ایران نے کہا ہے کہ ویانا ملاقات جوہری معاہدہ بچانے کا آخری موقع ہے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption معاہدے کے مطابق ایران تین اعشاریہ چھ فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کر سکتا (فائل فوٹو)

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ویانا میں ہونے والا ’جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن‘ (جے سی پی او اے) کا اجلاس سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کو بچانے کا آخری موقع ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے خاص طور پر جوہری معاہدے کے یورپی ممبران جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے خصوصی مالیاتی نظام کو متحرک کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسے اپنی موجودہ ’رسمی شکل‘ میں قبول نہیں کرتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد تہران نے اعلان کیا کہ وہ معاہدے کے کچھ اہم نکات سے دستبردار ہو رہا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ تہران افزودہ یورینیئم کے ذخائر ملک میں رکھے گا، تاہم ان کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا انجام کیا؟

’ایران پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے‘

جواد ظریف: ’نسل کشی کے طعنوں‘ سے ایران ختم نہیں ہوگا

کیا واقعی ایک کروڑ دس لاکھ ایرانی متاثر ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے خلیجِ عُمان میں تیل کے دو ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے تاہم ایران نے اس کی تردید کی ہے

تین یورپی ممالک نے تجارتی ایکسچینجز کی معاونت کا نظام ’انسٹیکس‘ جنوری میں متعارف کروایا تھا جس کا مقصد ایران کے ساتھ تجارت کو آسان بنانا تھا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانی والی پابندیوں کے بعد ’جے سی پی او اے‘ نے گذشتہ سال مئی میں اس فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔

یورپی یونین کے نمائندہ برائے خارجہ امور فیڈریکا موغرینی نے 26 جون کو اپنے بیان میں انسٹیکس کو جلد فعال کرنے کی توقع ظاہر کی تھی۔

ایران نے جوہری معاہدے کے حوالے سے عائد پابندیوں کو کم کرنے کے لیے سات جولائی کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

کچھ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے توقع ہے کہ وہ جمعے کو آسٹریا کے دارالحکومت میں شروع ہونے والے جے سی پی او اے کے جوائنٹ کمشن میں ایک ملٹی ملین کریڈٹ لائن بنائیں گے تا کہ انسٹیکس کو شروع کیا جائے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے خبردار کیا کہ اگر جے سی پی او اے پر دستخط کرنے والے خاص طور پر یورپی ممالک، غیر فعال رہتے ہیں تو ایران حتمی طور پر اپنا دوسرا قدم اٹھائے گا۔

انھوں نے ایرانی حکام کی اس دھمکی کا حوالہ بھی دیا کہ اگر اس کے معاشی مفادات کا تحفظ نہیں کیا جائے گا تو ایران جے سی پی او اے سے منسلک اپنی ذمہ داریاں مزید ادا نہیں کرے گا ۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو سکتا ہے اور اس کا انحصار دوسری جانب کے اقدامات پر ہے۔

گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن کا اطلاق ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے دفتر پر بھی ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ڈرون گرائے جانے کے علاوہ 'دیگر وجوہات' بھی ہیں جن کے باعث یہ اضافی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

اسی بارے میں