جی 20 سربراہی اجلاس: ٹرمپ اور شی جن پنگ کا تجارتی مذاکرات کی بحالی پر اتفاق

Trump and Xi at G20 in Osaka تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 300 بلین ڈالر اضافی ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی تھی

امریکہ اور چین نے تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے جسے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعے اور عالمی معاشی بحران میں بہتری کے لیے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ نے جاپان میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر اس معاہدے پر اتفاق کیا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو ہوائی کے ساتھ کام کرنے اجازت دینے کا بھی اعلان کیا ہے جو کہ ایک اہم مراعت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ٹرمپ نے چین کے خلاف مزید تجارتی پابندیوں کی دھمکی دی تھی تاہم اوساکا میں جی 20 سربراہ کانفرنس کے دوران چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے اس بار کی تصدیق کی ہے کہ وہ 300 ارب سے زیادہ کی مالیت کی چینی درآمدات پر اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال وہ بیجنگ کے ساتھ بات بھی کرتے رہیں گے۔

واضح رہے اس سے قبل امریکی صدر نے چینی درآمدات پر 300 بلین ڈالر اضافی ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

دنیا کی دو بڑی طاقتیں امریکہ اور چین گذشتہ سال سے ایک نقصان دہ تجارتی جنگ لڑ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تجارتی جنگ پر چین کی امریکہ کو سخت تنبیہ

امریکہ، چین کی شدت اختیار کرتی تجارتی جنگ

’اگر تجارتی جنگ کی گئی تو چین خاموش نہیں بیٹھے گا‘

صدر ٹرمپ نے چین پر اینٹولیکچوئل پراپرٹی چرانے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ چین میں کاروبار کرنے کے لیے امریکی کمپنیوں کو تجارتی راز افشا کرنے پڑتے ہیں۔

جس کے ردِ عمل میں چین نے کاروباری اصلاحات کے لیے امریکی مطالبات کو غیر معقول قرار دیا تھا۔

مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربراہی اجلاس سے قبل اس تنازعے نے شدت اختیار کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے چینی درآمدات پر نئی ڈیوٹی نہ لگانے پر اتفاق کیا ہے

چینی صدر شی کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات بحال ہو گئے ہیں۔

رپورٹروں سے بات کرتے ہویے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’صدر شی کے ساتھ ہماری اچھی ملاقات رہی، بلکہ میں کہوں گا شاندار رہی۔۔ اتنی ہی اچھی جتنا اسے ہونا چاہیے تھا۔ ہم نے بہت سے امور ہر تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات بحال ہو گئے ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘

Image caption امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے امریکہ میں زراعت کی صنعت متاثر ہوئی ہے جس میں شراب سرفہرست ہے

چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے چینی درآمدات پر نئی ڈیوٹی نہ لگانے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں فریقین کی جانب سے مذاکرات کار اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے لیکن اس کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنوا نے صدر شی کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’چین اور امریکہ کے مفادات جڑے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان تعاون وسیع تر ہے۔ انھیں تنازعات اور جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں