اور جنگ میں حادثاتی طور پر نہ کود پڑے۔

اسی بارے میں